(ن) لیگ کو مذہبی جماعتوں سے چھیڑ چھاڑ لے ڈوبی
29 جولائی 2018 2018-07-29

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ الیکشن 2018کا مرحلہ بخیروخوبی انجام کو پہنچ چکا۔ جیتنے والی پارٹی تحریک انصاف وفاق اور تین صوبوں میں حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ہارنے والے نتائج تسلیم کرنے بجائے’’ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ والی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں۔اجلاسوں پر اجلاس ہو رہے ہیں اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں کی جانب سے اب اسمبلیوں میں حلف نہ اٹھانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔حالیہ الیکشن میں کئی برج الٹ گئے ہیں۔ ایسے علاقوں سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سے ماضی میں کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پیپلز پارٹی کو لیاری کے عوام نے مسترد کر دیا۔ ایم کیو ایم کا کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ مولانا فضل الرحمن جو ہر اسمبلی کا جزو لاینفک سمجھتے جاتے تھے دونوں سیٹوں سے ہار کر حکومت مخالف تحریک کی قیادت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی آبائی حلقے سے اپنی سیٹ نہ بچا سکے۔اسفند یار ولی، محمود خاں اچکزئی، چوہدری نثار علی خان،سعد رفیق، عابد شیر علی، رانا افضل، شاہ محمود قریشی، یوسف رضا گیلانی،اویس لغاری، ذوالفقار کھوسہ اور ان جیسے کئی دیگرلیڈروں کوبھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انتخابی نتائج پرہر کوئی اپنے اپنے انداز میں سوچ رہا ہے۔ ( ن ) لیگ کو اپنی ناکامی کا یقین نہیں آرہا۔ سب کو سانپ سونگھ چکا ہے۔ہر طرف دھاندلی کا شور مچانے اور انتخابی نتائج کے حوالہ سے بے بنیاد اعتراضات کو ہوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن شکست کی اصل وجوہات کا جائزہ نہیں لیا جارہا۔ اگر ہم( ن ) لیگ کی شکست پر ہی غور کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ پاکستانی قوم نے اس کے نئے نویلے بیانیہ کو بری طرح مسترد کر دیا ہے۔ اگرچہ اس الیکشن میں روایتی مذہبی جماعتیں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز لیگ کومذہب مخالف اقدامات اور مذہبی جماعتوں سے چھیڑچھاڑہی لے ڈوبی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر اور خود کو سیکولر ثابت کرنے کی بہت کوشش کی۔نظریہ پاکستان کو قوم کے ذہنوں سے محو کرنے کی کوششیں کی گئیں اورکہا گیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان محض ایک لکیر کا فرق ہے جبکہ دونوں ملکوں کے عوام ایک جیسے ہیں۔ان کے کلچراور رہن سہن میں کوئی خاص فرق نہیں۔ جیسے بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں کے لوگ زندگی بسر کرتے ہیں ویسی ہی ہم کرتے ہیں۔ نواز دور میں تعلیمی نصاب سے نظریہ پاکستان، سیرت رسول ﷺ ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اورفاتح اسلامی جرنیلوں کے واقعات کھرچ کھرچ کر نکال دیے گئے اور پھر اسی پر بس نہیں ‘ عقیدہ ختم نبوت قانون پر بھی مذموم ہاتھ ڈالا گیااور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بھی سخت نقصان پہنچایا گیا۔ سابق وزیر اعظم نے پوری قوم میں افواج پاکستان، عدلیہ اور دفاعی اداروں کیخلاف نفرتیں پروان چڑھانے کی کوششیں کیں۔ وہ یہ بات بھول گئے کہ لوگ سیاسی جماعتوں کیخلاف تو ان کا ساتھ دیں گے لیکن وطن عزیز کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کیخلاف جس کسی نے بھی محاذ آرائی کا ماحول پیدا کیا پاکستانی قوم نے اسے کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ نواز شریف اور ان کی کابینہ کے بعض لوگ اپنے دور اقتدار میں نظریہ پاکستان سے کھلواڑ کرتے رہے لیکن شاید انہیں یاد نہیں رہا کہ پاکستان میں بسنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جن کے آباؤ اجداد نے قیام پاکستان کیلئے اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ کسی کے بڑے کلکتہ ،حیدر آباد سے آئے تو کسی نے ہریانہ سے ہجرت کی۔کوئی گورداس پور، فیروز پوراور امرتسرسے آیا تو کسی نے نئی دہلی سے پاکستان کا رخ کیا۔ یہ پوری ایک تاریخ ہے جسے کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پروپیگنڈا بھی انتہائی گمراہ کن ہے کہ نظریہ پاکستان کی ضرورت اس دور میں تھی آج کے دور میں حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایسی بات قطعا نہیں ہے۔پاکستان جس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا ان پر عمل درآمد کئے بغیر کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جن کے بزرگوں نے تحریک پاکستان میں لازوال قربانیاں پیش کی ہیں اور جو نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان کا نعرہ بلند کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں وہ پاکستانی حکمرانوں کے نت نئے قسم کے بیانیے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ یہ تصور درست نہیں ہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاست دم توڑ چکی ہے۔ ہاں البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ روایتی مذہبی سیاستدان کسی حد تک ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں اور یہ بھی ان کی اپنی غلطی ہے۔حالیہ الیکشن کا جائزہ لیں تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے 46لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے ہیں۔تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ جیسی نئی مذہبی جماعتوں نے ایک ایک صوبہ میں لاکھوں ووٹ حاصل کئے ہیں۔درجنوں حلقے ایسے ہیں جہاں صرف ان مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی بدولت نواز لیگ نے شکست کھائی ہے جبکہ یہ سارا ووٹ ہمیشہ ( ن ) لیگ کے کھاتے میں ہی رہا ہے۔ ان جماعتوں کے کارکنان نہ صرف انہیں ووٹ ڈالتے رہے بلکہ انتخابات کے دوران ان کی مہم بھی چلاتے رہے تاہم آج ( ن ) لیگی عہدیداران ضرور غور کرنے پر مجبور ہوں گے کہ اسلام مخالف رویہ اختیار کر کے وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں؟۔

( ن ) لیگ اور مذہبی جماعتوں کا شروع دن سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ روس جب اس خطہ میں آیا اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشیں عروج پر تھیں تو آپا نثار فاطمہ اس طوفان کے سامنے بند باندھنے کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ صف اول میں تھیں لیکن ان کے بیٹے اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے پاکستان کی سرزمین ہی مذہبی جماعتوں کیلئے تنگ کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح میاں محمد شریف نے بھی ہمیشہ اسلام پسندوں کا ساتھ دیا۔ وہ خود بھی ایک مذہبی آدمی تھے اور دینی قوتوں کو پسند کرتے تھے لیکن ان کے بیٹے اپنے باپ کے نقش قدم پر نہیں رہے۔ نواز شریف اورچوہدری احسن اقبال جیسے لوگوں نے یہی کوشش کی کہ ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے وہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول بن جائیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کی صفائی کے نام پر الیکشن میں اپنا صفایا کروا بیٹھے ہیں۔ رواں ماہ ہونے والے الیکشن اس لحاظ سے یادگار رہے ہیں کہ اس میں ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک جیسی نئی مذہبی جماعتوں نے کئی حلقوں میں نمایاں ووٹ حاصل کرکے بھرپور انداز میں اپنی نمائندگی کا احساس دلایاہے۔مردمجاہد حافظ محمد سعید کے صاحبزادے حافظ طلحہ سعید نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا اور علاقہ کے معروف سیاستدان عامر سلطان چیمہ اور ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی کے مقابلہ میں بارہ ہزار ووٹ حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح ملک کے دیگر علاقوں میں بھی حافظ خالد ولید اوردیگر امیدواران نے بھی ہزاروں ووٹ حاصل کئے ۔ یہ ایسی انتخابی مہم تھی کہ جس میں ملک کے کونے کونے میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ اور اللہ اکبر کے نعرے گونجتے رہے۔ ملی مسلم لیگ نے اپنی انتخابی مہم کا ماٹو ہی نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان اور خدمت انسانیت کے نعرہ کو بنا رکھا تھا۔بہرحال اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان دھاندلی کے الزامات لگا کر پورے سسٹم کی بساط لپیٹنے کی باتیں کرنے کی بجائے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کریں اور اسلام اور مذہبی جماعتوں سے چھیڑ چھاڑ کی بجائے نظریہ پاکستان ، عقیدہ ختم نبوت اور کشمیریوں کی عزتوں و حقوق کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جائے۔اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ضرورت اتحادویکجہتی کا ماحول پید اکرنے کی ہے تاکہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشیں ناکام بنائی جاسکیں۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں کو اپنے اس فریضہ کی ادائیگی میں کسی طور پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔


ای پیپر