بلے-بازی
29 جولائی 2018 2018-07-29

2018ء کے عام انتخابات کے انعقادبارے شروع دن سے ابہام تھا،دہشت گردی کے واقعات میں تین امیدواروں نواب سراج رئیسانی ، ہارون بلوراوراکرام گنڈاپورسمیت معصوم پاکستانیوں کی شہادت سے انتخابات بارے شکوک وشبہات کومزیدہواملی مگر بے یقینی اوربے چینی کے باوجود یہ اپنے مقررہ دن ہوگئے۔ نواب سراج رئیسانی کی شہادت نے پاکستان کوسوگ میں ڈبودیا، پاکستانیوں کا نواب سراج رئیسانی شہید کیلئے اظہارعقیدت قابل دیدتھا۔ووٹرز نے نوازشریف کا''بیانیہ'' اوربرطانیہ پلٹ ریحام خان نامی عورت کا''شیطانیہ'' مستردکرتے ہوئے تبدیلی ،ترقی اورخوشحالی کے حق میں فیصلہ سنادیا۔عدالت عظمیٰ کے بعد عوامی عدالت نے بھی نوازشریف کی سزاکے فیصلے پرمہرتصدیق ثبت کردی۔اب نوازشریف یقیناجیل میں بیٹھے اپنے وطن واپسی کے فیصلے پرپچھتارہے اورواپسی کامشورہ دینے والے مشیروں کو ''کوس''رہے ہوں گے ۔دوسری طرف الیکشن میں شکست کی خفت مٹانے کیلئے ناکام پارٹیوں نے دھاندلی کاراگ چھیڑا جبکہ احتجاجی تحریک کاشوشہ چھوڑا ہے تاہم پشاورسے پی ٹی آئی کے امیدوار سے شکست کے باوجودعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماحاجی غلام احمدبلورنے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے اسے عمران خان کی شخصیت کی جیت قراردیا۔

چودھری نثارعلی خان کی سیاست کوکسی دوسرے نے نہیں بلکہ ان کی اپنی'' انا''نے'' فنا''اورانہیں سیاسی طورپر''تنہا''کردیا ،افسوس ہوامگرا پنایہ انجام موصوف نے خودمنتخب کیاہے۔ریاست اور سیاست کی بقاء کیلئے بروقت ،درست اوردوررس فیصلے بہت ضروری ہیں۔انتخابات میں کپتان عمران خان کے'' بلے '' کی بلے بلے ہوگئی ،بلاول زرداری کاتیرخطاہوگیاجبکہ اسیر نواز شریف کا ’’شیر‘‘ بھی ڈھیر ہو گیا۔ مرکز، پنجاب اورخیبرپختونخوامیں کپتان کی بھرپور بلے بازی سے ’’ بلے ‘‘ نے بازی جیت لی ہے اورمجموعی طورپر پی ٹی آئی کو مسلم لیگ (ن) سے کئی لاکھ زیادہ ووٹ ملے اورکپتان مردمیدان رہے۔ 2013ء کے انتخابی نتائج عمران خان نے فراخ دلی سے تسلیم کئے تھے مگربعدازاں انہوں نے اپنے امیدواروں کی سنجیدہ شکایات پر35پنکچر کامعاملہ اٹھایا اورچارحلقوں کو کھلوانے کامطالبہ کیا جونوازحکومت کی عدم دلچسپی اور سرد مہری پرپی ٹی آئی کوڈی چوک اسلام آبادمیں دھرنا دینا پڑا تھا جہاں عمران خان کی بدقسمتی سے ریحام نامی خاتون سے ملاقات ہوئی تھی ۔ عام ووٹر سمیت معاشرے کے مختلف طبقات نے دھاندلی کی دوٹوک اندازمیں تردید کی ہے، عمران خان نے اپوزیشن پارٹیوں کی شکایات پرمتنازعہ حلقوں کوکھلوانے کااعلان کرکے مخالفین کی زبانیں بندکردی ہیں۔عمران خان نے پاکستان اورپاکستانیوں کیلئے پر سکون زندگی چھوڑکرپرخطر زندگی کا انتخاب کیا،انتخابی مہم کے دوران کپتان کی زندگی کو شدیدخطرہ تھااوران کیلئے خطرات اب بھی موجود ہیں۔عمران خان میدان سیاست میں آنے کے بعداپنے پہلے الیکشن میں ہارگئے تھے مگر 2018ء کے انتخابات میں وہ پانچ حلقوں سے ناقابل شکست رہے۔

این اے 131میں سابق وفاقی وزیر اورانتخابات میں یقینی کامیابی کیلئے مہارت رکھنے والے ہمایوں اخترخان نے عمران خان کی کامیابی میں کلیدی کرداراداکیا،وہ اس حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی رہے ہیں اور ان کی دعوت پرمسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنماؤں اورکارکنان نے پی ٹی آئی سے وابستگی اختیارکر تے ہوئے عمران خان کوبھرپور سپورٹ کیا اورووٹ دیا۔اس حلقہ سے عمران خان کی برائے نام لیڈ ان کے کمزورونگ کانتیجہ ہے۔ این اے 131سے عمران خان کے نیچے پی ٹی آئی کے نامزدارکان پنجاب اسمبلی نے الیکشن کوسنجیدہ نہیں لیا اور ووٹرز سے رجوع نہیں کیا۔عمران خان بھی اپنی سیاسی مصروفیات اورملک بھرمیں انتخابی اجتماعات کے سبب این اے131میں نہیں آئے اسلئے ان کی لیڈ میں کمی رہی۔ اگر ہمایوں اخترخان چندروزقبل عمران خان کی دعوت پرپی ٹی آئی اوراین اے131کی انتخابی مہم میں سرگرم ہوجاتے تو یقیناًعمران خان کئی ہزارکی لیڈ سے کامیاب ہوتے، سعد رفیق کی درخواست پر این اے131کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو گئی لیکن نتیجہ تبدیل نہیں ہوا ۔عمران خان کو این اے 131کی بجائے کراچی والے حلقہ انتخاب سے حلف اٹھانا چاہئے، این اے 131میں ضمنی الیکشن کی صورت میں اس حلقہ سے ہمایوں اخترخان پی ٹی آئی کے موزوں ترین اور مضبوط امیدوارہوں گے۔ این اے131 کے عوام کوجہاں ہمایوں اخترخان کی بحیثیت ممبرقومی اسمبلی گرانقدر خدمات یادہیں وہاں ہمایوں اخترخان کوبھی اس حلقہ کے دیرینہ و پیچیدہ مسائل کا بخوبی ادراک ہے۔اس حلقہ میں اختر عبد الرحمن شہید فاؤنڈیشن کابھی انتہائی منظم اور موثر نیٹ ورک موجود ہے۔ہمایوں اخترخان کامقابلہ کرنے کیلئے مسلم لیگ (ن) یقیناسعدرفیق کو دوبارہ میدان میں اتارے گی اس صورت میں ہمایوں اخترخان عمران خان کے بہترین متبادل ثابت ہوں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ ایم پی اے عائشہ جاویدنے بھی ہمایوں اخترخان کے ساتھ عمران خان کی کامیابی کیلئے اپنابھرپورسیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا۔پرویزی آمریت کے دوران عائشہ جاویدمسلم لیگ (ن)شعبہ خواتین لاہورکی صدرتھیں اور انہوں نے بحالی جمہوریت کیلئے قیدوبندکاسامناکیاوہ لاہور کی خواتین میں کافی مقبول اوران کے ساتھ رابطے میں ہیں، ڈی ایچ اے سے بیگم فوزیہ مبشر بھی عمران خان کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہیں،این اے 131کی ہر دلعزیز سیاسی وسماجی شخصیات محمد طاہراقبال خان نے بھی ہمایوں اختر خان کی محبت میں عمران خان کے پلڑے میں اپناوزن ڈال دیا۔ ملک پورہ سے پی ٹی آئی کے متحرک رہنما غلام مصطفی نے بھی عمران خان کی کامیابی کیلئے دیوانہ وارکام کیا۔

پی ٹی آئی کووفاق اورخیبرپختونخوامیں واضح برتری ملی ہے جبکہ پنجاب میں پی ٹی آئی اورمسلم لیگ (ن) کا سکور تقریباً برابر ہے ،تاہم اب تک چھ سے سات آزادارکان کی تحریک انصاف سے وابستگی کی اطلاعات ہیں ۔ مرکز اور خیبرپختونخواکے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی باآسانی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پنجاب اسمبلی کے آزاد امیدوار مسلم لیگ (ن)کی بجائے پی ٹی آئی سے وابستہ ہونازیادہ پسندکریں گے کیونکہ یہ مرکزمیں بھی حکومت بنائے گی ۔صوبائی اسمبلیوں کے آزادارکان کیلئے وہ جماعت زیادہ اہم ہو تی ہے جووفاق میں بھی برسراقتدار آ نااٹل ہو، اس طرح انہیں اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے وفاقی اداروں سے بھی بھرپورمدد ملتی ہے ۔پنجاب اسمبلی کی طرح قومی اسمبلی میں بھی زیادہ ترآزادامیدوارپی ٹی آئی میں جائیں گے کیونکہ عمرا ن خان کے رویے میں'' نرمی'' جبکہ شہبازشریف کے رویے میں ’’گرمی‘‘ ہے۔ جو سیاستدان اورمنتخب عوامی نمائندے اپنی عزت نفس پرسمجھوتہ نہیں کرتے وہ یقیناًپی ٹی آئی میں جاناپسند کریں گے۔ پنجاب کی تعمیروترقی کیلئے اس صوبہ میں پی ٹی آئی کی حکومت بنناناگزیر ہے کیونکہ ماضی میں بینظیر بھٹوکے دوراقتدارمیں میاں نوازشریف نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی حکومت کے ساتھ تصادم کاراستہ اختیار کرتے ہوئے وفاق اورپنجاب کوانتظامی ومعاشی طور پر شدید نقصان پہنچایاتھا۔


ای پیپر