جعلی فون کالز پر ذاتی معلومات نہ دیں، اسٹیٹ بینک کی عوام کو یاددہانی
29 جولائی 2019 (21:33) 2019-07-29

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ دھوکہ باز افراد بایومیٹرک تصدیق کے بہانے بینک صارفین سے ان کے بینک اکاوو¿نٹ کی تفصیلات حاصل کر کے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ بہت سے واقعات میں یہ کام جعلی فون کالز کے ذریعے کیا جا رہا ہے جس کے لیے یہ دھوکے باز افراد اپنا فون نمبر بینکوں کی باضابطہ ہیلپ لائن یا رجسٹرڈ نمبروں کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ فون کال وصول کرنے والے افراد سمجھتے ہیں کہ یہ کال حقیقی ہے یا اُن کے بینک کی طرف سے ہے چنانچہ وہ اپنی ذاتی معلومات بشمول بینک اکاونٹ نمبر، آئی ڈی، پاس ورڈ، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر وغیرہ بتا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں، حتیٰ کہ کال کے دوران رقوم کا نقصان پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ دھوکے باز افراد خود کو عام طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افسر، فوجی افسر، یا اعلیٰ عدلیہ وغیرہ کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں، اور اکاونٹس کی بایو میٹرک تصدیق کا بہانہ بناتے ہیں۔

اس تناظر میں عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والی کالز پر اہم ذاتی معلومات بتانے کے بجائے اپنے بینک کے رجسٹرڈ نمبروں/ ہیلپ لائن پر فوراً خود رابطہ کریں۔مرکزی بینک نے مطلع کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک / بینک / مائکرو فنانس بینک ٹیلی فون کالز کر کے بینکوں کے موجودہ صارفین کی بایو میٹرک تصدیق ہرگز نہیں کرتے۔ اگر عوام کو ایسی کوئی کال موصول ہو تو وہ ان واقعات کی تفصیلات قانون نافذ کرنے والے اداروں یا اسٹیٹ بینک کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔


ای پیپر