پاک سرزمین پارٹی نئے کردار کی تلاش میں
29 جولائی 2019 2019-07-29

اپوزیشن جماعتیں اپنی سرگرمیوں سے ملک کے چاروں صوبوں میں سرگرمیاں دکھا چکی ہیں۔ بلوچستان میں اگر کسی شک و شبہ کی گنجائش تھی تو اسے دور کرنے کے لئے مریم نواز خود وہیں احتجاج پر وہاں پہنچ گئیں ۔ سندھ میں بلاول بھٹونے سکھر میں احتجاج کا مظاہرہ کرنے کے بعدیوم احتجاج پر صوبائی دارالحکومت کراچی میں جلسہ کیا، لیکن پیپلزپارٹی اپنے تئیں تمام تر کوششوں کی باوجودتاحال کراچی کی اردو بولنے والی آبادی کو اپنے طرف نہیں کھینچ پائی ہے۔ کراچی بڑا کاروباری اور صنعتی اور بندرگاہ کے شہر کی وجہ سے حکومت وقت کے خلاف تحریک چلانے یا رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ دور حکومت میں ایم کیو ایم کی دھڑے بندی اور اس کے ایک دھڑے کی وفاقی حکومت میں موجودگی کی وجہ سے کراچی میں حکومت مخالف آواز نہیں اٹھ رہی تھی۔ جماعت اسلامی نے ایک حد تک اس میٹروپولیٹن شہر میں واپس آنے کی کوشش کی ، لیکن اس کے لئے اول تو گنجائش کم تھی، سوئم یہ کہ خود جماعت اسلامی متحدہ اپوزیشن کا حصہ نہیں ہے۔

ایسے میں کوئی تین سال قبل ایم کیو ایم کے منحرف گروپ جس نے پاک سرزمین پارٹی کے نام سابق میئرکراچی مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں نئی پارٹی بنائی ہوئی تھی نے کراچی میں موجود اس خلاء کو محسوس کیا۔ پاک سرزمین کو بھی مقتدرہ حلقوں کی آشیرواد سے بننے والی پارٹی سمجھا جاتا رہا ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ نظر آرہا تھا کہ پاک سرزمین پارٹی اپنا کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔ مصطفی کمال کو اس پر بھی ناراضگی ہے کہ گزشتہ سال کے انتخابات میں مقتدرہ حلقوں نے ان کی پارٹی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ دھڑے بندی کے بعد خود کو ایم کیو ایم کا تمبادل سمجھنے والی جماعت اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔ ان انتخابات میں جب سیٹوں کا بٹوارا رہا تھا ، ایم کیو ایم کے ہاتھوں سے نکلنے والی نشستیں تحریک انصاف کے کھاتے میں چلی گئیں۔ بعد میں پی ایس پی یہ کہتی رہی کہ ان سے جو شرائط طے ہوئی تھیں نتائج اس کے مطابق نہیں۔ انتخابات سے قبل یہ کوشش کی گئی کہ اردو بولنے والوں کا ووٹ بینک نہ ٹوٹے۔اس مقصد کے لئے پی ایس پی نے فاروق ستار سے اتحاد بھی کیا، لیکن یہ اتحاد کوئی زیادہ نتائج نہ دے سکا۔

تحریک انصاف کے پاس کراچی اور ایم کیو ایم کی تین باتوں کی وجہ اہمیت تھی۔ اول یہ کہ وفاقی حکومت میں عددی کمی پورا کررہی تھی۔دوئم یہ کہ کراچی میں ناجائزتجاوزات ہٹانے سے لیکر بجٹ، مہنگائی یا دیگر معاشی یا دیگر وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے متعلق کراچی میںکوئی بڑا احتجاج نہ ہو۔ تیسرا یہ کہ جب وفاقی حکومت سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے ساتھ کھیلنا چاہے تو وہ اس کا ساتھ دے۔ ایم کیو ایم کا خیال تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے گرفتارکارکنان کی رہائی، یا ان کے خلاف مزید کارروایوں سے متعلق کچھ ریلیف حاصل کر لے گی۔ مزید یہ کہ کچھ ترقیاتی فنڈ اور منصوبے بھی حاصل کر لے گی۔ ایم کیو ایم کو وفاق میں دو وزارتیں تو دی گئی لیکن باقی معاملات میں زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ بادی النظر میں کراچی کے لوگوں کے لئے ایم کیو ایم کی وفاقی حکومت میں شرکت سے کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایس پی اس بیانیہ کے ساتھ میدان میں آئی ہے کہ ’تمام پارٹیوں کو آزمایا جا چکا ہے، وہ کراچی کے لوگوں کو کچھ نہیں دے سکی ہیں۔‘ اس فہرست میں وہ تحریک انصاف کو بھی شامل سمجھتے ہیں۔ پی ایس پی کہتی ہے کہ اب تمام لوگ اس جامعت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اٹھارویں ترمیم کے خلاف کھلا موقف رکھ چکے ہیں۔ اور گاہے بگاہے یہ بیانات کے ذریعے حکومت سندھ کے خلاف بیانات دے کر ایم کیو ایم کے ووٹروں اور لیڈروں کو ٹھنڈک پہنچاتے رہے ہیں۔ مصطفی کمال ایم کیو ایم کی طرح سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرتے۔ اور بڑی حد تک اٹھارویں ترمیم کے بھی حق میں کھڑے ہوتے ہیں۔ان کی یہ فرمائش ہے کہ اختیارات صوبے کے بعد مزید نچلی سطح پر بھی دیئے جائیں۔ اس جلسے میں انہوں نے کراچی میں صفائی اور بیروزگاری کا ذکر کیا اور ایک حد تک حکومت سندھ پر بھی تنقید کی ۔حال ہی میں باغ جناح میں اپنی پارٹی کے جلسے میں کہہ چکے ہیں کہ اس ترمیم کے اندر مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے ان کا سیاسی موقف اپوزیشن کی جماعتوں خاص طور پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اپوزیشن حکومت کے خلاف مہم کا آغاز کرچکی تو انہوں نے اپوزیشن کے یوم احتجاج سے پہلے کراچی کے باغ جناح میں جلسہ کرکے پاور شو کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر انہوںنے دو اور باتوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔کہا کہ بلوچستان اور سندھ محروم ہو رہے ہیں۔ بلوچستان پر بات کرنے کا مطلب مقتدرہ حلقوں کا حوالہ دینے کے مترادف ہے۔

پاک سرزمین پارٹی نے اپنی حالیہ سرگرمیوں کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ کراچی اس پارٹی کے ذریعے حکومت مخالف تحریک یا کیمپ میں جاسکتا ہے۔ کاروباری حلقے یا دیگر لوگ جو حکومت کی حالیہ پالیسیوں سے نالاں ہیں وہ اپنا اظہار اس جماعت میں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ مختلف واقعات و راوابط سے لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کے مقابلے میںپی ایس پی حکومت سندھ کے پاس بھی قابل قبول ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ’سب لوگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں‘۔یعنی ایم کیو ایم کی صفوں سے ہٹ کر باہر کے لوگوں کے لئے بھی یہ پارٹی اپنا رول ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سڑکوں پر آنے کی ’دھمکی‘ دی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آئندہ سیٹ اپ میں پی ایس پی اپنے لئے کوئی کردار تلاش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں وہ چاہے گی کہ ان انتخابات میں ان کے ساتھ’ بہتر سلوک ‘کیا جائے۔ماضی میں کراچی سے متعلق مقتدرہ حلقوں کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ کیس گروپ کو ایک سطح کی الیکشن میں نظرانداز کیا گیا تھا تو دوسری سطح کے الیکشن میں اس کے ساتھ ’بہتر سلوک‘ کیا جاتا رہا ہے۔ پی ایس پی اپنے لئے کسی کردار کا تعین چاہتی ہے۔


ای پیپر