نئے پاکستان کا فارمولا
29 جولائی 2018 2018-07-29

الیکشن،پھر پولنگ ڈے اوراس سے اگلے دو روز تو کراچی ہی میں گزر گئے۔ وہ بھی یوں کے مقام قیام سے دفتر،الیکشن سٹی کے وسیع و عریض خوبصورت سیٹ پر لمبی نشستیں۔صبح سے شام، شام سے رات اور پھر اگلی صبح طویل میراتھن نشریات۔درمیانی وقفوں میں چند منٹوں کیلئے پاؤں پر کھڑے ہو کر دوران فون کو بحال کرنے کے سوا اور کوئی موقع نہ تھا۔ آج نیوز کو 2005 میں جائن کیا تھا۔ مسلسل تیسرا الیکشن کور کیا ہے۔ سکرین پر بیٹھ کر کیمرے کے سامنے الفاظ کی جگالی تو کی جا سکتی ہے۔ کڑوی گولی کو شوگر کوٹڈ توکیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لہٰذا سکرین پر بیٹھ کر جو اپنا مشاہدہ تھا۔ جو مستند حقائق اپنے علم میں تھے ان کو ناظرین کی امانت سمجھ کر آگے منتقل کیا۔ ہوا کے روش پر سفر کرتی یہ امانت کروڑوں عوام الناس تک پہنچی ہو گی۔ جو کہا وہ آر کائیوز میں ریکارڈ کا حصہ بن کر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ الیکشن کوریج کے باعث گزشتہ ہفتہ کے دوران ایک کالم کا ناغہ ہوا امید ہے قارئین اس کوتا ہی پرمعافی قبو ل کرینگے۔ اطمینان اس بات کا ہے کہ قلم کے ذریعے نہ سہی کیمرے کے توسط سے اہل وطن سے رابطہ رہا۔ آج نیوز کی شا ندارنشریات کا حصہ بننے پر پیشہ وارانہ اطمینان رہے گا۔ تقریبا ایک ہفتہ کراچی میں قیام کے بعد اب شہر اقتدار اسلام آباد واپسی ہو چکی ہے۔ شہر ا قتدار کی فضاؤں میں ا ضطراب بے چینی ہیجان خلشفار نظر آتا ہے۔ امید تھی کہ الیکشن کے بعد فضاؤں میں شکوک و شبہات کے چھائے دھندلے بادل جھٹ جائینگے۔ انتخابات قوموں کی سیاسی استحکام کی جانب لے جاتا ہے۔ کیا 2018 کے عام انتخابات بے سمت ملک کو سمت دینگے۔کیا سیاسی استحکام نصیب ہو گا۔ فی الحال اس سوال کا جواب شائد کسی کے پاس نہیں شائد فیصلہ سازوں کے پاس بھی نہیں۔ اس مبتدی قلمکار کا خیال ہے کہ سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔بلکہ سراب ہی ثابت ہو گا۔ آنے والے چند دنوں میں حکومت سازی کے تما م مراحل مکمل ہو جائیں گے۔ ہفتہ کے روز عین اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی تھی جوڑ توڑ عروج پر تھا۔ رابطے،ترغیبیں، تحریص، دباؤ وہ سب جو حکومت سازی سے چند روز پہلے مراحل میں ہوتا ہے۔ سب موجود ہے۔ بس اب تھوڑے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ سیا ست میں عہد جدید کے ساہو کار وں کی انٹری سے گلیمر ذرا بڑ ھ گیا ہے۔ کبھی ایسے موقعوں پر نئی نکو ر دلہن کی مانند لش پش کرتی پجارو، پراڈو گاڑیاں امیدواروں کا تعاقب کیا کرتی تھیں۔اب سزا یافتہ تاحیات نااہل تبدیلی پارٹی کی جانب سے مرکزی سودا کار ہے۔ لہٰذا اب پراڈو کو کون پوچھتا ہے۔اب تو جہازوں، ہیلی کاپٹروں کا ز مانہ ہے۔ سودا بروقت ہو جائے نذرانہ حسب منشا ہو تو چند منٹوں کی اڑان گو ہر مراد تک اڑا کر لے جاتی ہے۔ بہر حال حکومت سازی سفاک کھیل ہے۔ جنگ، کھیل جیت اور اقتدار کی بازی میں سب جائز ہے۔ لہٰذا جو ہور ہا ہے سب جائز ہے۔ زمانہ بدل جاتا ہے،کھلاڑی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کھیل کا میدان نیا ہو سکتا ہے۔ لیکن قاعدے، ضابطے طور طریقے نہیں بدلتے۔ تقریریں وہی پرانی بس کیمرے کے سامنے بیٹھا چہرہ تبدیل ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ وہ نیا چہرہ بھی پرانوں جیسا لگتا ہے۔ بدلتا کچھ بھی نہیں۔تبدیلی کا خواب دیکھنے والے مٹ جاتے ہیں، تبدیل ہو جاتے ہیں۔ الیکشن کا نتیجہ توقعات کے مطابق ہی رہا۔ البتہ کچھ غیر متوقع بھی تھا۔لیکن اس کا تذکرہ بعد میں۔وہی جیتا جس کی جیت یقینی بنانے کیلئے پانچ سال نفسیاتی ماحول بنایا گیا۔ اربوں روپے کی سرمایا کاری کی گئی۔ شخصیت سازی کی گئی۔حریفوں کو ڈس کریڈٹ کرنے کیلئے ہمہ گیر مہم چلائی گئی۔ ایسے کہ ان کے کارنامے بھی الزام بنا دیے گئے۔ اب پانچ سال کی تاریخ کیا دہرانی۔ دھرنے، سول نافرمانی سرکاری عمارتوں پر حملے، سنگ و شنام ناوک الزام سب کچھ تھا۔ فیصلوں کی بھر مار تھی۔ سر پرستی،الفت وارفتگی کی بہار تھی۔ ایک فریق کیلئے اذیت اور تکلیف۔ دوسرے کیلئے ہر جانب ہر طرف سے ریلیف ہی ریلیف۔ قیادت کی تاحیات نااہلی، بڑی تعداد میں امیدواروں کا اچانک ضمیر جاگ اٹھنا ٹکٹ لے کرواپسی۔آخر میں مقبول عام لیڈر شپ کو جیل قید۔ یہ درست ہے کہ سزا ایک عدالتی فیصلہ کی روشنی میں ہوئی۔ ان سب حالات میں ایک ہی بات مثبت ہے کہ ہر حال میں الیکشن ہوئے۔ اس سے بڑھ کر مثبت بات اور کیا ہو گی۔ یہی جمہوریت کی جیت ہے۔ جو کچھ بھی ہوا جمہوریت کے لبادے میں ہوا۔ اس کے دائرے اندر رہ کر ہوا۔ الیکشن کا پراسس جاری رہا تو ملاوٹ سے پاک انتخابات بھی ضرور ہوں گے۔ جلد یا بدیر۔ میری رائے میں بہت جلد۔ دائروں کا سفر ایک روز ضرور ختم ہو گا۔ الیکشن کا نتیجہ توقع کے مطابق آیا۔ ایک فریق آزاد تھا باقی پابندیوں میں جکڑے ہوئے۔ کسی کے پاؤں بندھے ہوئے تھے۔کسی کے ہاتھ کمرکے پیچھے جکڑے۔کسی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر میدان میں چھوڑ دیا گیا چلو بھاگو جتنا تیز بھاگ سکتے ہو۔ آزادہو۔ اب وہ بند آنکھوں کے ساتھ کتنا تیز اور کتنی دور بھاگتا۔ آخر گرنا ہی تھا سو گر گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے پاس قومی اسمبلی کی115 براہ راست نشستیں ہیں۔ جتنے ساز گار حالات پی ٹی آئی کو ملے ان حالات میں تو اس کو تاریخ کا سب سے بڑا مینڈیٹ ملنا چاہیے تھا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کو 64 سیٹیں ملیں۔ جو خاکسار کی نظرمیں تو انتہائی شاندار کار کردگی ہے۔ ورنہ جتنے نا ساز گار اور غیر موافق حالات تھے ان میں توتیس سے زیادہ سیٹیں نہیں ملنی چاہیے تھی۔اتنی سخت جان پارٹی کو موافق حالات ملتے تو پرفارمنس کیسی ہوتی؟۔مسلم لیگ (ن) کیلئے اس سے زیادہ اطمینان بخش بات اور کیا ہو گی۔ وہ مرکز میں دوسری بڑی پارٹی ہے۔جبکہ پنجاب میں وہ سب سے زیادہ نشستیں جیت چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت اس کی نہیں بن پائے گی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسا چمتکار کئی مرتبہ ہو چکا ہے۔ اب نامرادی کا تلخ گھونٹ پی کر مسلم لیگ (ن) کو بھی احسا س ہو گا شکست بے بسی کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔ انتخابات کے دوران پاک سر زمین پارٹی، جی ڈی اے، تحریک لبیک سمیت تمام جماعتوں کا کردار نشانہ پر آئی جماعتوں کی شکست کو یقینی بنانا تھا۔ اب وہ بھی زخم خوردہ ہیں اور واویلا کر رہے۔لیکن اب وہ ماضی کا حصہ ہیں۔ان کا کردار بس اتنا ہی تھا۔

اقتدار کیلئے جوڑ توڑجاری ہے۔ اقتدار پستوں کیلئے اب سورج مشرق سے نہیں بنی گالہ سے طلوع ہو گا۔ پی ٹی آئی باقی جماعتوں سے آگے ہے۔ کچھ روز پہلے قائد تبدیلی نے کامل اقتدار مانگا تھا۔ وہ تونہیں ملا۔ ان کو 172 کے جادوی ہندسے تک پہنچنے کیلئے ابھی ہاتھ پاؤں مارنا ہونگے۔ ایم کیو ایم جو کبھی ہدف تنقید تھی۔مسلم لیگ (ق) جو ان کے بقول ڈاکو پارٹی تھی ان کو ساتھ ملانا ہو گا۔ ان میں سے کوئی فی سبیل اللہ اپنے ووٹ جھولی میں نہیں ڈالے گا۔نیا پاکستان بنانے کیلئے بہت کچھ ایسا کرنا ہو گا جو پرانے پاکستان میں ہوا کرتا تھا۔


ای پیپر