جمہوریت زادے (2)
29 جولائی 2019 2019-07-29

ہمارا پستی کا سفر کہاں ختم ہوگا ؟ یہ سوال روز ہی کئی بار ذہن میں جگہ بناتا ہے ۔ کبھی اپنا عمل دیکھ کر ، کبھی اپنے اردگرد بکھرے معاشرے کے اعمال جان کر ۔ دوسروں کی غلطیوں کو نشانہ بناکر ہم بھی وہی غلطی کرنے کا جواز ڈھونڈ لیتے ہیں ۔کسی کی خرابی بھلا ہماری خوبی کیسے بن سکتی ہے ؟ برسوں پہلے کام کرانے کے لیے سفارش کافی تھی ۔ پھر سفارش کے ساتھ رشوت کو فروغ ملا ۔ عرصہ ہوا جب رشوت دینے کے لیے سفارش ڈھونڈی جانے لگی تاکہ کام ہونے کا یقین ہوجائے ۔ اب تبدیلی یہ آئی ہے ۔ سفارش اور رشوت کے ساتھ ڈاکیومنٹیشن بھی کرانا ضروری ہوگئی ۔ عوام پر ان کے اعمال حکمرانی کرتے ہیں ۔یعنی جیسے اعمال ، ویسے حکمران ، جیسی روح ، ویسے فرشتے ۔ ایسے میں کچھ بدل جائے تو معجزہ ہی کہلائے گا ۔

پچھلے کالم میں روٹی ، کپڑا اور مکان والے عوامی دور کی ایک کتھا سنائی ۔ اسی اوورسیز پاکستانی سے جڑی دوسری داستان بھی سن لیں ۔ یہ وہ دن ہیں جب پاکستان میںاگر لوڈشیڈنگ ہر گھنٹے بعد ہوتی تو عوا م سمجھتے ، اب صورتحال بہترہے کیونکہ تب کراچی کو چھوڑ کر بڑے شہروں میں بجلی کا دورانیہ پندرہ گھنٹوں سے زائد ہوجاتا تھا اور چھوٹے شہروں اور دیہات میں بجلی آجائے تو ٹھیک ، نہ آئے تو نہ آئے ۔ نتیجہ پیپلزپارٹی کو سندھ تک محدود ہونا پڑا ۔ بجلی سے محروم اسی تاریک دور میں متحدہ عرب امارات کے حکمران نے ابوظہبی کو ماحول دوست شہر بنانے کا فیصلہ کیا ۔ جس کے بعد کئی اقدامات کیے گئے ۔ صنعت کے لیے نئی ماحول دوست حکمت عملی اپنائی گئی ۔اسی سلسلے میں ابوظہبی میں فیول پر چلنے والے پچیس میگاواٹ کے ایک پاور پلانٹ کو بھی ہٹانے کی ہدایت کی گئی ۔ ہمارے اوورسیز دوست جو یواے ای کے حکمرانوں سے راہ ورسم رکھتے ہیں ۔ انہیں خبر ملی تو انہوں نے پتہ کرایا کہ اس پاورپلانٹ کوکہیں اور منتقل تو نہیں کیا جارہا ۔ جب پتہ چلا کہ یہ کباڑ میں چلا جائے گا تو انہوں نے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے عرضی گزاری کہ پاکستان توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے ۔ اگر آپ چاہیں تو یہ پچیس میگاواٹ کا پاورپلانٹ آپ کی جانب سے برادر ملک کے لیے اچھا خیرسگالی کا پیغام بن سکتا ہے ۔ اوورسیز پاکستانی کو اس کا مثبت جواب ملا کہ شیخ خلیفہ نے پاورپلانٹ پاکستان کو دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اوورسیز پاکستانی نے اطلاع ملتے ہی اس وقت کے پاکستانی سفیر خورشید جونیجو سے رابطہ کیا اور خوشخبری سنائی ۔ خورشید جونیجو نے بھی فوری ردعمل دیا اور شہراقتدار کو خبر دی کہ عوام کو ریلیف دینے کا ایک اچھا موقع بالکل مفت پیدا ہوگیا ہے ۔ اب دونوں منتظر تھے کہ کب پاورپلانٹ منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد اپنے طور پر ادھر ادھر رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ فیصلہ نہیں ہوپارہا ۔ پچیس میگاواٹ کا یہ پاورپلانٹ کہاں لگوایا جائے ۔ ایک چاہتا ہے سندھ میں لگے ، دوسرے کی خواہش ہے پنجاب میں ۔ ابوظہبی سفارتخانے سے پھر اطلاع دی گئی ۔ جہاں دل چاہے لگوائیں ، منگوا تو لیں ۔ ہم سے باربار پوچھا جارہا ہے کہ پاورپلانٹ کب تک لے جائیں گے ۔ اس بار یاددہانی کرانے پر پاکستانی سفارتخانے کو شہراقتدار سے جو حکم ملا اسے سن کر سفیر اور اوورسیز پاکستانی دونوں سرپکڑ کر بیٹھ گئے ۔ آپ بھی جان کر سر دھن لیں ۔ کہا گیا ۔ یواے ای حکومت سے درخواست کی جائے کہ پاور پلانٹ کی منتقلی اور اس کی دوبارہ تنصیب پر جو لاگت آئے گی وہ بھی ساتھ دی جائے ۔ یہ لاگت صرف پانچ ملین ڈالر بتائی گئی ۔ کہا گیا اخراجات کی یہ رقم نقد امداد کے طور پر دی جائے ۔ اوورسیز پاکستانی اور سفیر خورشید جونیجو کچھ دیر تک شش وبنچ میں رہے کہ یہ ڈیمانڈ کیسے پوری کی جائے ، کیسے اماراتی حکام سے کہیں ۔ آپ نے پاورپلانٹ تحفہ دینے پر رضامندی دی ہے تو باقی اخراجات بھی آپ ہی دیں۔ آخرکار ہمت کرکے اوورسیز پاکستانی نے یہ درخواست بھی پیش کردی کہ پاکستان کی معیشت کمزور ہے اگر اماراتی حکمران اخراجات بھی ادا کردیں تو برادر ملک شکرگزار ہوگا۔

ایک بار پھر اماراتی حکومت نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا ۔ مان گئے کہ پاورپلانٹ کی منتقلی اور اس کی تنصیب کی لاگت بھی وہ ادا کریں گے لیکن یہ شرط لگائی کہ جس امریکی کمپنی نے یہ پلانٹ ابوظہبی میں نصب کیا ہے وہی کمپنی یہ پاکستان لے جائے گی اور وہاں دوبارہ لگا کر آپریشنل کرکے دے گی ۔ امریکی کمپنی نے جو تخمینہ دیا وہ ڈیڑھ ملین ڈالر تھا۔ دوسری طرف پاکستانی حکام کی جانب سے صرف تنصیب کا خرچ ہی پانچ ملین ڈالر بتایا گیا تھا ۔ اس میں ابوظہبی سے پاکستان منتقلی کے اخراجات شامل نہیں تھے ۔ اوورسیز پاکستانی نے اماراتی حکام کی نئی پیشکش کو غنیمت جانا اور سفارتخانے کے ذریعے دوبارہ والیان اقتدار تک خوشخبری پہنچائی کہ اماراتی حکومت نے پاور پلانٹ کی منتقلی تک کی بھی ذمہ داری لے لی ہے ۔ ہائے معصوم محب وطن پاکستانی ۔ پتہ ہے اسے جواب کیا ملا ؟پاکستانی حکام نے اماراتی حکومت کی ـ’شرط ‘‘ماننے سے انکار کردیا اور واضح کیا کہ وہ ڈیڑھ ملین ڈالر لینے والی امریکی کمپنی سے نہیں بلکہ پانچ ملین ڈالر والی پاکستانی کمپنی سے ہی پاورپلانٹ نصب کرائے گی ۔ جواز یہ گھڑا گیا کہ امریکی کمپنی پاکستان کی جغرافیائی صورتحال سے آگاہ نہیں جبکہ پاکستانی کمپنی مقامی ہونے کے ناطے بہتر انداز میں یہ کام انجام دے گی ۔ پیارے قارئین !آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔ اسلام آباد سے ملنے والا یہ پیغام ابوظہبی میں محب وطن پاکستانی اور سفارتخانے پر کیسے بجلی بن کے گرا ہوگا ۔

اوورسیز پاکستانی نے ان دنوں کو یاد کرنے کی کوشش کی تو چہرے پر تناؤ ان دنوں ذہن پر پڑنے والے دباؤ کو ظاہر کرنے لگا۔ کہنے لگا ۔ آپ یقین مانیں مجھے تب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اپنے ہم وطنوں کی تکلیف دور کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ حکمران جو کہتے ہیں جئیں مریں گے ، عوام کے ساتھ ۔ایک طرف یہ دعوے ہیں دوسری جانب بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے ۔ سڑکوں پر بڑھتے مظاہروں سے اقتدار کا سنگھاسن ڈولتا ہوا سب دیکھ رہے ہیں ۔ ایسے میں اماراتی حکومت کا پچیس میگاواٹ پاورپلانٹ کا تحفہ تو حکمران جماعت کے لیے غیبی مدد ملنے جیسی بات تھی ۔ وہ چاہتی تو عوام کو یہ جتانے کی کوشش کرتی کہ وہ ملک سے اندھیرے دور کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں مگر اس کے بجائے کورا سا جواب ملا ۔ پانچ ملین ڈالر نقد نہیں دے سکتے تو پاورپلانٹ بھی اپنے پاس رکھیں ۔ ہائے رے عوام ، کیسے کیسے ملے تجھے حکمران ۔اور اب بھی عالم یہ ہے ۔

میر کیا سادے ہیں ، بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

ابوظہبی میں نصب پچیس میگاواٹ کا پاورپلانٹ پاکستان منتقلی کے لیے تیار پڑا تھا ، عوام بجلی دو ، بجلی دو کی دہائیاں دے رہے تھے ، صنعتیں بندپڑی تھیں لیکن پاکستانی حکام پر اپنی شرائط منوائے بغیر اپنے عوام کو چھوٹا سے مفت میں ملنے والا ریلیف دینے کو تیار نہ تھے ۔ آخرکار کچھ ماہ بعد ابوظہبی کے حکمران نے ماحولیاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اس ایریا کا دورہ کیا جہا ں پاورپلانٹ بھی نصب تھا ۔ پاورپلانٹ کو بدستور وہیں موجود دیکھ کر انہوں نے استفسار کیا کہ اب تک پاکستان منتقل کیوں نہیں کیا گیا ؟ وہاں موجود حکام نے انہیں پاکستانی حکومت کی شرائط سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے لمحہ بھر کا توقف کیا اور پاورپلانٹ کو وہاں سے فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا اور چلے گئے ۔ پھر کیا ہوا ؟ بے ساختہ سوال میرے منہ سے نکل گیا ۔ اوورسیز پاکستانی نے ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس میز پر رکھا اور تلخی سے بولا ۔ پچیس میگاواٹ کا وہ پاورپلانٹ جسے پاکستان بھجوانے کے لیے کئی ماہ کوشش کی ، اسے وہاں سے ٹکڑوں میں کھولا گیا اور لوہے کے بھاؤ نیلام کردیا گیا۔ خس کم جہاں پاک۔


ای پیپر