عمران خان : انٹی کرپشن موومنٹ کا ہیرو
29 جولائی 2018 2018-07-29

الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی ) نے انتخابات 2018 میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے 56 گھنٹے بعد مکمل عبوری نتائج جاری کردیے۔ای سی پی کے کی جانب سے غیر حتمی سرکاری نتائج میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 270 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف 115 نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) 64 نشستیں لے کر دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) 43 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری غیر حتمی سرکاری نتائج میں متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے ) قومی اسمبلی کی 12 جبکہ متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان 6 نشستیں جیتے میں کامیاب ہوگئی۔اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) اور نئی بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی ( بی اے پی) 4، 4 نشستیں جیت سکی جبکہ سندھ میں بننے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) صرف 2 نشستیں حاصل کرسکی۔الیکشن کمیشن کے غیر حتمی سرکاری نتائج کے مطابق اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی ) ایوان زیریں میں 3 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) صرف ایک نشست جیتے میں کامیاب ہوئی۔اسی طرح عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل )، پاکستان تحریک انسانیت اور جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) بھی قومی اسمبلی کی ایک ایک نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔قومی اسمبلی کی 270 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں 12 نشستیں آزاد امیدوار بھی جیتنے میں کامیاب رہے، جو وفاقی حکومت بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری عبوری نتائج میں کچھ تبدیلی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ قومی اسمبلی کے کم از کم 5 حلقوں پر دوبارہ گنتی ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد حتمی نتائج تبدیل ہوسکتے ہیں۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی 272 میں سے 2، پنجاب اسمبلی کی 297 میں سے 2، سندھ اسمبلی کی 130 میں سے ایک، خیبرپختونخوا اسمبلی کی 99 میں سے 2 اور بلوچستان اسمبلی کی 51 میں سے ایک نشست پر الیکشن ملتوی کیے گئے تھے، جو اب ضمنی انتخابات کے ساتھ ہوں گے۔تحریک انصاف کی عام انتخابات 2018ء میں شاندار کامیابی کے ساتھ ہی وہ پہلی مرتبہ وفاق میں حکومت بنانے میں پوزیشن میں آگئی ہے اور پارٹی چیئرمین عمران خان ممکنہ طور پر اگلے وزیر اعظم پاکستان ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی ایک کرکٹر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کرنے والے عمران خان عالمی کپ جیتنے والے کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم بننے کا منفرد اعزاز حاصل کر لیں گے۔تاہم عمران پہلے کرکٹر نہیں جنہوں نے سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا بلکہ ان سے قبل اور ان کے بعد بھی متعدد کرکٹرز نے کھیل کے میدان کو خیرباد کہنے کے بعد سیاسی میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ان کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے سابق وزیر اعظم ڈگلس ہوم، سابق سری لنکن کپتان ارجنا راناٹنگا، منصور علی خان پٹودی اور دیگر شامل ہیں جبکہ بیلن ڈی اور جیتنے والا ایک ایسا فٹبالر بھی ہے جو اس وقت اپنے ملک کا صدر ہے۔ یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ انتخابات کے پرامن انعقاد اور شفاف عمل میں قوم کی بھرپور دلچسپی اس کے جمہوریت اور شفاف انتخابی عمل پر ا عتماد کی مظہر تھی۔ حبس زدہ ماحول ، بارش اور شدید گرمی کے باوجود چترال سے پشاور تک ووٹرز گھروں سے جوق در جوق نکلے اور اپنے پسند کی جماعتوں کے امیدواروں کو ووٹ دیے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتیں 2014ء سے عمران خان کی جارحانہ کردار کشی کر رہی تھیں۔ ن لیگ کی حکومت ، اس کے میڈیا سیل،زرخرید میڈیا ہاؤسز اور بھاری اعزازیے وصول کرنے والے دانشوروں ، تجزیہ کاروں اور دانشوروں نے پانچ برسوں تک عمران خان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔ یہاں تک کہ ریحام خان کو بھاری رقم دے کر عمران کے خلاف کتاب تک لکھوائی گئی۔ نامی گرامی اینکر پرسن نام لے لے کر ان کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلاتے رہے۔ نوبت بایں جا رسید کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی عمران کا راستہ روکنے کے سرگرم عمل رہے۔ تمام تجزیے، تمام تخمینے، تمام تبصرے غلط ثابت ہوئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کامیابی عمران خان کو نہیں ان کے ثبات اور غیر متزلزل مؤقف کو ملی۔ ن لیگ کے حامی میڈیا ہاؤسز کے اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کے شور شرابے کے باوجود عمران خان نے کرپشن ،کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے خلاف پرجوش تحریک جاری رکھی ۔ عوام کی نگاہوں میں اس کا امیج انٹی کرپشن موومنٹ کے ہیرو کا بن گیا۔ عوام نے اس کی باتوں کو سچ جانا اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے اسے ووٹ دیے تاکہ وہ وہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بناسکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ن لیگ اور عمران کی دیگر مخالف جماعتوں اے این پی، جے یو آئی (ایف)محمود خان اچکزئی اور دیگر کا جھوٹ پر مبنی بدبودار پراپیگنڈا 25 جولائی پولنگ ڈے کو ووٹرز نے مسترد کردیا۔ شہباز شریف کراچی اور سوات سے ہار گئے، اسفند یار ولی خان کو شکست ہوئی،محمود خان اچکزئی بلند بانگ دعووں کے باوجود ناک آؤٹ ہوگئے اور مولانا فضل الرحمن کو دونوں حلقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سچ ہے پی ٹی اآئی نے سیاست کے پرانے پنڈتوں کو بتادیا کہ ’پرانی سیاست گری خوار ہے۔۔۔زمیں میر و سلطاں سے بیزار ہے‘۔ ن لییگ کا نا ناقابل تسخیر تصور کیا جانے والا پنجاب بھی ان سے نالاں اور ناراض دکھائی دیا۔ ووٹرز نے پیغام دیدیا کہ ان کے دل صرف موٹر ویز ، انڈرپاسز، فلائی اوورز ،میٹرو بس پراجیکٹس، اورنج ٹرین منصوبے سے نہیں جیتے جاسکتے ۔ ان کی اصل ضرورت صاف پانی، صحت، رہائش کی سہولیات، ہسپتالوں کے جال ہیں۔ وہ مہنگائی ، غربت اور بیروزگاری ، بد عنوانی اور رشوت ستانی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عمران کی انگلیاں عوام کی نبضوں پر تھیں۔ اس کا اعلان صرف اتنا تھا کہ عوام نے اسے موقع دیا تو وہ وہ تمام کرپٹ لیڈرز کی بیرون ملک موجود لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کو یقینی بنائے گا اور قومی خزانے پر شب خوان مارنے والے سیاستدانوں اور ماضی کے لٹیرے حکمرانوں کے خلاف بلا امتیاز احتسابی عمل کو سرعت سے آگے بڑھائیں گے۔نیز اپنے آئینی دورانیے میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بناکر دیں گے۔ ٹرن آؤٹ 51 فیصد سے زائد رہا۔ پنجاب میں 55فیصد۔۔۔کے پی کے میں 45.05 فیصد ۔۔۔سندھ میں47.06 فیصد اور بلوچستان میں 45. 06فیصد رہا۔ یہ ٹرن آؤٹ اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ عوام نے آزاد فضا میں ووٹ کا سٹ کیے۔ اس کا اعتراف ن لیگ کے نامزد صدر ممنون حسین جو اب خیر سے صدر مملکت ہیں۔ انتخابات میں گھروں سے نکل کر بڑھ چڑھ کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے پر پاکستانی قوم کی تعریف کی۔حکومت پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی گئی جس میں کہنا تھا کہ صدر پاکستان نے انتخابات کے لیے پاکستانیوں کے جذبے کی تعریف کی ہے۔


ای پیپر