عمران خان : پاکستان کو اقتصادی غلامی سے نجات دلائیں
29 جولائی 2018 2018-07-29

انتخابات کی بات بعد میں کریں گے ، پہلے ایک خوش خبری سن لیجیے

پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی روزنامہ کی29جولائی کو شایع ہونے والی ایک تاژہ ترین خبر کے مطابق ’ پنجاب کی نگراں حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے سربراہان اور عہدیداران نے اپنے اداروں سے وصول کی گئی زائد تنخواہیں واپس کرنے پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے۔ڈان نیوز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق صاف پانی کمپنی ساؤتھ کے وسیم اجمل 10 لاکھ 39 ہزار 500 روپے، قائداعظم سولر پاور کے افسر نجم احمد شاہ 9 لاکھ 20 ہزار روپے، پنجاب پاپولیشن انوویشن فنڈ کے جواد احمد قریشی 7 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے رہے۔ شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پنجاب چیف سیکریٹری اکبر خان درانی نے عدالت عظمیٰ لاہور رجسٹری میں تین رکنی بینچ کو بتایا کہ’ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) نے زائد تنخواہیں واپس کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت مانگی ہے‘۔چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ ’پنجاب صاف پانی کمپنی کے سی ای او کیپٹن (ر) محمد عثمان ماہانہ 10 لاکھ 30 ہزار روپے تنخواہ وصول کررہے ہیں‘۔چیف جسٹس نے تمام کمپنیوں کے سی ای اوز کو سمن جاری کرتے ہوئے ان افسران کی فہرست طلب کرلی جو 3 لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ وصول کررہے ہیں۔چیف سیکریٹری نے بینچ کو بتایا کہ کمپنیوں کے 346 سرکاری افسران کے نام قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیئے گئے ہیں اور نیب نے عدالتی حکم نامے کے تحت تفصیلات کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کے سیکریٹری نے ایک فہرست عدالت میں جمع کرائی جس میں وفاق اور پنجاب کے ان افسران کی تفصیلات موجود تھیں جو پبلک کمپنیوں سے ڈیپوٹیشن پر تھے۔چیف جسٹس نے دیگر تین صوبوں سے متعلق رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ افسران سے وصول کی جانے والی رقم بھاشا اور دیامر ڈیم کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ’عوام کے پیسوں کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

اب آئیے انتخابات کی جانب۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ 25 جولائی 2018ء کا انتہائی نازک ، حساس اور اہم دن سانحہ کوئٹہ کے علاوہ ملک کے ہزاروں پولنگ سٹیشنز پر خیر و عافیت سے گزرا۔ یورپی یونین اور دولت مشترکہ کے مبصرین کے مطابق ان انتخابات میں افواج پاکستان نے کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ افواج کے افسروں اور جوانوں نے ووٹرز اور انتخابی عملہ کی حتی المقدور مدد کی۔ کسی ایک جگہ سے بھی یہ شکایت موصول نہیں ہوئی کہ پولنگ سٹیشنز پر متعینہ افواج پاکستان کے جوانوں یا افسران میں سے کسی ایک نے ایک بھی ووٹر کو کسی ایک مخصوص جماعت کو ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالا ہو۔ پنجاب، کے پی کے، سندھ اور بلوچستان کے اکثر پولنگ سٹیشنز پر اگر انتخابات کے دن روایتی غنڈہ گردی ، ہلڑ بازی اور شور شرابا نہیں ہو سکا اور ووٹرز اطمینان اور امن و سکون کے ساتھ ووٹ ڈالتے رہے تو اس کی بڑی وجہ پولنگ سٹیشنز پر افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کی موجودگی تھی۔ میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ صحافتی بد دیانتی سے کام لیتے ہوئے یہ الزام بلا جواز عائد کر رہا ہے کہ پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اتوار 29 جولائی کے اخبارات کی خبروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے مکمل نتائج جاری کر دیئے ہیں۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی ہے۔ 2013ء کے انتخابات کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ووٹوں کی تعداد میں 88 لاکھ جبکہ پیپلزپارٹی کے ووٹوں کی تعداد میں 25 لاکھ کا اضافہ ہوا۔ البتہ (ن) لیگ کے 22 لاکھ ووٹ کم ہوئے۔ پی ٹی آئی پارلیمان میں عددی اکثریت رکھنے والی سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس تناظر میں تجزیہ نگار وثوق اور تیقن کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ منتخب وزیراعظم عمران خان ہوں گے۔ متوقع وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان کو اندرون و بیرون ملک اہم شخصیت کی جانب سے مبارکبار کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ پرسوں سعودی عرب کے سفیر نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور اُنہیں انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فاتح جماعت کے رہنما نے انتخابات جیتنے کے 48 گھنٹے بعد وکٹری سپیچ کی۔ عمران خان کی وکٹری سپیچ ایک سیاستدان کی نہیں بلکہ ایک سیاسی مدبر کی جانب سے پیش کیا جانے والا اپنی حکومت کے پانچ سالہ آئینی دورانیہ کا ایک مختصر مگر جامع لائحہ عمل تھا۔ متوقع وزیراعظم کی وکٹری سپیچ کی تعریف (ن) لیگ کے رہنما حمزہ شہباز نے بھی کی۔ حسن وہی ہوتا ہے جس کا اعتراف سوتنیں بھی کریں۔ عمران نے اپنی وکٹری سپیچ میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ایک تازہ خبر کے مطابق متوقع وزیراعظم نے فضاؤں میں پھیلی ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کسی مخالف سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک بنانے سے اجتناب کرے گی۔ ان کے الفاظ ہیں کہ ’کسی سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک نہ بنایا جائے‘۔ ادھر پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف نے بھی حکومت سازی کے لیے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ یہ ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے آزادی امیدواروں سے رابطے کرے۔ اسی ضمن میں ہفتے کو 4 آزاد ارکان اسمبلی نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ یہ 4 آزار ارکان بارش کے ابتدائی قطرے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ حکومت سازی کے حوالے سے پاکستانی سیاست کی پرانی روایت ہے کہ انتخابات کے بعدفاتح جماعت اپنی حریف سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک یا پیٹریاٹ گروپ بنانے کے عمل کو اپنا حق جانتی ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا یہ کہنا لائق توجہ ہے کہ عام انتخابات میں چونکہ خواتین کا ٹرن آؤٹ کم رہا ہے اس کے باعث پی ٹی آئی کو کم از کم تین نشستوں کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام یہ امید رکھتے ہیں کہ حکومت سازی کے عمل کے بعد پی ٹی آئی کے قائد جناب عمران خان ملک میں اعلیٰ جمہوری اقدار و روایات کو فروغ دیں گے اور انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جو وعدے کیے ہیں، پانچ سال کے دوران انہیں پورا کرنے کے لیے رات دن محنت کریں گے۔ پاکستان بین الاقوامی قرضوں کی زنجیر توڑنے میں کامیاب ہو گااورملک کی داخلی معیشت ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہو گی۔ ان کے دور میں اگر پاکستان آئی ایم ایف اوردیگر عالمی اداروں کی اقتصادی غلامی سے نجات حاصل کر لے تو یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ ان کی حکومت کا تسلسل 2023 ء کی حکومت کے بعد بھی جاری رہے گا۔


ای پیپر