انتخابات اور حالات
29 جولائی 2018 2018-07-29

افواہوں اور خدشات کے برعکس بروقت انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی جس کا مطلب ہے کہ اتحادی حکومت بنانے پر مجبور ہوگی اور اپنے منشور پر سوفیصد عمل کرنے سے معزور رہے گی کیونکہ اتحادی جماعتوں کی اپنی ترجیحات ہوں گی جن کی حمایت کھونے کے عمران خان متحمل نہیں ہوسکتے ایسی صورت میں اقتدار سے محروم ہوسکتے ہیں اس لیے انھیں مصلحت کی راہ پر چلنا پڑے گا اور ہر جماعت کو للکارنے کی پالیسی کو خیر باد کہنا ہوگا۔

انتخابی نتائج میں تاخیر پر ن لیگ ،پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان،عوامی نیشنل پارٹی ،ایم کیو ایم سمیت کئی جماعتیں تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں یہ موقف حقائق کے مطابق نہیں سچ یہ ہے کہ 2017 میں ہونے والی ترامیم تاخیر کی وجہ بنی ہیں مثال کے طور پر قبل ازیں پریذائیڈنگ آفیسرفارم 15 پر رزلٹ تیار کرتا تھا اور آراو فارم17، 16 میں اندراج کرتا مگر نئی ترامیم کی وجہ سے اب پریذائیڈنگ آفیسر فارم 45 پر رزلٹ تیار کرتا ہے جبکہ آراو فارم 48.49 استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے نتائج سُنانے میں تاخیرہوئی کیونکہ جو اساتذہ پہلے الیکشن ڈیوٹی کر چکے تھے وہ بھی کنفیوز ہوئے اور جو پہلی بار الیکشن ڈیوٹی کر رہے تھے ناتجربہ کاری کی وجہ پریشان نظر آئے کوئی اگر یہ کہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے غلط بات ہے الیکشن عمل سو فیصد نہیں تو بھی ننانوے فیصد شفاف ہوئے ہیں فوج یا الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور دیانتداری ہر جگہ واضح نظر آئی مگر کرپشن واقربا پروری کے الزامات کی بنا پر جن کی عوام میں ساکھ ختم ہوئی اور مقبولیت متاثر ہوئی وہی الیکشن عمل پر سوالات اُٹھا رہے ہیں لیکن دھاندلی کی باتوں میں صداقت کی رمق تک نہیں۔

مولانا فضل الرحمٰٰن تو اے پی سی بلا کر حلف نہ اُٹھانے کی تجویز دے چکے ہیں اور نئے الیکشن کے لیے تحریک چلانے کی تجاویز دیتے پھر رہے ہیں یہ وہی شخص ہیں جو عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے کوملکی معیشت کے خلاف سازش کہتے تھے مگر اپنی شکست پراُسی روش پر چلنے اورہر قسم کے احتجاج پر تیار ہیں وہ عمران خان کی نفرت میں آخری حد تک جا چکے ہیں حالانکہ فاٹا انضمام میں رکاوٹ نہ بنتے تو ایسی شکست سے بچ جاتے لیکن اپنے محاسبے کی بجائے وہ شکست کا زمہ دار دوسروں کو ٹھہرا رہے ہیں اُن کی حالت کے پیشِ نظرکہہ سکتے ہیں کہ وہ آئی سی سی سے مطالبہ کربیٹھیں کہ1992 کا ورلڈ کپ بھی دوبارہ کرایا جائے۔ سیاسی قیادت میں تعمیری اور مثبت سوچ کے فقدان کی بنا پر ہی ملک میں سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہورہا مولانا کی تجویز سے ابھی تک ن لیگ اور پی پی اتفاق نہیں کررہی جس کی کئی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ ن لیگ کو خدشہ ہے کہ اگر نئے الیکشن ہوتے ہیں تو ممکن ہے وہ موجودہ نشستوں جتنی تعداد بھی حاصل نہ کر سکے اسی لیے وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے پر رضا مند ہے جبکہ پی پی کو سندھ حکومت سے محروم ہونا کسی طور گوراہ نہیں تیسری وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو کرپشن کیسز کا سامنا ہے اوردونوں پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اسی لیے دونوں جماعتیں مل کر چلنے کا عندیہ دے رہی ہیں اورایک دوسرے کے تحفظ پر متفق ہیں اور نیب والیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنا کر دراصل بلیک میلنگ کی راہ پر گامزن ہیں لیکن بے لاگ احتساب کا سلسلہ رُکتا نظر نہیں آتا عین ممکن ہے اگلے چند دنوں تک مزید کچھ سیاسی لوگ گرفتار ہوجائیں ۔

عمران خان انتخاب جیت کر خوش ہیں اور مرکز سمیت پنجاب، کے پی کے میں حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہیں خلاف توقع وہ کے پی کے میں دوسری بار حکومت بنا نے جارہے ہیں یہ پختونوں کی طرف سے تحریک انصاف کی کارکردگی کا اعتراف ہے لیکن پیش نظر رکھنے والی بات یہ ہے کہ اب وہ پورے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے جا رہے ہیں اِس لیے ہر قدم پر اُنھیں احتیاط کرنا ہو گی قرضوں کا عفریت ملکی معیشت کھا رہا ہے جن کی ادائیگی کے لیے ٹیکس نیٹ اِس انداز میں بڑھانا ہو گا کہ عام آدمی زیادہ متاثر نہ ہو علاوہ ازیں برآمدات میں کمی اور درآمدات میں روز بروزہوتے اضافے پر قابو پانا ہوگا کیونکہ خسارے میں اضافے سے قرضوں کا پہاڑ بن رہا ہے جس کا خاتمہ نئی حکومت کا امتحان ہو گا گردشی قرضے الگ دردِ سر ہوں گے اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے آزمودہ دوست سعودی عرب اور چین نئی حکومت سے ہر قسم کا تعاون کرنے پر آمادہ ہیں سعودی سفیر کی ملاقات اور چین کی طرف سے تعاون کا عزم خاصہ حوصلہ افزا ہے مگر بہتری خود انحصاری سے آئے گی نئی حکومت نے جتنے وعدے کیے ہیں اگر نصف بھی پورے کر گئی تو اگلا الیکشن با آسانی جیت جائے گی وگرنہ دانت نکوسے مضبوط اپوزیشن اُسے کسی کروٹ چین نہیں لینے دے گی اِس لیے پی ٹی آئی کو پہلے سو دن میں وعدے پورے کرنے کی طرف پیش قدمی کرنا ہو گی وگرنہ نئی حکومت ابتدا میں ہی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے ۔

مسلم لیگ ن کوشش کے باوجود پنجاب کے اقتدارسے محروم ہوتی نظر آرہی ہے نواز شریف کوآمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر سزا ہو نا وجہ بنی ہے یہ رسوائی پوری جماعت کو ڈبونے کا باعث بن رہی ہے فوج مخالف بیانیہ کی وجہ سے صوبے میں بڑی جماعت ہونے کے باوجود کوئی اُس کی طرف تعاون کا ہاتھ نہیں بڑھا رہا آزاد منتحب ہونے والے ممبرانِ اسمبلی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی طرف جارہے ہیں اس لیے تحریک انصاف باآسانی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اگر چوہدری پرویز الٰہی جیسا تجربہ کار شخص اگر وزیراعلٰی بنتا ہے تو شریف خاندان کے ہمرکاب لوگ فارورڈ بلاک بنا سکتے ہیں جو شریف خاندان کی سیاست کے لیے مزید نقصان دہ ہوگا ممکن ہے پنجاب میں مسلم لیگ کو واضح اکثریت مل جاتی لیکن عمران خان کو لاڈلہ کہہ کر اُس نے خود ہی اپنی شکست کا سامان کر لیا جس کے اثرات عرصہ تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ المختصر جو بھی ہو صاف شفاف الیکشن میں کوئی کلام نہیں لیکن پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں کارکردگی دیکھ کر ہی کچھ کہا جاسکتا ہے ابھی تو قرضوں کے باجھ تلے دبی معیشت اور بڑھتی مہنگائی وبے روزگاری عمران خان کی راہ دیکھ رہی ہیں۔


ای پیپر