شریفوں کیلئے جیل گئے اور وہ ہمیں چھوڑ گئے : پرویز الٰہی
29 جولائی 2019 (19:42) 2019-07-29

لاہور:سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ نواز شریف آرمی چیف مقرر کرنے کے بعد اس کو اتفاق فانڈری کا ملازم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کے تصور میں یہ بات آ جاتی ہے کہ اب انہوں نے اس کو ملازم رکھ لیا ہے تو اس کی ہر چیز، اس کا ضمیر، اس کا کام ان کے ہی پاس ہے،پیپلز پارٹی کے دور میں حکومت اور فوج کے مابین چپقلش یوسف رضا گیلانی کی وجہ سے شروع ہوئی، ہم شریفوں کا آخری دم تک ساتھ دیا،ان کی خاطر جیل گئے ، جس وقت وہ ہمیں چھوڑ گئے ، پھر تو ہمارے پاس بھی کوئی چوائس نہیں رہی، شریفوں نے ہمارے خلاف اقدامات کئے ،بعد میں پھر ان کو جب احساس ہوا کہ وہ غلط تھے تو پھر وہ معافیاں مانگتے رہے، سارے خاندان نے آکر معافیاں مانگی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ نواز شریف فوج سے لڑنے سے باز نہیں آتے اور تین بار کے وزیراعظم تینوں مرتبہ فوج سے لڑے، بدقسمتی سے ابھی تک نواز شریف کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ جب وزیراعظم بنتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آرمی چیف ان کی جیب میں ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی کے بقول پرویز مشرف، جن کو خود نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت پر ترجیح دے کر نیا آرمی چیف بنایا تھا، سے ان کے اختلافات اس لیے ہوئے تھے کہ وہ کور کمانڈرز کی تقرری تک میں مداخلت کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کہتے تھے کہ اس کور کمانڈر کو ادھر لگا دیں، اس کور کمانڈر کو ادھر لگا دیں۔ انہوں(جنرل مشرف)نے کہا کہ جی یہ تحصیلدار والا کام نہیں ہے ہمارا،یہ آرمی چیف نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کور کمانڈر کو کہاں لگانا ہے میں نے۔ یہ ملک کی سرحدوں کا کام ہے، یہ کوئی پوسٹنگ ٹرانسفر والا مسئلہ نہیں ہے۔ بنیاد یہاں سے پڑی تھی، پھر معاملہ بڑھتا گیا۔سابق نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جتنے چیفس انہوں نے مقرر کیے، خواہ مخواہ ان سے لڑے۔ جہانگیر کرامت نے ان کی حکومت بچائی تھی، ان سے خواہ مخواہ لڑائی کی، ان کی مدت پوری نہیں ہونے دی اور ان کو نکال کر پرویز مشرف صاحب کو لے کر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا ان ( پرویز مشرف)کو لے کر آئیں، لے کے آئے تھے، تو پھرلڑائی کیوں کی؟پرویزالہی نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی دور میں حکومت اور فوج کے مابین چپقلش یوسف رضا گیلانی کی وجہ سے شروع ہوئی۔ آصف زرداری صاحب کی فوج سے بہت بنی ہے۔ آصف زرداری کی اس حد تک بنی ہے کہ پرویز کیانی نے اتنی ایکسٹینشن نہیں مانگی جتنی انہوں نے دے دی۔ اس وقت فوج اور زرداری بالکل ایک پیج پر تھے، البتہ خرابی جو بعد میں کی تھی، وہ یوسف رضا نے کی تھی، جس کو پھر انہوں نے ٹھیک کیا اور یوسف رضا گیلانی کو پھر افتخار چوہدری صاحب نے نکال دیا۔


ای پیپر