مہاتیر کے دیس میں (قسط 3 )
29 جولائی 2019 2019-07-29

امرےکی پروفےسروں کے بارے میں میرا (محدود) تجربہ اور مشاہدہ ےہ ہے کہ ان کا انداز گفتگو کچھ کھوجتا اور کرےدتا ہوا ہوتا ہے۔ پروفےسر ڈاکٹر جےن کے انداز و اطوار بھی کچھ اےسے ہی تھے۔ اےک اضافی چیز وہ چھوٹی ڈائری تھی جس میں دوران گفتگو وہ کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی۔ ہم دونوں آزادی صحافت پر بات کر رہے تھے۔ جب اچانک اس نے موضوع بدلا اور آزادی نسواں پر بات کرنے لگی۔ پوچھنے لگی کہ پاکستان میں خواتین کی آزادی اور حقوق کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہاکہ کافی اچھی.... اب تو پاکستانی عورتےں بہت سے غےر روائتی شعبوں مےں بھی سرگرم عمل ہےں۔ جنگی جہاز اڑا تی ہیں۔ انسداد دہشت گردی فورس کا حصہ ہےں۔جبکہ روائتی شعبوں میں بسا اوقات مردوں سے آگے نکل جاتی ہےں۔ ڈاکٹر جےن کے چہرے سے صاف ظاہرتھا کہ اسے میری بات پر ےقین نہےں آ رہا۔ کہنے لگی کہ شہری خواتین کے حالات شاےد اےسے ہی ہوں، جےسا تم بتا رہی ہو۔ مگر میں نے سن رکھاہے کہ تمہارے ملک میں دیہاتی عورتوں کی حالت زار ، انتہائی ابتر ہے۔ میں نے جواب دیا کہ شہروں اور دیہاتوں کی صورتحال ےقےنا مختلف ہے۔ تاہم پاکستان مےں حقوق نسواں کی صورتحال اسقدر بری نہےں جےسا کہ دنےا میں تاثر ہے۔ یہ دراصل ادراک (perception) اورصورت گری (portrayal) کا معاملہ ہے۔ کبھی پاکستان آو ¿ تو تب ہی اصل حقائق جان سکو گی۔ پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان میرے آنے کے لئے اےک محفوظ ملک ہے؟ اتفاق سے چند دن پہلے مےں نے تھامس رائٹرز فاونڈےشن کی تازہ ترےن رپورٹ پڑھی تھی۔ اس رپورٹ کا حوالہ دےتے ہوئے مےں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ امرےکہ بھی دنےا کے ان دس ممالک کی فہرست مےں شامل ہے جنہےں خواتےن کے لئے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔لہٰذا مےرا ملک پاکستان خواتےن کے لئے اتناہی محفوظ اور غیر محفوظ ہے جتنا تمہارا ملک امریکہ۔ 

 جنوبی اےشےا کی سےاست پر بات ہوئی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر جےن اندرا گاندھی کے نام سے آگاہ ہےں۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کےا پاکستانی سےاست مےں بھی خواتےن موجود ہےں؟ انتہائی فخر کیساتھ مےں نے بتاےا کہ ہمارے ہاں اےک خاتون دو مرتبہ وزےر اعظم پاکستان منتخب ہوئی۔ اگر وہ مزےد زندہ رہتی، تو ےقےنا تےسری بار بھی وزےر اعظم بن سکتی تھی ۔ بے نظےر بھٹو کا نام سن کر ڈاکٹر جین کو جےسے کچھ ےاد آ گےا۔ اپنی ےادداشت کو کوستے ہوئے کہنے لگی۔۔ ارے ہاں۔ بے نظےر بھٹو کو مےں کےسے بھول سکتی ہوں ۔ وہ بڑی شاندار عورت تھی۔ مےں نے کہا۔۔ بلا شبہ انتہائی شاندار ۔ اور اسے بتاےا کہ اب بے نظےر بھٹو کا بےٹا بلاول اپنی ماں کی سےاسی جماعت کا سربراہ ہے اور ملکی سےاست میں کافی متحرک ہے۔ 

ڈاکٹر جین اس موضوع پر مزید معلومات چاہتی تھی۔ اےسے موقعوں پر ہمیشہ میرا دل چاہتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے حضرت خدیجہ ؓکی تجارت (business) سے بات شروع کی جائے اور آج کے دن تک ختم کی جائے۔ ہم چونکہ سےاست اور جمہورےت پر بات کر رہے تھے، میں نے ڈاکٹر جین کو بتاےا کہ اگرچہ پاکستان اےک قدامت پرست ملک ہے۔ تاہم ہماری سےاسی تارےخ بہادر خواتےن سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمان خواتےن تحرےک آزادی کا حصہ تھےں۔ انہوں نے جدوجہد آزادی مےں بھرپو ر حصہ ڈالا ۔ گرفتار ہوتی رہےں۔جےلوں مےں ڈالی گئےں۔ مگراپنے مقصد سے پےچھے نہ ہٹےں۔۔۔اس زمانے میں بھی ان خواتےن کے شٹل کاک برقعے ، چوغے، حجاب اور نقاب ان کی راہ مےں حائل نہ ہو سکے تھے۔ مےں نے بتاےا کہ ہماری ستر سالہ سےاسی تارےخ آمرانہ حکومتوں سے بھری (بلکہ اٹی) ہوئی ہے۔ لےکن جب بھی میرے ملک پر کسی غاصب کا قبضہ ہوا ۔ کوئی نہ کوئی بہادر خاتون خم ٹھوک کر میدان میں اتری۔ میں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ذکر کیا، جنہوں نے اےوبی آمرےت کو للکارا تھا۔ بےگم نصرت بھٹو کا تذکرہ کےا جو اپنے خاوند کی پھانسی (بلکہ عدالتی قتل) کے بعد ضےاءآمرےت کے خلاف برسر پےکار رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کا حوالہ دےا جو انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے کی تھی۔ بےگم کلثوم نواز کے متعلق بتایا جنہوں نے آمر وقت پروےز مشرف کو ناکوں چنے چبوا ڈالے تھے۔ عاصمہ جہانگیرکاذکر کیا جو ہر زمانے میں آمریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ 

 میںنے ڈاکٹر جین کو بتاےا (بلکہ جتاےا) کہ چند سال پہلے امرےکہ کی تارےخ میں پہلی بار کسی خاتون (ہےلری کلنٹن) نے صدارتی انتخاب لڑا ہے۔جبکہ پاکستان مےں ہم برسوں پہلے اس مرحلے سے گزر چکے ہےں۔ مےرے ملک میں اےک بہادر عورت نے 1965 مےں صدارتی انتخاب لڑا تھا۔ وہ بھی اےک فوجی حکمران کے خلاف۔ ےہ بات سن کر امرےکی پروفےسر نے اپنے دونوں ہاتھ فضا مےں بلند کےے اور ہنستے ہوئے کہنے لگےں۔۔ OK. You win (ٹھےک ہے۔ تم جےت گئی)۔کچھ دےر بعد ڈاکٹر جےن نے دریافت کیا کہ وہ کون عورت تھی جس نے پاکستان میں صدارتی انتخاب لڑا تھا اور اس آمر کا نام کےا تھا ؟ مےں نے بتاےا کہ محترمہ فاطمہ جناح اور فےلڈ ماشل اےوب خان۔

 ڈاکٹر جےن نے اپنی ڈائری مےں ےہ دونوں نام لکھے اور کہنے لگی کہ مجھے پاکستانی خواتےن کے متعلق تمہاری باتےں سن کر حیرت ہوئی ہے۔ مےں ضرور اس موضوع پر کچھ تحقےق کروں گی۔ےہ کہہ کر ڈاکٹر جےن تو چلی گئی۔ مجھے مگر وہ تارےخ کے کٹہرے مےں کھڑا کرگئی۔ 

میں نے سوچا کہ کاش ڈاکٹر جین کبھی نہ جان سکے کہ ان شاندار خواتےن کےساتھ ہم نے کیسا "شاندار" سلوک کیا ۔کاش اسے کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ ہمارے ملک مےں، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی لاڈلی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو امرےکی اور بھارتی اےجنٹ کہا جاتا رہا۔ اسے "غدار" کا لقب دےا گےا۔ اسے ©"چڑچڑی بڑھےا" کہہ کر پکارا گےا۔ ےہ کہا گےا کہ مادر ملت (قوم کی ماں) ہے تو ماں بن کر رہے۔نصرت بھٹو کے ساتھ بھی ےہی سلوک ہوا۔ نفاذ اسلام کی گردان کرتے آمرکے دور میں اس نہتی عورت پر ڈنڈے اور لاٹھیاں برستی رہیں۔اسے (بےٹی سمےت) اپنے خاوند کے جنازے میں شرکت اور آخری دےدار سے روک دےا گےا ۔نظربندی کے نام پر اس عورت کو برسوں قید تنہائی میں رکھا گیا۔اسلامی دنےا کی پہلی خاتون اور کم عمر ترین وزےراعظم ، بےنظیر بھٹو کو کبھی ٹک کر حکومت نہیں کرنے دی گئی۔ اسے سےکیورٹی رسک کہا جاتا رہا۔ آخرکار اسے مار ڈالا گےا۔ کلثوم نواز کے ساتھ بھی انتہائی غیر انسانی سلوک ہوتا رہا۔اس کے مرض کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کی بیماری کو ڈھونگ اور ڈرامہ قرار دیا گیا۔ بستر مرگ پر پڑی اس کینسر زدہ مریضہ کے کمرہ ہسپتال میں خاص طور پر ایک آدمی کو بھیجا گیا تاکہ اس کی تصویریں لا کر اسکے ناٹک کا بھانڈہ پھوڑا جا سکے۔عاصمہ جہانگےر پر غداری کےساتھ ساتھ اسلام دشمنی کے آوازے کسے گئے۔نہ صرف اسکی زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی۔ اس کی تدفین کے بعد ےہ بحث ہوتی رہی کہ اسکی نماز جنازہ پڑھنا جائز تھا بھی یا نہیں۔ 

اس وقت، میں نے صدق دل سے دعا کی کہ کاش ڈاکٹر جےن تمہاری ےہ ڈائری کہےں کھو جائے ، جس میں تم نے ان خواتےن کے نام لکھے ہیں۔ تم کبھی ان عورتوں کے بارے مےں تحقےق نہ کر سکو۔ کبھی وہ برہنہ حقائق نہ جان سکو ، جنہےں یاد کر کے ہم تارےخ سے اپنا منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر