بند کمروں کے انتخابی نتائج
29 جولائی 2018 2018-07-29

میر کتنے سادہ تھے اتنا بھی نہ سمجھ سکے کہ 22 سالہ طویل المیعاد منصوبہ 5 سالہ قلیل المیعاد منصوبہ کے ذریعے مکمل کرلیا گیا، وہ اسے مذاق اور خوباں کی خوباں سے چھیڑ چھاڑ سمجھتے رہے اور پگ کو کرپشن کے ان گنت داغ لگوا کر اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔ جہاں ایک مخلص دوست نے ملاقات کے دوران انہیں مشورہ دیا کہ
اگر بربادیوں کے غم سے فرصت ہو تو یہ سوچو
تمہیں بربادیاں دینے کی سازش کون کر تا تھا
کتنی صدیوں میں داغ دھلیں گے اوپر والا جانے یا ’’اوپر والے‘‘ جانیں عدالتیں تو کرپشن ثابت نہ کرسکیں لیکن جلسوں اور ریلیوں میں تین سو بار تین سو ارب کی کرپشن کرپشن کی گردان کرنے والوں نے عوام کے ذہنوں میں زہر گھول دیا، نواز شریف کی ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دہراتے آواز بیٹھ گئی کروڑوں عوام نے ووٹ لینے والوں کو ہی عزت دی، جنہوں نے الیکشن جیت لیا سارے نجومی جھوٹے، سارے سروے غلط، اندازے بے بنیاد، صحیح کیا ہے؟ بند دروازوں کے انتخابی نتائج نے ظاہر کردیا تحریک انصاف 116نشستیں لے کر حکمران جماعت بن گئی ن لیگ 64 نشستوں تک محدود رہی تبدیلی کہاں آئی جدول بدل دیا گیا نظام کہاں بدلا چہرے بدل گئے 2013ء میں ن لیگ کی 123 نشستیں تھیں اور وہ فتح کا جشن منا رہی تھی، شنید ہے کہ شریف فیملی نے نوافل ادا کیے تھے ،2018ء میں کم و بیش اتنی ہی نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی، خاطر جمع رکھیں 35 نشستوں پر دوبارہ گنتی میں الٹ پلٹ ہوگا پیپلز پارٹی پہلے دوسرے نمبر پر تھی اب تیسرے پر آگئی، دم خم نہیں رہا لیڈر سر جوڑ کر بیٹھے آصف زرداری لیڈروں پر گرجے برسے، دس پندرہ سیٹیں کم ہونے پر لعن طعن کی، آخر میں حسب عادت ہوائی بوسہ لے کر مسکراہٹوں کے پھول برسا دیے، بلاول بھٹو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تاہم پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کرتے ہوئے دعا کی ہوگی کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے بھرے میں آ کر حلف نہ اٹھائے تاکہ وہ پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف بن جائیں،کسی نے کہا کہ ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘ آصف زرداری نے آئندہ پانچ سال سر جھکا کر چلنے کی خو اپنالی ہے سر اٹھائیں گے تو نیب طلب کرے گا، انتخابات ہوگئے عمران خان وزیر اعظم بن گئے ملک بھر میں جشن، صرف خاتون اول نے نوافل ادا کیے ہوں گے، الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے شفافیت ثابت کرنے کی حتی المقدور کوشش کی مگر وائے ناکامی جو پانچ سال تک ہاں میں ہاں اور نواز شریف کی ہاں میں ناں ملاتے رہے مولانا فضل الرحمان کی شکست انتقام ٹھہری لیکن سراج الحق، اسفند یار ولی اور آفتاب شیر پاؤ نے کیا قصور کیا تھا، بے ضرر، بے قصور لوگوں کو بھی نہ بخشا گیا مصطفی کمال اپنے ہو کے بھی تینوں سیٹوں سے ہار گئے اپنی انا کا قتل کرنے والے فاروق ستار نے بھی زندگی میں پہلی بار ہار کا مزہ چکھا تو تلملااٹھے ،کسی نے کہا ہارنے والوں کو رات بھر نیند نہیں آئی ہمارے محترم ریاض ساگر نے پیروڈی کی کہ ’’ہار کا ایک دن معین تھا، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘‘ انتخابات کی شفافیت پر چھوٹی بڑی تمام جماعتوں کے سنگین اعتراضات لیکن تھرڈ ایمپائر نے بلے بازوں کو مایوس نہیں کیا چار سال پہلے انگلی نہیں اٹھائی تھی لیکن سہج پکے سو میٹھا ہو کے بقول انتخابات میں دل خوش کردیا کتنے پاپڑ بیلنے پڑے، پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، جمائمہ تیس سال سے انتظار کر رہی تھی بالآخر مراد بر آئی پیغام میں ’’میرے پگلے پیارے ‘‘کہہ کر مبارکباد دی پاکستانی قوم سے کہا میرے بیٹوں کا باپ تمہارا وزیر اعظم بن گیا اور کیا چاہیے ،پاپڑ بیلنے کی بات چلی تھی ن لیگ کی ٹارگٹ کلنگ، قائد اور اس کی بیٹی اڈیالہ جیل کی کھولی میں ’’رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں‘‘
شرم و حیا کا احساس دلانے کے لیے خواجہ آصف مناسب سعد رفیق کے سر پر سپریم کورٹ کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، چیف جسٹس کے بقول لوہے کے چنے والے کو بھی طلب کیا جائے گا پانچ سال ریلوے کی ’’شاندار کارکردگی‘‘ ثابت کرتے رہے تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کیا کریں گے، اپوزیشن تنہا ن لیگ کے بس کی بات نہیں، پیپلز پارٹی کی مدد درکار ہوگی 110 یا 115 سیٹوں والی اپوزیشن موثر ثابت ہوسکتی ہے لیکن کہا نا کہ زرداری صاحب دیکھ بھال کر قدم اٹھائیں گے، اتحادی بھی بن سکتے ہیں اتحادی نہ بنے تو نومینز ایریا میں بیٹھ کر ’’تماشائے اہل کرم‘‘ دیکھتے رہیں گے ،کچھ دیر کے لیے اپوزیشن سے نظریں ہٹا کر دیکھیے ن لیگ کی شکست مقدر تھی، لکھی جا چکی تھی عمران خان نے 2013ء میں غلط نہیں کہا تھا کہ میرے ووٹر ابھی اسکولوں کالجوں میں پڑھ رہے ہیں ن لیگ کے ڈیڑھ کروڑ ووٹوں کے مقابلے میں 4 کروڑ سے زائد نوجوانوں نے کردار ادا کیا اگر یہ بات سچ ہے تو گلہ کس بات کا، ن لیگ نے تو احتجاج کے لیے بھی کارکن تیار نہیں کیے، عمران خان نے 4 کروڑ فدائین کا لشکر تیار کرلیا، اپوزیشن اس استدلال کو تسلیم نہیں کرے گی، دنگا فساد توہوگا، مظاہرے جاری رہیں گے پارلیمنٹ کے اندر باہر وہی کچھ ہوگا جو وہ کرتے رہے، لیکن کیا یہ گرد کا طوفان تھم سکے گا؟ منصوبہ سازوں نے اس پر بھی تو سوچا ہوگا الیکشن کے دوران نگرانوں کا ہاتھ سر پر رہا بعد میں نگراں کیسے بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے ہاں مفادات پر زد پڑی تو نہیں چھوڑیں گے تین بار دو تہائی اکثریت لینے والوں کو نہیں چھوڑا عبرتناک انجام سے دوچار کردیا، عقل والوں کے لیے مثالیں کافی ہیں، عقل سے کام لیں گے تو باقی رہیں گے۔ ’’لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل‘‘ جس دن دل کی بات سنی اسی دن سے زوال کی گھڑی شروع ہوجائے گی، بتا دیا گیا ہے سمجھا دیا گیا کہ جنہیں خاک میں ملا دیا گیا ہے انہیں خاک بھی نہ سمجھا جائے لیکن خاک ہی سے انسان بنتا ہے جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا، خاک بھی نہ سمجھنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری، اندھیروں کی خوشامد کرنے والوں سے ہوشیار رہنا لازم، عمران خان کا قوم سے پہلا خطاب بہتر سوچ کا حامل لیکن عملدرآمد ضروری، یہ بات بھی مد نظر رہے کہ عملدرآمد اتنا آسان بھی نہیں، بھارت سے دوستی کاعزم خطرناک، پوچھ کر کی جائے، نواز شریف اور دیگر 17 وزرائے اعظم کو دوستی کی خواہش ہی لے ڈوبی، انتخابات مکمل ہوئے نئے دور کا آغاز ہوگیا،’’ ہم دیکھیں گے، وہ دن کہ جس کا وعدہ تھا، جو روز ازل میں لکھا تھا، ہم دیکھیں گے‘‘ جب دیکھیں گے تو فیصلہ کریں گے۔


ای پیپر