حکومت کے حق میں کالم
29 جولائی 2019 2019-07-29

چند دوستوں نے مشورہ دیا کہ موجودہ حکومت کے حق میں لکھا کریں۔ اس پر لیجنڈری فنکار دانشور جناب سہیل احمد (عزیزی) کے ایک سٹیج ڈرامے کا منظر یاد آ گیا۔ جس میں نواز انجم نے شادی نہیں کی۔ سہیل صاحب سے کہتا ہے کہ ابھی جو لڑکی آئے گی تم اس کے سامنے میری تعریفیں کرنا سہیل بھائی پوچھتے ہیں کیا تعریف کروں کیونکہ نواز انجم کا قد قلیل ہے۔ رنگ ڈارک گرے ، توند نکلی ہوئی ہے ، ناک ایسے جیسے کچھ سونگ رہی ہو یا چھینک آئی ہو آنکھیں ڈھونڈنا پڑتی ہیں، کپڑے بھی سائز سے چھوٹے بڑے ہیں ،سہیل احمد اس کی بار بار تعریف کی رٹ سے اکتا کر بولتے ہیں۔ اوئے میں تیری کیا تعریف کروں تیرا قد 7 فٹ ہے، تیرا رنگ سرخ اور گورا ہے۔تیری عمر 18 سال ہے۔ تو پی ایچ ڈی یا CSP آفیسر ہے تو مقبول ترین شخصیت ہے۔ تیری آنکھیں ہیما مالنی جیسی ہیں۔ تو بڑا حسین جمیل ہے۔ تیرے روزانہ رشتے آتے ہیں گویا ہر وہ صفت جو اس کی ظاہری شخصیت کے برعکس ہے بیان کرتے ہیں میں بھی اس مخمصے میں ہوں کہ میں حکومت کی کیا تعریف کروں جبکہ سپورٹر بھی اب ان کے لیے تو کچھ کہہ نہیں پاتے البتہ 2008ء سے 2018ء تک کے سابقہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ ضروربناتے ہیں حالانکہ ان کے خلاف بات کرنا کلمہ حق نہیں رہا۔ قانون کی عمل داری عروج پر ہے عرفان صدیقی جن کے ساتھ میں شعوری طور پر کبھی متفق نہیں ہوا۔ اچھا خاصہ کام اور نام ان کی شخصیت سے جڑا پڑا ہے بھٹو مخالف جراثیم ابھی بھی باقی ہیں۔ شاید حالیہ ہتھکڑی کی کمیو تھراپی شفا دے۔

وزیراعظم کی ٹیکس وصولیوں کی کوششوں کو سراہنا ہو گا کیونکہ ہمارے ہاں ڈیوٹی ٹیکسز دینے کا کلچر نہیں ہے جو لوگ بھی باہر کے ملک سے آتے وہ ترقی یافتہ ممالک کی بڑی باتیں سناتے کہ وہاں سسٹم کیا ہے۔ اپنے نظام اور قوم میں کیڑے نکالتے اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ باہر سے آتے ہیں تو کہتے کہ ٹی وی ہے۔ VCR ، LCD ، TV یا کوئی ایسی چیز ہے جس پر ٹیکس نہ دینے کی سفارش کریں سال ہا سال اُن ممالک میں رہنے والوں کی پاکستان میں ٹیکس نہ دینے کی فطرت نہیں بدلی پتا نہیں اپنے ملک کی فضا میں کیا ہے وہ اصول و ضوابط جو ترقی یافتہ ممالک کی پہچان ہیں یہاں آ کر ہمارے رویے اس کے برعکس ہو جاتے ہیں۔ ٹیکس کلچر پیدا کرنے کی کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں اب چونکہ اس حکومت کے دعووں میں دو ارب منہ پر مارنے کی بڑھک شامل ہے اور عمران خان سمجھتے ہیں کہ لوگ چیریٹی بہت کرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے کہ یہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر خرچ ہو گا حالانکہ میرے مطابق اگر وہ ٹیکس دیں تو پھر چیریٹی دینے جوگے نہیں رہیں گے بلکہ چیریٹی لینے والوں میں شامل ہوں گے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک صوبے میں گورنر بنا کر بھیجتے وقت اپنے گورنر سے کہا کہ تم وہاں ٹیکس بھی لو گے بس ٹیکس لیتے وقت ٹیکس دینے والے کی پیشانی ضرور دیکھنا اگر اس پر بل آجائے تو پھر ٹیکس نہ لینا (یعنی شرح اور مقدار غور کرنا) یہ انٹرنیشنل اصول ہے کہ ٹیکس کی کم ترین شرح حصول ٹیکس کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ حکمرانوں کو بھی علم ہے مگر ہم آزاد اقتدار اعلیٰ نہیں رکھتے ہم اپنے بجٹ میں مرہون منت ہوتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کی طرح اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ اپنی معاشی پالیسیاں خود بنائیں۔

عامر راحیل میرے دوست ہیں سادگی کا یہ عالم ہے کہ پی ٹی آئی کی اب بھی حمایت کرتے ہیں جبکہ وزیراعظم کی آمد میں کابینہ کے اجلاس میں تاخیر ہو تو لگتا ہے پرویز مشرف، یوسف رضا گیلانی یا زرداری صاحب کا انتظار ہے باقی کورم پورا ہے۔ یہی میرے دوست عامر راحیل اور میں امریکہ میں تھے نے کہا کہ دنیا کی چھٹے نمبر کی بڑی کمپنی شاید ایم وے نام تھا کے ساتھ کاروبار کریں گے مینو فیکچرر سے گھریلو استعمال صابن، سرف ، گھی، تیل، سوڈا وغیرہ لے کر براہ راست consumer کو دینا۔ اس میں ہول سیلر اور ریٹیلر کی بچت ہمیں ہو گی۔ عامر راحیل 5 سیکنڈ میں ناراض اور راضی ہونے میں 5منٹ لگاتا ہے۔ میں اس کی ناراضی کے ڈر سے چلا گیا۔ مین ہنٹن کے ایک ہوٹل کے بڑے ہال میں اللہ بخشے ڈاکٹر جاوید اقبال (چیف جسٹس ریٹائرڈ) مرحوم کی شکل کی ایک ادھیڑ عمر 50 سالہ خاتون تقریر کے لیے ڈائس پر آئی اور اس نے کمپنی کی تعریفیں کاروبار کا طریقہ اور کاروبار بتانا شروع کیا۔ لڑکے لڑکیوں سے ہال بھرا ہوا تھا مگر کرسیوں پر۔ میں نے آہستگی سے عامر سے کہا کہ میری جیکٹ اندر سے پھٹی ہوئی ہے اور جیب میں کل پانچ ڈالر کے ساتھ ٹرین کے سفر کے چار coin ہیں اور تم مجھے دنیا کی چھٹے نمبر کی کمپنی کے ساتھ کام کروانے کے لیے لے آئے ہو جس پر اس نے زور دار قہقہہ مارا کہ مقررہ خاتون تقریر روک کر وجہ پوچھنے لگی عامر راحیل نے صاف صاف بتایا کہ سارا ہال ہی زعفران بن گیا۔ وہاں لڑکے لڑکیاں اور وہ مقررہ تقریب کے اختتام پر ہمارے ساتھ بہت دوستانہ ہوئے اور میری بات پر محظوظ ہونے کا اظہار کرتے رہے۔ اب دوسری میٹنگ چیدہ چیدہ لوگوں کی تھی یہ کمپنی کے کسی خاص آدمی یا عورت کے گھر ہو ئی تھی۔ کوئی 15، 20 لوگ ہوں گے جن میں میرے اور عامر کے سوا سب امریکن تھے۔ ایک سیاہ فام میچور سی لڑکی ڈائس پر تھی اس نے باری باری کمپنی اور کاروبار کے متعلق اظہار خیال بتانے کے لیے کہا۔ اُن دنوں میں وطن عزیز میں ضیاء کا راج تھا۔ میں نے کہا کہ ’’ میں بہت متاثر ہوا ہوں مجھے یہ کمپنی بہت پسند آئی اس کا طریقۂ کاروبار انتہائی عمدہ اور کم از کم میرے لیے نیا ہے۔ میں اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ میں اس میں اپنے پورے ملک کو شامل ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں یعنی ایسے کاروبار میں مگر کیونکہ ہمارا اقتدار اعلیٰ آزاد نہیں ہماری پالیسیاں کوئی اور بناتا ہے بلکہ اور کیا امریکہ اس کے اتحادی اور ذیلی ادارے بناتے ہیں۔

ہم اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد نہیں ہیں ہمیں ایک بدترین دشمن ہمسایہ کی نحوست اور امریکہ کی غلامی کا سامنا ہے۔ میں واپس اپنے ملک جاؤں گا اور جدوجہد کروں گا کہ میرا وطن بھی آزاد معاشی پالیسیاں بنائے اور میرے ہم وطن بھی آزاد فضا میں کاروبار کر سکیں۔ ایسی باتیں کر کے میں بیٹھ گیا زبردست کلیپنگ ہوئی عامر راحیل نے میرے بیٹھتے ہی مجھے کان میں کہا کہ اتنا بھٹو بننے کی کیا ضرورت تھی۔ جب تقریب کا اختتام ہورہا تھا تو سٹیج سیکرٹری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس نے میری طرف اشارہ کیا کہ مسٹر آصف کی بات سن کر مجھے اس کا دکھ اپنا دکھ شدت سے محسوس ہوا میں اپنے لوگوں سے کہتی ہوں کہ تم زیادہ محنتی، محب وطن اور اچھے ہو اپنا perception درست کرو ۔ کرائم کے نزدیک نہ جاؤ، تمہیں کریمنل مشہور کر دیا گیا ہے اور تم سوسائٹی میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہوئے جا رہے ہو۔ وہ عورت صرف میری تقریر دہراتی گئی اور روتی بھی گئی۔ عامر راحیل کی بات کہ بھٹو ضرور بننا تھا؟ میں سوچتا ہوں بھٹو تو تب بھی زندہ تھے اب بھی ہیں اور فردوس عاشق اعوان کے بعد بھی رہیں گے۔ بہرحال میں موجودہ حکومت کی اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں یکطرفہ احتساب اور انتقام کا مخالف اور عمران خان کی کچھ کر گزرنے کی نیت اور کوشش کا حامی ہوں۔


ای پیپر