انتخابات اور عمران خان کیلئے چیلنجز!

29 جولائی 2018

راؤ غلام مصطفیٰ



بہت سے بحرانوں اور چیلنجز کے باوجود ملک میں عام انتخابات ہو گئے ہیں۔عالمی اسٹیبلشمنٹ نے پو ری کوشش کی کہ پاکستان میں انتخابات کے سیاسی عمل کو سبو تاژ کیا جائے اور اکرام اللہ گنڈہ پور،نوابزادہ سراج رئیسانی اور ہارون بلور سمیت سینکڑوں محب وطن پاکستانیوں کو دشمن قوتوں نے جمہوری سفر کو روکنے کیلئے خون میں نہلایا اور باقاعدہ ملک کی مسلمہ دشمن قوتوں امریکہ‘افغانستان اور بھارت نے اس دھرتی پر ملکی سلامتی و بقاء کی ضامن پاک فوج کے سامنے عوام کو لا کھڑا کرنے کی صف بندی بھی کی لیکن اس کے باوجود ملک کی بائیس کروڑ عوام نے 25 جولائی کو گھروں سے نکل کر انتخابات میں حصہ لیکر ملک دشمن قوتوں کو شکست فاش دی اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی عوام اور ریاستی ادارے بحرانوں اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انتخابات کے دن کوئٹہ میں دہشت گردی کے باوجود عوام کا پولنگ بوتھ تک پہنچ کر انتخابات پر اعتماد کا اظہار کرنا دشمن کیلئے بڑا واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے راستے میں آنیوالی رکاوٹیں ریت کی دیوار ثابت ہونگی۔ملک میں ان حالات میں الیکشن مقررہ وقت پر ہو جانا عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں پاکستان کی بہت بڑی جیت ہے۔بحرحال چین سمیت عالمی مبصرین کی جانب سے الیکشن پر اطمیان کا اظہار کیا گیا ہے آزادانہ‘منصفانہ اور شفاف الیکشن کروانے کی ذمہ داری نگران حکومت کی ہوتی ہے۔ اور ملک میں یہ اپنی نوعیت کے پہلے الیکشن ہیں کہ پاک فوج نے انتخابات کو اپنی نگرانی میں پر امن بنایا جس کے باعث ان انتخابات کی شفافیت پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اور اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے جو الیکٹیبلز الیکشن میں کھڑے کئے تھے اکثریت مات کھا گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں کسی کا مینڈیٹ نہیں چرایا گیا وہیں پاکستان کی عوام میں تبدیلی کی ایک لہر صاف دکھائی دے رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف اس الیکشن مین ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور مرکز،کے پی کے میں واضح حکومت سازی کرنے کی پوزیشن میں ہے اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے برابر صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ن لیگ کے صوبائی قلعہ پر حملہ آور ہو چکی ہے نمبر گیم شروع ہو چکی ہے اب اگر تحریک انصاف پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت کو مزید تقویت ملے گی وہیں پاکستان کی سیاست میں یہ بہت بڑا اپ سیٹ ہو گا۔تحریک انصاف کو چاہیے کہ پنجاب میں ضرور حکومت سازی کرے کیونکہ ان کوجو موقع انتخابی نتائج نے دیا ہے پھر شائدانہیں دوبارہ میسر نہ آئے۔تحریک انصاف کی حکومت کو بہت سے نحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کر نا ہوگا اب تحریک انصاف کی ان پر قابو پانے کی کیا حکمت عملی ہو گی اور وہ عوام کو نئے پاکستان میں کیسے لیکر داخل ہو گی یہ وقت فیصلہ کریگا۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے الیکشن سے قبل ہی اسے دھاندلی سے منسوب کر دیا تھا دونوں قائدین کی جانب سے دھاندلی کی صورت میں انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے اعلانات کیے گئے اور ایسی فضا پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی کہ اگر نتائج مرضی کے بر عکس آئے تو ملک ہنگاموں کی نذر ہو جائے گا۔اب چونکہ انتخابات ہو چکے ہیں اور ان انتخابات میں متعدد جماعتوں کے جو سربراہ تھے جن میں مولانا فضل الرحمن‘مصطفی کمال‘سراج الحق‘اسفند یار ولی‘آفتاب شیر پاؤ‘فاروق ستار اپنی نشتوں س ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔جو کہ پاکستان کی سیاست میں بہت بڑا اپ سیٹ ہے۔ اب الیکشن نتائج کے خلاف باقاعدہ صف بندی ہو رہی ہے اور نواز شریف نے بھی اڈیالہ جیل سے بیان دے ڈالا ہے کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔اب عمران خان کو سب سے پہلے حکومت سازی کا مرحلہ درپیش ہے اگر وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کو ساتھ لیکر چلتے ہیں تو جو محاذ عمران خان کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہونے جا رہا ہے اس کی شدت میں ضرور کمی واقع ہو سکتی ہے اگر صادق سنجرانی کو تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کندھا پیش کر کے سینیٹ کے چیئرمین کی کرسی پر بٹھا سکتیں ہیں تو پھر سیاست میں کچھ لو اور دو کی بنیاد پر راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے ۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں انتقامی سیاست مسترد کرتے ہوئے بدعنوانی سے پاک پاکستان بنانے پر زور دیا ہے اور امریکہ سے متوازن تعلقات کے ساتھ بھارت سے بہتر تعلقات استوار کرنے کا بھی کہا ہے ۔استحصالی طبقہ کو اوپر اٹھانے اور عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے اور ملک کو فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا بھی عزم کیا ہے عمران خان کی تقریر بلا شبہ عام فرد کی ترجمان تھی جس کو عالمی میڈیا میں بھی بھر پور کوریج ملی ہے۔اللہ کرے تحریک انصاف کی حکومت ملک و ملت کے مفاد میں بہتر فیصلے کر کے انہیں عملی جامہ پہنا سکے عمران خان ایسے وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے لگے ہیں جب ملک کو اندرونی و ببیرونی چیلنجز کے علاؤہ بحرانوں کا بھی سامنا ہے ۔ اس وقت ملک بہت سے کراسسز کا شکار ہے پاکستان میں اس وقت انتخابات ہوئے جب زرمبادلہ کے ذخائر کم‘معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے‘ریاستی امور چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے‘پانی کا بحران سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے‘ملک دشمن قوتیں پاکستان کے خلاف متحرک ہیں ایسے حالات میں نئی حکومت اقتدار سنبھالنے جا رہی ہے ۔بہت بڑے بولڈ اسٹپ لینے کی ضرورت ہے کرپشن و بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے کڑے احتساب کے سوا اب کو ئی چارہ نہیں ہے۔ ملک دشمن قوتوں کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کے معاملات اس حد تک بگاڑ دئیے جائیں اور ایسے بحرانوں سے دوچار کر دیا جائے کہ پاکستان کے نیو کلیئر اثاثوں پر سوالات اٹھا دئیے جائیں۔اس وقت ملک کے ریاسٹی ادارے عدم استحکام کا شکار ہیں اور ملک میں مہنگائی‘غربت و بیروزگاری‘کرپشن‘اقرباء پروری‘رشوت و سفارش‘انصاف کی عدم دستیابی، امن و امان کے قیام جیسے سینہ زور مسائل بد ستور عوام کی کمر پر کوڑے کی صورت برس رہے ہیں۔ان مسائل سے نجات نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے جب تک ہم ایسے رستے ناسور جیسے مسائل کا تدارک نہیں کرینگے تب تک اس عوام کی ٹیڑھی کمر سے خم نہیں نکل سکتا،ملک میں ہونیوالے الیکشن پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب تک ملک میں جتنے بھی انتخابات ہو چکے ہیں تمام الیکشنز پر شکست خوردہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کا قدغن موجود ہے ۔لیکن آج جن حالات سے پاکستان گزر رہا ہے یہ ملک متحمل نہیں کہ اس ملک کی سیاسی جماعتیں ہی سیاسی عمل کو تباہ کرنے کے درپے ہو جائیں اور اس ملک کی جمہوری جڑیں تک کرید ڈالیں اس ملک کی بقاء و سلامتی اسی میں ہے جب ہم اس سوچ کو عمل کی سیڑھی دینگے کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں جب اس اجتماعی شعور کی بیداری کیساتھ سوچیں گے تو پھر اس شعور کے بطن سے ملک و ملت کے مفاد میں فیصلے جنم لینگے۔ اور پھر یقیناًہم نئے پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں ۔۔۔!

مزیدخبریں