US President, Joe Biden government, Doha peace agreement, Afghan government, Ashraf Ghani
29 جنوری 2021 (13:01) 2021-01-29

با ئیڈن حکو مت نے برسرِاقتدا ر آ نے کے فو ر ا ًبعد افغان طالبان کے ساتھ طے پانے والے دوحہ امن معاہدے پر نظر ثانی کا اعلان کردیا ہے۔ معز یز قا رئین کو یا د کرا دو ں کہ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ امریکہ مئی 2021ء تک اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لے گا اور اس سے پہلے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوگا ،جبکہ امریکی قومی سلامتی کے نئے مشیر جیک سولیوان کا کہنا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ امن معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے اور اس معاہدے کے بعد حملوں میں کتنی کمی آئی ہے۔ معاہدے کے تحت طالبان نے انتہا پسند گروپوں سے روابط کس حد تک ختم کیے؟ اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ نئے امریکی صدر جوبائیڈن پاکستان اور افغانستان میں اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کے سرگرم عمل ہوچکے ہیں، وہ ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں امریکی اور عالمی سیاست کا۔ لہٰذا وہ امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپنی مرضی کے ٹرمز آف گیم طے کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے مشیر وحید عمر کا کہنا ہے کہ طالبان نے ابھی تک اپنے حملوں میں کمی نہیں کی بلکہ اس میں اضافہ کردیا ہے۔ کابل انتظامیہ کا یہ الزام بھی ہے کہ طالبان قومی سطح پر امن مذاکرات شروع کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ وہ اپنے وعدے کا احترام کرتے ہیں اور معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ لہذا ہم اہلِ پا کستا ن توقع کرتے ہیں کہ دوسرے فریق بھی معاہدے پر برقرار رہیں گے۔ بلاشبہ اس حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جاسکتا کہ جب تک افغانستان میں مستقل بنیادوں پر امن قائم نہیں ہوگا، خطے میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ امریکہ کا تمام دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے اور اثر و رسوخ قائم کرنے کا جنون اب تک کہیں نہ ختم ہونے والی جنگوں کا سبب بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں عسکریت کا رنگ غالب آنے لگا تھا۔ اسی وجہ سے امریکہ کو دنیا میں سب کی ناراضی اور اپنے گھر میں کئی طرح کی شکایات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پاکستان مسئلہ افغانستان کا اہم فریق ہے، کیونکہ یہ جو معاہدہ امن دوحہ میں پچھلے برس طے پایا تھا اس میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں نے بنیادی اور اہم کردار ادا کیا تھا۔ معاہدے پر نظر ثانی کے اعلان نے خطے میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ اوباما ایران سے معادہ طے کر گئے تھے، ٹرمپ آئے تو انہوں نے یہ معاہدہ ختم کردیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ان کے چار سالہ دور اقتدار میں غیریقینی کیفیت کا شکار بنے رہے ،جبکہ ٹرمپ عالمی ماحولیاتی معاہدے سے بھی نکل گئے تھے۔ اب نئی امریکی انتظامیہ کو دنیا کے ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کی راہیں نئے سرے سے ہموار کرنا ہوں گی۔ بائیڈن نے ابھی سے پیرس کلائمنٹ ایگریمنٹ میں واپسی، عالمی ادارہ صحت میں شمولیت اور ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اب اگر بائیڈن دوحہ امن معاہدہ تبدیل کرنے چلے ہیں تو ہمارا خطہ ایک بار پھر بدامنی کا شکار ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلا سوال تو یہ جنم لیتا ہے کہ ’’کیا افغانستان میں جاری تشدد میں کمی ممکن ہے؟‘‘ ایک جنگ زدہ ملک میں امن کی بحالی کے امکانات افغان امن مذاکرات کے باوجود ابھی تک روشن نہیں ہوسکے ہیں او رحالیہ دنوں میں ملک کے طول و عرض پر نہ صرف طالبان کے بلکہ داعش نے بھی تواتر کے ساتھ افغان شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان تو افغانستان میں امن کے لیے مخلص ہے لیکن جنگ زدہ ممالک میں مسائل ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔

 وائٹ ہائوس میں ایک ہندوستانی نژاد کے نائب صدر منتخب ہونے کے باعث امریکہ بھارت تعلقات کو مزید تقویت ملنے کے امکان ہیں۔ اسی 

طرح بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں بھارت کو امریکہ کا قریبی اتحادی ہونے کا اشارہ کرتی ہے، چونکہ بھارت پاکستان کا سب سے قدیم حریف ہے، اس لیے امریکہ اور بھارت کے مابین قریبی تعلقات پاکستان کے لیے اچھی پیش رفت نہیں ہے۔ افغان امن معاہدے میں بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ کو پاکستان پہلے ہی ناگوار سمجھتا ہے، اگر بائیڈن نے بھارت سے افغانستان میں کردار اد اکرنے کی خواہش ظاہر کی تو یہ پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دے گا۔ پاکستان افغانستان میں امریکہ کے مسائل حل کرنے میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش پیش رہے گا۔ بائیڈن پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ افغانستان میں محدود فوجی شکل میں فوجی موجودگی کی کوشش کریں گے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جوبائیڈن اسی نظر سے دیکھیں گے جس نظر سے 

ٹرمپ دیکھ رہے تھے البتہ جوبائیڈن کی طرف سے ڈومور کی صدا بلند نہیں ہوگی۔ جوبائیڈن چوتھے امریکی صدر ہیں جنہوں نے 19 سالہ طویل افغان جنگی بحران کا سامنا کیا ہے۔ اگرچہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی موجودگی میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے اور اس وقت چند ہزار امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہ گئے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے امن معاہدے نے امریکی فوجیوں کی مکمل وطن واپسی کی راہ ہموار کی تھی۔ انٹرا افغان مذاکرات میں امریکہ پہلے ہی پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کرچکا ہے۔ پاکستان کو اوباما کے دور میں افغانستان کی صورت حال کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم فریق کہا گیا تھا، ٹرمپ انتظامیہ بھی اس بات کا اظہار کرچکی تھی جبکہ نئے امریکی صدر جوبائیڈن پاکستان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں کھل کر سامنے آجائے گا۔اس سارے منظر نامے کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ جوبائیڈن کی موجودگی میں مظلوم کشمیریوں کے مؤقف کو عالمی دنیا میں پذیرائی ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ بائیڈن نے ہمیشہ کشمیریوں کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت سے مظلوم کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے اور خودمختاری کا مطالبہ کیاہے۔ اس بات کی بھی توقع کی جارہی ہے کہ جوبائیڈن مودی سرکار کی جانب سے 2019ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وفاق کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ امریکہ کی جانب سے چین کے تناظر میں بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے گی لیکن ساتھ ہی بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے، یوں امریکی صدر جوبائیڈن کی پالیسیوں کے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پھر پاکستان کی شمالی سرحد پر واقع چین کے ساتھ امریکہ کی سرد جنگ پچھلے کچھ سالوں سے عالمی سیاست کا مرکز بن چکی ہے۔ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت چین سے قرضوں اور امداد میں اربوں ڈالر وصول کرچکا ہے۔ چین کے لیے سخت پالیسی پاکستان پر بھی اثر انداز ہوگی۔ البتہ جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب امریکہ کی جانب سے چین سے متعلق سخت پالیسی میں تبدیلی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ امریکہ جو سی پیک کا پہلے ہی مخالف ہے، پاکستان کو سی پیک میں سست روی لانے کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ امید ہے کہ بائیڈن بھارت کے ساتھ مل کر چین پر دبائو ڈالنے کی کوشش میں پاکستان کو چین کا ساتھی ہونے کے سبب نہیں رگیدے گا۔ اس رعایت کا ممکنہ مقصد پاکستان کی ہمدردیاں مکمل طور پر چین کے حق میں گنوانے سے محفوظ رکھنا ہوسکتا ہے۔جوبائیڈن اپنی نائب صدارت کے دور میں پاکستان کے دوست کے طور پر سامنے آئے تھے اور انہیں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہلالِ پاکستان بھی مل چکا ہے۔ اس کے علاوہ جوبائیڈن کیری لوگر بل کے خالقوں میں سے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو 7.5 ارب ڈالر کی غیرفوجی امداد دی گئی تھی اور یہ امداد ڈیموکریٹک پارٹی کی جمہوری سوچ کے مطابق پاکستان میں سویلین اداروں کی مضبوطی اور سماجی شعبوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مختص کی گئی۔ چنا نچہ اب پاکستان امریکہ کے ساتھ صحت مند، خوشگوار تعلقات رکھنے کی توقع رکھ سکتا ہے۔


ای پیپر