اسلام میں قانون سے کوئی بالاتر نہیں : عمران خان
29 جولائی 2019 (16:38) 2019-07-29

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں صدر اور وزیراعظم رہنے والے خود کو عدالت میں بے قصور ثابت نہیں کرتے،نئے پاکستان سے متعلق میرا ایک وژن ہے،پاکستان میں قانون کی بالادستی ہی مسائل کا حل ہے،ریاست مدینہ کی بات انتخابات سے پہلے نہیں کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے ایوان صدر اسلام آباد میں اقلیتوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا پیر کو یہاں ایوان صدر میں اقلیتوں کے حوالے سے منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نئے پاکستان سے متعلق میرا ایک وژن ہے، الیکشن سے پہلے اپنا وژن عوام کے سامنے نہیں لایا، کئی لوگوں نے اسلام کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں، اسلام کی ریاست ماڈل حضرت محمدؐ نے بنائی تھیں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، مدینہ کی ریاست کو بنانے کیلئے اس کا مقصد سمجھنا چاہیے، ریاست مدینہ اپنے وقت کی جدید ترین ریاست تھی، چاہتا ہوں کہ مدینہ کی ریاست پر تحقیقی مطالعہ کیا جائے، ریاست مدینہ نئے پاکستان کیلئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، ملک میں ریاست مدینہ پر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرانا چاہتا ہوں، حضرت محمدؐ کا اقلیتوں سے سلوک ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  دنیا کی ترقی یافتہ ممالک نے ریاست مدینہ سے رہنمائی حاصل کی، حضوراکرمؐ کی زندگی ہمارے لئے قیامت تک مثال رہے گی، قرآن مجید میں حکم ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں، ایمان لانے پر اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہے، اسلام میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی اجازت نہیں، حضورؐ کے دور میں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل تھی، مدینہ کی ریاست جدید قوانین پر مشتمل تھی،ایمان لانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے، آج کے دور میں جدید معاشرے ریاست مدینہ کے مطابق چل رہے ہیں، قانون کی بالادستی نہ ہوتو امیر اور غریب کیلئے الگ قانون ہوتا ہے، قانون کی حکمرانی سے زیادہ مسئلے ختم ہو جائیں گے، گزشتہ دس سال میں 24ہزار ارب روپے کے قرض کا حساب نہیں دیا جا رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ بڑے چوروں کو جیل میں ٹی وی، فریج اور اے سی دے رکھا ہے،ہمارامقصد نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں، میں نے 9 ماہ میں 60 دستاویزات دیں، بیرون ملک سے پیسہ لے کر آرہا تھا، 10ہزار ارب قرضہ چڑھانے والے جواب نہیں دے رہے، ہم ریاست مدینہ کے نظریاست سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، ہمارا مقصد ریاست مدینہ کی طرف جانا ہے، ملک میں 50فیصد لوگ ان پڑھ ہیں، اسلام سے متعلق زبردستی کرنے والے اسلامی تعلیمات نہیں جانتے۔


ای پیپر