انتخابات کے بعد کا منظر نامہ
29 جولائی 2018 2018-07-29

سب سے پہلے تو تحریک انصاف اور عمران خان کو مبارکباد کہ وہ مرکز میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ عمران خان ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہیں جن کو ان کے خوابوں کی تعبیر مل پائی ہے۔ وزیر اعظم بننے کا خواب لے کر عمران خان 22 سال قبل میدان سیاست میں اترے تھے۔ اس دوران بہت سارے اتار چڑھاؤ آئے مگر وہ میدان میں ڈٹے رہے اور بالا آخر 25 جولائی 2018 ء کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے وہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

میری نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ تبدیلی کے نعرے اور نیا پاکستان بنانے کے وعدوں کو عملی شکل میں پورا کریں۔

میں عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست اور پالیسیوں کا نا قد رہا ہوں اور آئیندہ بھی اپنی عقل فہم اور محدود علم کی روشنی میں ان کی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہوں گا۔ ان کو ان کے وعدے بھی یاد دلاتا رہوں گا ۔ ان کی اچھی پالیسیوں اور اقدامات کو سراہا بھی جائے گا مگر بے رحمانہ تنقید بھی جاری رہے گی۔

عام انتخابات کے نتائج کے بعد اب سیاسی منظر نامہ بہت واضح ہوتا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے اتحاد یوں کے پاس اب بھی قومی اسمبلی میں مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے۔ تحریک انصاف نے 15 نشستیں حاصل کی ہیں۔ مگر عمران خان کو پانش میں سے 4 نشستیں چھوڑنی ہیں اسی طرح غلام سرور خان اور طاہر صادق کو ایک ایک نشست چھوڑنی ہے۔ جبکہ فواد چوہدری کو بھی صوبائی یا قومی اسمبلی میں سے ایک نشست چھوڑنی ہے اسی طرح پرویز خٹک اگر وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو انہیں قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنی پڑے گی۔ اس طرح حلف اٹھانے کے بعد تحریک انصاف کے پاس 108 نشستیں ہوں گی ۔ اسی طرح پرویز الٰہی بھی ایک نشست چھوڑیں گے اور یوں مسلم لیگ (ق) کی نشستیں 13 رہ جائیں گی مجموعی طور پر تحریک انصاف کو سادہ اکثریت کے لیے 136 نشستیں درکار ہیں۔ اگر تمام آزاد امیدوار بھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیں اور بلوچستان عوامی پارٹی کی 4 ، جی ڈی اے کی دو ، جمہوری وطن پارٹی کی ایک ، عوامی مسلم لیگ کی ایک نشست بھی تحریک انصاف کو مل جائے تو ان نشستوں کی مجموعی تعداد 132 بنتی ہے جو کہ 136 سے 4 نشستیں کم ہیں اس لیے محض ایک ووٹ کی اکثریت کے لیے تحریک انصاف بلو چستان نیشنل پارٹی نیگل کی دونوں نشستیں اور ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت درکار ہے اس کے بغیر تحریک انصاف کی گنتی پوری نہیں ہو گی۔میڈیا نے یہ عمومی تاثر قائم کر دیا ہے کہ جیسے تحریک انصاف کو کسی دوسری پارٹی کی حمایت درکار نہیں ہے۔ حالانکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ تحریک انصاف اگر ایم کیو ایم کو ساتھ نہیں ملاتی تو یہ تعداد پوری نہیں ہو گی۔ اگر ایم کیو ایم محض وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں تحریک انصاف کا ساتھ دیتی ہے مگر حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنتی تو یہ ایک اقلیتی حکومت ہو گی جب تک ضمنی انتخابات میں اپنی چھوڑی ہوئی نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے تحریک انصاف اپنی مجموعی نشستوں کی تعداد کو نہیں بڑھاتی۔ اسے مسلسل ایک مضبوط اور عددی اعتبار سے بڑی ضرب اختلاف کا سامنا رہے گا۔ جو اسمبلی کے اندر اور باہر تحریک انصاف کو مسلسل چیلنج کرتی رہے گی۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو واضح برتری حامل ہو گئی ہے اس لیے دوبارہ اسی کی صوبائی حکومت بن جائے گی جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے دوبارہ اپنی حکومت بنانے کی راہ ہموار کر لی ہے۔ بلوچستان میں پہلے کی طرح مخلوط حکومت بنے گی۔ ایک صورت تو یہ بن سکتی ہے کہ بلوچستان عوامی پارتی + بلوچستان نیشنل پارتی نیگل + تحریک انصاف اور آزاد امیدوار حکومت بنائیں جن کے پاس مجموعی طور پر 130 ارکان موجود ہیں۔ دوسری صورت میں BNP مینگل ، ایم ایم اے ، آزاد ارکان اور BAP حکومت بنائیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ BNP مینگل کیا فیصلہ کرتی ہے۔

کیونکہ BNP عوامی اور ANPکو بھی تین تین نشستیں حاصل ہوئی ہیں جوکہ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ صورت حال پنجاب کی ہے جہاں پر مسلم لیگ (ن) کے پاس 129 اور تحریک انصاف کے پاس 123 نشستیں ہیں۔ جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 29 ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے پاس 7 اور پیپلز پارٹی کے پاس 6 نشستیں ، اس صورت حال میں آزاد ارکان اور پیپلز پارٹی کی 6 نشستیں اہمیت کی حامل ہیں۔ اس وقت کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت نہیں رکھتی اور جو بھی ھکومت بنے گی وہ آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتوں کی مرہون منت رہے گی۔ پنجاب میں بننے والی حکومت بہت کمزور ہو گی اور بیساکھیوں سے قائم رہے گی۔ اگر مسلم لیگ (ن) میں فاورڈ بلاک بنا کر حکومت سازی کی کوشش کی گئی تو اس سے جمہوریت کمزور ہو گی اور تحریک انصاف اخلاقی جواز کھو دے گی۔ در اصل پنجاب اسمبلی حقیقی صوبوں میں معلق اسمبلی ہے۔ جہاں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نشستوں کا فرق بہت معمولی ہو گا۔ حکوتم گرنے کا دھڑکا ہر وقت لگا رہے گا۔

اس وقت ہارنے والی جماعتوں کے جارحانہ رویے سے تویہ لگتا ہے کہ شاید تحریک انصاف کو ہنی مون کا بھی وقت نہیں ملے گا۔ پیپلز پارٹی ، ملسم لیگ (ن) ایم ایم اے، اے این پی اور دیگر چھوٹی جماعتیں پہلے ہی احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے رہی ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے مراحل اور نتائج میں بلاوجہ کی تاخیر نے اس سارے عمل پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ پولنگ ایجنٹس کے بغیر گنتی کے عمل نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ مگر اس کے لیے احتجاجی تحریک ہی تو واحد راستہ نہیں ہے۔ حزب اختلافات کی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ پہلے ٹھوس ثبوت اکٹھے کریں انہیں سامنے لائیں اور اگر ان کے تحفظات اور شکوک دور نہ ہوں تو پھر احتجاج ان کا حق ہے مگر حلف اٹھانے سے بھی پہلے اور ٹھوس چبوت فراہم کیے بغیر احتجاج جلد بازی کا اقدام ہے۔ جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

25 جولائی کو ووٹنگ کا عمل بہت اچھے طریقے سے تکمیل کو پہنچا مگر 6 بجے کے بعد نتائج میں تاخیر نے حزب اختلاف کو سوالات اٹھانے اور اعتراض کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تحریک انصاف اپنے وعدوں اور نعروں کے مطابق اگلے 5 سال اپنی حکومت کو چلا سکے اور ان ہپر عملدرآمد کر سکے۔ تحریک انصاف اور آئینی اداروں نے اس صورت حال کو کنٹرول کرنے اور مختلف جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش نہ کی تو اس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام اور انتشار پڑھے گا۔


ای پیپر