عمر ا ن خا ن کی جیت کے بعد
29 جولائی 2018 2018-07-29

عا م انتخا با ت کے حتمی نتا ئج کا ا علان ہو چکا۔ عمرا ن خا ن کے آہند ہ کا و ز یر اعظم بن جا نے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش با قی نہیں بچی۔ اب بظا ہر سب ہر ا ہر انظر آ نے لگا ہے۔ تا ہم مسلم لیگ ن کے سا تھ ساتھ دیگر سیا سی پا ر ٹیو ں کے انتخا با ت کے نتا ئج کے با رے میں تحفظا ت سے نظر یں چرا نا الیکشن کمیشن کے اپنے بنیا د ی فر ا ئض سے رو گر د ا نی کر نے وا لی با ت ہو گی۔ ا لبتہ گو بگو کے سے عا لم میں خو د مسلم لیگ ن اپنا آ ہند ہ کا لا نحہ عمل طے کر نے میں قا صر نظر آ رہی ہے۔ نتا ئج کے مطا بق پاکستان تحریکِ انصاف اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس نے قومی اسمبلی کی 118 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ( ن ) رہی جس نے 62 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر رہی۔ اس نے 42 سیٹیں اپنے نام کی ہیں۔ حتمی اور مکمل نتائج سامنے آئیں گے تو بس دو چار سیٹوں کی ہی کمی بیشی ہوگی۔ پارٹی پوزیشن دیکھیں تو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی، دونوں متحد ہوکر حکومت بنانے کی کوشش کریں تو یہ ممکن نہ ہوگا۔ یہی وہ وجہ ہے جس سے یہ واضح ہوگیا کہ ملک میں اگلی مرکزی حکومت تحریک انصاف بنائے گی؛ چنانچہ اس کے سربراہ عمران خان نے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انتخابی مہم کے دوران پیش کردہ منشور اور پروگرام پر عملدرآمد کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے خلاف سیاسی، انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، وہ وزیراعظم ہاؤس کے بجائے منسٹرز انکلیو میں رہنا پسند کریں گے اور یہ کہ وہ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست کا نظا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور وہ یہ ثابت کر کے دکھائیں گے کہ ان کی حکومت کی تمام پالیسیاں کمزور طبقے کے لیے بنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کریں گے، ریاستی اداروں کو مضبوط کیا جائے گا، احتساب ان سے شروع ہوگا اور نچلی سطح تک جائے گا، سادگی اختیار کی جائے گی اور ارکانِ اسمبلی کے خرچے کم کیے جائیں گے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ تحریکِ انصاف کی سربراہ کی یہ ساری سوچیں، پالیسیاں، ارادے، جذبہ اور جنون کا جائزہ لیتے ہوئے عمران خان کو ایک بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ ان کی پارٹی کو جو کامیابی ملی وہ دراصل ان کے اس نظریے کی کامیابی ہے جس کا اظہار وہ کچھ عرصہ پہلے تک پارٹی کے جلسوں، جلوسوں اور اپنے میڈیا انٹرویوز میں کرتے رہے تھے۔ یہ نظریہ وطنِ عزیز کے عوام کی سوچ سے قریب تر تھا کہ ستر برس کے تجربات کے بعد اب پاکستان میں تبدیلی آنی چاہیے، ان خوابوں کو تعبیر ملنی چاہیے جو اس مملکتِ خداداد کے حصول کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں نے اپنی آنکھوں میں بسائے تھے، اور جن کی خاطر انہوں نے تکلیفیں سہیں اور مصائب کا سامنا کیا۔ یہ خواب اور یہ نظریہ تھا عام آدمی کی حالت بدلنے کا، وطن عزیز کے وقار کو بلند کرنے کا۔ لوگوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں ایک عرصے سے نافذ اور ائج سرخ فیتے کے نظام سے نجات دلا نے کا۔ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا۔ ایک نیا پاکستان تشکیل دینے کا۔ خصوصی طور پر نوجوان نسل نے عمران خان کی باتوں کو سنا، ان کے پاکستان کی حالت بدلنے کے نظریے کو اپنے دل سے قریب تر پایا اور جوق در جوق تحریکِ انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران جب عمران خان نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کا سلسلہ شروع کیا جن سے خائف ہونے کی وجہ سے ہی عوام دوسری سیاسی جماعتوں سے متنفر ہوئے تھے، تو ان پر سخت تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ عمران خان اپنے نظریے سے منحرف ہوگئے ہیں، اور اپنی جماعت کے لیے انتھک کام کرنے والوں کو نظر انداز کرکے انہوں نے الیکٹ ایبلز کو پارٹی ٹکٹ دینا شروع کردیئے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے حامیوں کا خیال تھا کہ الیکٹ ایبلز کے بغیر بھی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ الیکشن کے نتائج نے ثابت کیا کہ عوام کی یہ سوچ درست تھی۔ جن سیاسی رہنماؤں کو عمران خان نے الیکٹ ایبلز سمجھ کر اپنے ساتھ ملایا، وہ سارے برج الٹ گئے اور ان میں سے ا ِکا دُکا ہی منتخب ہوکر تحریکِ انصاف کو اکثریت دلانے کا سبب بنے۔ یہ ایک طرح سے اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ عمران خان اپنے نظریے پر قائم رہے تو نہ صرف عوام ان کے ساتھ رہی اور ان کے حامی رہیں گے بلکہ یہی نظریہ انہیں مزید کامیابیاں دلانے کا باعث بھی بنے گا۔جہاں تک عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب کا تعلق ہے تو انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا، دراصل وہ پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔ ہر پاکستانی اس بات کا خواہاں ہے کہ ملک کے معاشی حالات بہتر ہوجائیں، سب کو بہتر اور اچھا روزگار میسر آئے، توانائی کا بحران ختم ہو اور صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت بھی ترقی کرے، فروغ پائے، ملکی و غیر ملکی قرضے حاصل کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے اور متوسط طبقے کے بجائے امیروں سے ٹیکس اکٹھے کیے جائیں، غربت میں کمی آئیے اور سب کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے۔ عمران خان اگر کیے گئے وعدوں میں سے آدھے بھی پورے کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکے گی کہ ہمارا ملک حقیقتاً ٹیک آف کی پوزیشن میں آجائے گا۔ یہ ایک کارِ دشوار ہے، لیکن عمران خان کی لگن، عزم اور جذبہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کر دکھانے کی ہمت اور ولولہ رکھتے ہیں۔ہم ایک امتحان میں سرخرو ہوئے، ایک اور منتخب حکومت کی بنیاد بھری گئی، ہماری جمہوریت ایک درجہ اور بلند ہوگئی۔ تحریکِ انصاف ایسے حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے جارہی ہے جب متعدد کلیدی ادارے تاریخی تنزل کا شکار ہیں اور معیشت کا یہ حال ہے کہ مجموعی ملکی قرضوں کا حجم ساڑھے چوبیس ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے آخر تک ملک کے اندرونی اور بیرونی قرضے مجموعی قومی پیداوار کے 74 فیصد تک پہنچ جائیں گے، حالانکہ قانون کے مطابق قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیدوار کے 60 فیصد تک رہنا چاہیے۔ یہ قرضے قومی خزانے پر بڑا بوجھ ہیں۔ قرضوں، ان پر واجب الادا سود اور برآمدات کے حوالے سے ادائیگیاں زرِ مبادلہ کے قومی ذخائر کو قابل اطمینان حد تک قائم نہیں دہنے دیتیں۔ دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم نہیں ہو پارہی اور ان دنوں ڈالر روپے کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں از خود اضافہ ہورہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں؛ چنانچہ اس جانب خصوصی توجہ دینا پڑے گی۔ تحریکِ انصاف کی کامیابی یقیناًاس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام سابق حکمرانوں سے الرجک تھے اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ لیکن یہ منزل نہیں، محض آغازِ سفر ہے۔ عمران خان کو حالات و واقعات کو درست نہج پر لانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ تا ہم جیسا کہ میں نے کالم کے آ غا ز میں عر ض کیا ہے، اس سب کے سا تھ ساتھ ا لیکشن کمیشن کو چا ہیے کہ وہ مسلم لیگ ن اور دیگر سیا سی پارٹیو ں کے نتائج کے با ر ے میں تحفظا ت کو پسِ پشت ڈ ا لنے کی بجا ئے انہیں فو ری طو ر پر د و ر کر ے۔


ای پیپر