تبدیلی سرکار اور مسائل کی دلدل
29 جولائی 2019 2019-07-29

امریکہ کے کامیاب دورہ کی دھوم ابھی تک امریکہ میں توہے اور ہونی بھی چاہیے۔یہ سارا منظر نامہ جس نے پہلی باردیکھا ہو اس کی خوشی کی انتہا درست ہے۔امریکہ کے صد ر سے ملنا ہی خوشی کی بات ہے۔ملاقات بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے۔ملاقات بھی ایسی جس میں ٹرمپ کا پاکستان کے وزیر اعظم کو بڑا لیڈر قرار دینا بڑی بات ہے۔ کپتان کا اورسیزپاکستانیوں سے خطاب ، ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے ساتھ سوال جواب کی نشست جس میں پرچیوں کا تبادلہ بھی ہوا، فوکس ٹی وی کو انٹرویو دینا جس میں ایسی باتیں کہہ جانا جو نہ مناسب بھی تھا۔ بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں اورپاکستان میں سرمایا کاری کرنے کی درخواستیں اگر دورے کی کامیابی کی دلیلیں ہیں۔ نتیجے میں پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر بحال ہوئے ہیں،خارجہ محاز پر یہ دیکھ لینا چاہیے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے اورمذاکرات کی دھمکیا ں بھی ایک ساتھ دے رہا ہے۔ امریکہ کو علم ہے ہماری حکومت تو امریکہ کے سامنے کشکول پھیلانے میں شہرت رکھتی ہے ۔ نے ایف 16کی دیکھ بھال کے لیے پاکستان کی امداد پاک امریکہ تعلقات کی دلیل ہے تو اس دلیل کے مطابق کپتان کا دورہ کامیاب ہے۔خود کپتان کی نظر میں یہ دورہ تو اس قدر کامیاب تھا کہ کپتان کو یہ لگا کہ وہ واپس پاکستان میں و رلڈ کپ جیت کر آئے ہیں۔پاکستان آتے ہی کابینہ کے اجلاس میں اس دورے کی کامیابی کے جو قصدے بیان کئے ایک وزیر تو تقریبا جھوم ہی اٹھے واہ کیا بات ہے ہمارے بے مثال لیڈر بھی ہیں۔ ۔ ایف 16 کی مد میں پاکستان کو جو رقم ملی ہے بھارت کو بھی صدر ٹرمپ نے اسی مد میں تین گنا امداد دی ہے ۔بھارت تو امریکہ کا سٹیٹجک پارٹنر ہے۔ افغانستان سے نکلنے کے لیے بھارت نے کپتان سے جو امیدیں وابستہ کی ہیں وہ پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔نہ تو پاکستان نوے کی دھا ئی والا ہے۔ امریکہ تو اوبامہ کے دور سے افغانستان سے نکلنے کا ارادہ کرچکا تھا اور اوبامہ نے ٹائم فریم بھی دے دیا تھا۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے اسامہ پر امریکہ کے حملے کے بعد پاکستان شدید دباو میں آیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ہوا اس وقت جنرل پاشا سب زیادہ دباو میں آئے۔ مگراب کپتان نے اپنے دورہ میں پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی پر ایک الزام بھی لگا دیا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع ہمارے اس ادارے آئی ایس آئی نے دی۔ امریکہ نے پاکستان کی مدد سے سویت یونین کو شکست دینے کے بعد پاکستان کو مشکل میں چھوڑ کر خاموشی سے پتلی گلی سے نکل گیا۔مگر ایک بار پھر 1992کی طرح ا فغانستان سے جانا چاہتا ہے۔ یقینا کپتان کے اس دورے میں ہمارے سپہ سالار بھی تھے۔وہ بھی اس سارے معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ابھی تو اصل کام شروع ہی نہیں ابھی تو تحفظات کی بات ہو رہی ہے طالبان اورافغان حکومت ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر رہے اس بے اعتباری کے موسم میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایسی بات کہہ دی کہ طالبان سے برائے راست مذاکرات کے لیے وزیر اعظم نے افغان صدر اشرف غنی کے تحفظات دور کردئے ہیں اس سے بڑی خبر تو یہ آگئی کہ طالبان نے افغان حکو مت سے فوری برائے راست مذاکرات کا دعوی یہ کہہ کر مسترد کر دیاکہ جب تک غیر ملکی فوجیں افغانستان کو نہیں چھوڑتیں اس سے پہلے ایسے کوئی مذاکرات افغان حکومت سے نہیں ہو سکتے۔ امریکہ کے لیے یہ خبر دھچکا سے کم نہیں۔ جب کہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں امریکہ کی بدگمانی 2016 سے ہی چلی آرہی ہے۔ جب ٹرمپ نے پاکستان کے کھاتے میں حساب کتاب کرکے بھی بتایا تھا کی پاکستان کو اتنی رقم دی گئی جواب میں کیا ملا۔ کپتان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان جائیں گے تو ایک ایسا ماحول پائیں گے کہ ہر طرف واہ واہ ہو گی مگر پاکستان میں تو معاشی حالات تیزی سے خراب ہو چکے ہیں انویسٹمنٹ نہیں آرہی۔ پاکستان میں میڈیا پر زبردست سنسر شپ ہے ۔ عدالتوں کے فیصلوں پر سنجیدہ سوالات ایک ویڈیو ٹیپ نے اٹھا دیے ہیں۔

عوام مہنگائی اور حکومت کی کاررکردگی کو ناکام قرار دے رہے ہیں ۔ پاکستان کی کہانی تو وہی تھی جہاں سے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ ۔پیمرا تو جابر سلطان سے پوچھ کر کلمہ حق کہہ رہا ہے۔ نجی چینل کے ایک درجن اینکر قومی منظر نامے کو ایک آنکھ بند کرکے دیکھتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ کپتان کو امریکہ میں فوکس نیوز کے صحافی کو یہ کہنا پڑا کہ تین چار چینل کے علاوہ تمام چینل آزاد ہیں۔ پاکستان میں میڈیا پر جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اس پر امریکہ میں مقیم پاکستان کے ممتا ز صحافی شاہین صباحی نے بھی کپتان سے ملاقات میں جو مشورے دئے ہیں ان کو انہوں نے اپنے مضمون بھی بیان کیا ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں اپنی جماعت کے ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی آمیز مطالبہ کرڈالا ہے کہ اگست سے مستعفی ہو جائے کیوں کہ یہ حکومت عوام کا مینڈٹ چرا کر آئی ہے۔اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہو گا۔مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی بتایا کہ’’یہ نوشتہ دیوار ہے حکومت اس کو پڑھ لے‘‘ اب حکومت کے خلاف وہ کہانی دہرائی جائے گی جن دو مرتبہ بے نظیر بھٹو اور تین مرتبہ نواز شریف کی حکومت گرائی گئی تھی۔آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان احتساب عدالت کے جج کی عدالت میں بیٹھ کر آصفہ بھٹو اور بلاول کے ساتھ میٹنگ میں کیا۔ جب کہ انہوں نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے استعفے کا مطالبہ بھی داغ دیا۔ جہاں تک سنسر شپ کی بات ہے اس کا اصل نشانہ تو مریم نواز شریف ہیں ۔ جس کو سننے کے لیے مسلم لیگ ن کو زیادہ کوشش نہیں کرنا پڑتی انہوں نے ایک ٹیب جاری کرکے حکومت کو اور پاکستان کے نظام انصاف پر گہرا دباو ڈالا ہے۔بلکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے والد کو رہا کرانے کے لیے ایک ایسی ٹیپ بھی جاری کرنے والی ہیں جس میں پاکستان کے ادارے مشکل میں آئیں گے۔ قومی اسمبلی میں لفظ سیلیکٹ کے استعمال پر پابندی ہے ۔ پہلی با اس لفظ سلیکٹ کا استعمال بلاول بھٹو نے اس وقت کیا تھا جب عمران خان وزیر اعظم بنے تھے۔اس کے بعد اس کا استعمال عام ہو گیا جب مریم نواز تقریر کرتی ہیں تو ان کے نشانے پر اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کی حکومت بھی ہوتی ہے۔ رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں رانا ثنا اللہ کو عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں گھر سے دوائیں لانے کی اجازت دی جائے۔حکومت کا رویہ بدلنے والا نہیں ہے۔وہی چور ڈاکو کی گردان یہ پکڑا جائے گا اور وہ پکڑا جائے گا آپ کی ریاست مدینہ آپ نے عرفان صدیقی کو بھی پکڑا ہے اس سے قدرت اللہ شہاب یاد آگئے انہوں نے لکھا تھا ’’بدقسمتی سے کبھی کبھی ہماری سرکاری، سیاسی،سماجی اور ذاتی قوت برداشت بڑی ضعیف ثابت ہوتی ہے۔حکومت وقت کے ساتھ اختلاف غداری بن جاتا ہے اور سیاسی اور سماجی امور میں رائے کا تصادم وطن دشمنی قرار پا سکتا ہے۔ اس فعل عبث میں حب الوطنی کی ساکھ کے علاوہ اور کسی کا کچھ نہیں بگڑتا۔‘‘

اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ انتخاب جلد ہونے والے ہیں۔ہمارے گورنر چودھری سرور کی پھرتیاں دیکھو کہ وہ وزیر اعلی عثمان بزدار کو لے کر فیصل آباد پہنچے جہاں انہوں نے 150ارب کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان فیصل آباد ڈوثرن کے لیے کرایا۔یہ رقم ناروے نے پاکستان کو دینی ہے ابھی یہ رقم ابھی آئی بھی نہیں منصوبوں کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ جو حج پر جانے والے تھے آخر کیا وجہ تھی کہ انہوں نے ہنگامی طور پر میڈیا کو بلایا اور اپنے آبائی حلقے میں اعلان کیا کہ وہ اپنے عوام کے لیے فوری طور پر تین منصوبوں کا اعلان کررہے ہیں باقی وہ حج سے آکر کریں گے۔ایسا ہی دوسرے اضلا ع میں ہو رہا تھا۔یہ تو کپتان کہا کرتے تھے کہ ایم این اے اور ایم پی ایز کو ترقیاتی منصوبے اس لیے دیتے ہیں کہ وہ اس میں کرپشن کر سکیں۔حکومت تو عوام کے لیے نہیں سوچتی۔ وہ عوام کی پروا بھی نہیں کر رہی۔کپتان غیر ملکی قرضوں پر سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے۔۔آج کی خبر یہ بھی ہے کہ کپتان نے80ارب52کروڑ کا قرضہ لیا ہے۔اب بھی یہ کام جاری ہے۔حکومت بیک ڈور سے رکے کولیشن فنڈ بحال کرانے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ مگر کہتی یہی ہے کہ ہم امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔بھکاری کی تو کوئی چوائس ہی نہیں ہوتی۔


ای پیپر