دھاندلی کا واویلا :پریزائیڈنگ افسر کی نظر میں
29 جولائی 2018 2018-07-29

ہر کھیل اور ہر مقابلے میں جیتنے والا ایک ہو تا ہے ۔ نظام سیاست میں بھی یہی اصول چلتا ہے ۔ میدان میں موجود امیدواروں میں سے رائے دہندگان نے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ لہذا ایک کی کامیابی اور دیگر سب کی ناکامی ایک معلوم اور طے شدہ حقیقت ہے۔ اس کے باوجود بار بار یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی انتظام ، وہی ریٹرننگ افسر وہی اصول اور ضابطے ایک ہی پارٹی ا ور اس کے امیدوار! جیت جانے کا نتیجہ قبول ہے جب کہ ہار جانے پر سازش ، مداخلت اور دھاندلی کا واویلا شروع ہو جاتا ہے۔ انتخابی عمل سے پندرہ سولہ بار گزرنے کے علاوہ اصلاح احوال کی کوششوں کے باوجود آج بھی مداخلت ، سازش . دھاندلی ،نتیجے کو مسترد وقبول کرنے کا شور برپا ہے۔ ہارنے والوں نے یہ حقیقت نظر انداز کردی ہے کہانتخابات کا بنیادی نقطہ ہی یہ ہے کہ سیاسی منظر اور مناصب پر فائز وہ لوگ اُن لوگوں کے لئے میدان خالی کر دیں جن کو عوام کا اعتماد حاصل ہے۔اگر انتخابی نتیجے کو اس زاوئیے سے دیکھا جائے تو ہار کو قبول کرنا آسان ہوگا۔اس ضمن میں سابق حکمران جماعت کا رویہ بڑا دلچسپ ہے۔ اس جماعت کے خیال میں مینڈیٹ کے احترام میں پنجاب میں حکومت کا اسے موقع ملنا چاہیے۔ یہ اُسی رویہ کا تسلسل ہے جو پچھلے انتخابات پر پی ٹی آئی نے اختیار کیا تھا۔ انتخابات مسترد لیکن اس کے تحت ملنے والی حکومت ، مناصب ، اعزاز و مراعات سب قبول !

پریزائیڈنگ آفیسر انتخابی عمل کی بنیادی اکائی ہے۔ پولنگ سٹیشن کا اپنے ساتھیوں کی مدد سے انتظام ، سامان کی وصولی ، سارے امور کی نگرانی ، پھر نتیجے کو ترتیب دینا اسی کا کام ہے۔ اُسی کے دستخط ثبت ہونے سے نتیجہ قابل قبول قرار پاتا ہے۔فارم45 جس کا موجودہ انتخابا ت میں بڑا چرچا ہوااس وجہ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس پر پریزائیڈنگ

افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔یہ افراد سکول کالج اساتذہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تربیت کے دو تین دنوں کے علاوہ سامان کی وصولی ، انتخابی عمل کی تکمیل ، نتائج کی ترتیب اورترسیل کا کام بغیر کسی سہولت کے نہایت مشقت سے عام طور نہایت نامناسب سہولیات کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ انہیں کئی دفعہ بدسلوکی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس تھکا دینے والی ہفتہ بھر پر محیط پرمشقت ڈیوٹی کے بعد ان کے حصے میں کئی طرح کے الزامات آتے ہیں۔ کبھی ان کو دھاندلی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ کبھی نتائج میں تاخیر کی ذمہ داری ان پر آتی ہے۔ کئی دفعہ عدالتوں کی پیشیااں اور گواہیاں بھی ان کے حصے میں آتی ہیں۔پندرہ سولہ انتخابات کے بعد ضروری تھا کہ کئی چیزیں ہماری سمجھ میں آجاتیں مگر ۔۔!

سطور مندرجہ ذیل میں ہم دھاندلی کی نوعیت اور وسعت کو چند مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے اپنی ملازمت کے دوران چودہ پندرہ مرتبہ بطور پریزائیڈنگ افسر کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس میں ایسا موقع بھی شامل جب میں اپنے سٹیشن پر پہنچا تو وہاں پرائمری سکول کا گرا ہوا کمرہ اور بیری کا درخت تھا۔ قریبی نمبردار کے ڈیرے پر گئے تو ایک کمرے میں لے جائے گئے۔ وہاں زمین پرچٹائیاں بچھی تھیں۔ ان چٹائیوں پر مختلف طرح کی بندوقیں اور پستول رکھے تھے۔ یہ لوگ اس اسلحے کو تیل لگا کر جوڑ رہے تھے قہقہے لگا رہے تھے۔انہوں نے مہمان کہا ۔۔ لسی سامنے رکھی۔۔ایک بزرگ نے اپنے بلدیاتی امیدوار بیٹے کے لئے تعاون کی بات چھیڑ دی۔ ان حالات میں بھی پولنگ کا عمل پر امن رہا۔ کسی بھی جانب سے مرضی کا رزلٹ لینے کی بات نہ ہوئی۔ دو دفعہ ہونے والے ریفرنڈم کے سوا کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ ایسا رزلٹ چاہیے۔ ہاں 85 کے انتخابات کے موقع جب میں رزلٹ جمع کرانے آیا تویہ دوسرا تیسرا نتیجہ تھا ۔ ابھی کوئی رش نہ تھا ۔ اے آر او صاحب میز پر بڑا چارٹ پھلائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے نتیجہ پوچھا ۔ نتیجے کا لیڈ پنسل سے چارٹ پر اندراج کیا ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا جناب رزلٹ اس پنسل سے لکھے جانے ہیں تو میں نے گنتی پر خواہمخواہ وقت ضائع کیا ۔ انہوں نے ہنس کر کہا آپ جلدی سے نتیجہ دیں اور چلے جائیں ایسے آدمی کی موجودگی اچھی نہیں۔اس طرح کے نتیجے ایوب خان بمقابلہ محترمہ فاطمہ جناح کے موقع پر شروع ہوئے۔ پھر ان کا سایہ طویل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ2013 کے انتخابات کے حوالے سے بھی یہ الزام دہرایا گیا۔

دھاندلی اور مینڈیٹ کے چرائے جانے کا سب سے قابل ذ کر اور قابل توجہ پہلو اداروں پر الزام یا ان کا کردار ہے۔ اس الزام یاحقیقت کی وسعت اور نوعیت عام طور سامنے نہیں ہوتی ۔ سامنے نہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہوتا ہے کہ سمجھ لیا جات ہے کچھ نہیں ہوا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر فریق اسے اپنے خلاف بیان کر سکتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس میں بہت مبالغہ کے جاتا ہے۔ اس کے کردار بڑھا دئیے جاتے ہیں جس سے ردعمل اور نفرت پروان چڑھتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیےے کہ اس مداخلت اور اس کی نوعیت اور اس میں شامل کرداروں کی بات طویل عرصہ تک افواہوں اور الزامات کے درجہ میں رہتی ہے ۔ پھر یہ اسوقت کھلتی جب اشامل کرداروں میں سے کوئی کتاب ، کوئی کالم یا کوئی انٹرویو سامنے آتا ہے۔ اسی کی دہائی میں اکھاڑ پچھاڑ اور اسمبلی اسمبلی کھیلنے کا معاملہ اسی طرح سامنے آیا ۔ نوے کے انتخابات آئی جے آئی اور نواز شریف حکومت کیسے قائم ہوئی ISI نے فنڈز کیسے اور کن کے درمیان تقسیم کئے یہ بات بیانات اصغر خان کے مقدمے کے نتیجے میں سامنے آ کر بھی سامنے نہیں آئی۔

حالیہ انتخابات میں کس کس نے کیا کیا کیا اس کی حقیقت تو اس وقت کھلے گی جب موجود کرداروں میں کئی لوگ اپنے انٹرویو، کتاب وغیرہ میں اپنے کردار اور عمل کا اقرار کریں گے۔ وقت تحریردھاندلی کے الزامات میں سر فہرست یہ ہے کہ امیدواروں کو دوسری طرف رخ کرنے کا کہا گیا ۔کئی لوگوں کو ٹکٹ نہ لینے یا واپس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی جگہ الیکٹ ایبلز کو ٹکٹ واپس کرکے آزاد رہنے کا کہا گیا اور ان تمام باتوں کو ماننے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ کئی افسروں کو ایسے ماحول کی طرف دھکیلا گیا جسے محبوس کرنا کہا جاسکتا ہے۔ پھر انھیں قومی ترجیحات ۔ وفا داری اور وسیع تر قومی ترجیحات کا حوا لہ دیا گیا۔ یہ ساری باتیں مینڈیٹ کی چوری اور دھاندلی کے تصور کو تقویت دیتی ہیں۔شیخ رشید جو اپنی بات میں بین السطور کچھ کہنے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اپنی کامیابی پر پنڈی والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مزید یہ کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا 25جولائی کو تبدیلی کا دن قرار دینا اور ں لیگ کی ہار پر یہ تبصرہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے مداخلت کے تاثر کو بڑھاتے ہیں۔


ای پیپر