29 جنوری 2020 2020-01-29

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات 8 فروری کو منعقد ہو رہے ہیں… اس چنائو میں شہر کی دو بڑی جماعتیں ایک جو پورے ملک کے اندر برسراقتدار ہے، بی جے پی اور دوسری جسے دہلی کی ریاستی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے، اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی ایک دوسرے سے ٹکر لیں گی، پُرزور مقابلہ ہے… راہول گاندھی کی قیادت والی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی وارث کانگریس بھی میدان میں موجود ہے مگر اصل یُدھ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان پڑنے والا ہے… بی جے پی جہاں پورے بھارت کے اندر راج کر رہی ہے وہیں وہ دہلی کی راجدھانی میں اپنی مرضی کی شہری سرکار قائم کرنا چاہتی ہے جس کی راہ میں کجریوال کی شخصیت اور ان کی جماعت عام آدمی پارٹی جو اس وقت بھی دارالحکومت کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے، مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہے … رائے عامہ کے جائزے اسے آگے بتا رہے ہیں… دہلی کی مقامی سرکار کے پاس پانی، بجلی، تعلیم اور شہر کی صفائی کے انتظام و انصرام جیسے محکمے جبکہ پولیس کا محکمہ مرکزی حکومت جو بی جے پی کی فیڈرل حکومت کے کنٹرول میں ہے… پچھلے پانچ سال کے عرصے میں عام آدمی پارٹی نے اگر کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تو دہلی کے شہریوں کو مایوس بھی نہیں کیا… وہ اس کی کارکردگی سے خاصے مطمئن نظر آتے ہیں… پچھلے چنائو میں پانی، بجلی اور تعلیم سمیت شہر کی صفائی وغیرہ بہت بڑے مسئلے تھے… اس مرتبہ بھی ہیںلیکن شہر کا تاریخی شاہین باغ اور جامعہ ملیہ دہلی سے شہریت کے ترمیمی بل کے خلاف اٹھنے والی زبردست تحریک جو اس وقت ہندوستان گیر رُخ اختیار کرچکی ہے پورے ملک کو اس نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے… وہ امکاناً دارالحکومت پر قبضے کے چنائو میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی… شاہین باغ دہلی میں یوں سمجھئے کہ بھارت کے نظریاتی مستقبل کی معرکتہ الآراء جنگ لڑی جا رہی ہے جہاں روزانہ کے حساب سے شہریوں کا انبوہِ کثیر جمع ہوتا ہے جن کے اندر ہر عمر کی خواتین اور نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہوتی ہے… ان خواتین کے اندر وہ مسلمان عورتیں جو کبھی گھروں سے باہر نہ نکلی تھیں حیران کن تعداد میں شریک ہوتی ہیں… ان کے ساتھ ہندوستان کے سیکولر آئینی چہرے کی حفاظت کرنے والے وہ غیرمسلم بھی کئی روز سے شریکِ احتجاج چلے آ رہے ہیں جو شہریت ترمیمی بل کے اندر مسلمانوں کے بارے میں امتیازی شقات داخل کرنے کی بنا پر اس قانون کو بھارت کے قومی چہرے پر بدنما داغ سمجھتے ہیں… پُرزور انداز میں مسلمانوں کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں… عام آدمی پارٹی اپنی انتخابی مہم کے دوران پورے بھارت کے اندر نمودار ہونے والی اس تفریق سے جو دہلی کے مظاہروں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے… اور پیش آمدہ چنائو میں بی جے پی کو شکستِ فاش سے دوچار کرنے کے دَر پے ہے… یوں بجلی، پانی، تعلیم اور شہر کی صفائی کے مسائل اہم ہونے کے باوجود سیکولر انڈیا بمقابلہ ہندو راج والا بھارت کی بحث سب سے نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے… وزیراعظم نریندر مودی کے لئے یہ امر خاصی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے انہوں نے 2014ء کے بعد 2019ء کے قومی انتخابات میں پورے بھارت کو تو تقریباً اپنے تسلط میں لے لیا ہے اور اس پر ہندو راج کے متعصبانہ نظریات کی چھاپ بھی لگا دی ہے… لیکن دارالحکومت دہلی جیسا شہر گرفت میں نہیں آرہا… اگر 8 فروری کے شہری ریاست کے چنائو کے نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہ آئے تو یہ اس نظریاتی جہت کے لئے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوں گے جس کی جانب بھارت کو لے جانے کے لئے انہوں نے ہرممکن کوشش کی ہے… کشمیر کو اس کی اکثریتی مسلمان آبادی سے چھین لیا گیا ہے، بابری مسجد کو رام مندر میںتبدیل کرنے کے حق میں سپریم کورٹ سے فیصلہ لینے میں مودی کامیاب ہو گئے ہیں… 2002ء سے لے کر اب تک انہوں نے گجرات تا یو پی اتنے مسلم کُش فسادات کرائے ہیں کہ آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلے کبھی نہ ہوئے ہوں گے… یوں مسلمانانِ بھارت جو 20 کروڑ سے زائد آبادی کے مالک اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت سمجھے جاتے ہیں سہمے بیٹھے تھے لیکن شہریت ترمیمی بل اور قومی رجسٹریشن کی پالیسی میں ملک کے غیرمسلم سیکولر عناصر کے ساتھ مل کر ان کے سوکھے دانوں پر پانی ڈال دیا ہے… ایک نئی اور تاریخی جدوجہد عروج کو پہنچا چاہتی ہے… اس میں اکیلے مسلمان نہیں سیکولر ہندوئوں کے علاوہ سکھ، عیسائیوں اور بدھوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے…اس طرح یہ ہندو متعصبانہ راج کے مقابلے میں کسی ایک مذہب یا اس کے ماننے والوں کی نہیں پورے ہندوستان کی قومی تحریک بن گئی ہے اور صرف دہلی یا یوپی اس کے مراکز نہیں شمال مشرقی بھارت یعنی آسام اور تری پورہ وغیرہ سے لے کر مغربی بنگال اور نیچے جنوب میں کیرالہ جیسی اہم ریاست تک بڑے زوروں سے پھیل گئی ہے…

تحریک کا بنیادی نقطہ جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے بھارت کے ان سیکولر نظریات اور ملکی آئین کی حفاظت ہے جن کی بنیاد پر مسٹر گاندھی اور پنڈت نہرو نے اپنے وطن کو انگریز سے آزاد کرایا تھا… قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسی بنا پر علیحدہ پاکستان کا مطالبہ کیا تھا کہ گاندھی اور نہرو کے نظریات اس لحاظ سے کوکھلے ہیں کہ جس ہندو اکثریت کی بنیاد پر وہ ان کی عمارت کھڑا کرنا چاہتے ہیں

اس کے یہاں متعصبانہ ، مذہبی و قومی خیالات کا دور دورہ ہے… ہندوئوں کو ایک مرتبہ آزاد ریاست قائم کرنے کا موقع مل گیا تو وہ نام نہاد سیکولرازم کا پردہ چاک کر کے ہندو راج قائم کرنے پر تُل جائیں گے اور مسلمانوں کے لئے آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا اجیرن بنا دیں گے… لہٰذا لازم ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کر کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت قائم کر دی جائے تاکہ وہ انگریزوں کے ساتھ ہندو اکثریت کے غلبے سے بھی نجات حاصل کر سکیں… آج 70 سال گزر جانے کے بعد موجودہ بھارت کے اندر بھی وہاں کے دانشوروں میں یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ مسٹر جناحؒ اور ان کے مسلمان ساتھیوں نے صورت حال کو صحیح طریقے سے بھانپ لیا تھا اور آنے والے خطرات کا درست اندازہ لگا لیا جس کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا پُرزور مطالبہ کر کے ایک بڑی جدوجہد کے نتیجے میں اپنے لئے علیحدہ ملک حاصل کر لیا اور مسلمانان ہند کی ایک بہت بڑی تعداد کو جو اس وقت پاکستان اور بنگلہ دیش میں بستی ہے ہندو قومی تعصب کی یلغار سے محفوظ کر لیا… اس بنا پر انہوں نے جو دوقومی نظریہ پیش کیا تھا وہ درست ثابت ہوا ہے… لیکن اس وقت اصل اور بنیادی مسئلہ ان مسلمانوں کے دین و مذہب ، ثقافت و تہذیب کی شناخت اور قومی آثار اور یادگاروں کا تحفظ ہے جو پیچھے ہندوستان میں رہ گئے اور آج اسی طرح اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں جس طرح 1947ء سے پہلے کے متحدہ ہندوستان میں ان کے آبائو اجداد نے لڑی تھی… موجودہ بھارتی مسلمانوں کا مقدمہ یہ ہے اگر آپ نے اس ملک کو اس بنا پر آزاد کرایا تھا اس کی قومی اور سیاسی بنیادیں ان سیکولر نظریات پر استوار کی جائیں گی جن کی وجہ سے ہر شہری کو خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو دوسرے کے مقابلے میں برابر کے حقوق حاصل ہوں گے… وہ اپنی مذہبی شناخت کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے قومی زندگی میں بھرپور حصہ لے سکے گا اور ملکی آئین کے ذریعے اسے اپنی مذہبی اقدار، تہذیبی شناخت اور تاریخی ورثے کی حفاظت سمیت قومی زندگی میں بھرپور حصہ لینے کی ضمانت دی گئی تھی تو اس عہد کو برقرار رکھئے… ہندو راج کے ذریعے انحراف کی راہ اختیار کر کے آپ صرف مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ نہیں کر رہے بلکہ پورے بھارت کے اندر ایک نئی تفریق کی بنیاد ڈال رہے ہیں… ان کا یہ مؤقف اتنا جاندار ثابت ہوا ہے کہ اس کی زوردار اپیل نے سارے بھارت کے اندر ان سیکولر ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے جو گاندھی اور نہرو کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے ملک کو ایک خاص مذہب کے انتہائی متعصبانہ سیاسی اور تہذیبی نظریات کی گھاٹیوں میں لے جا کر پھینک نہیں دینا چاہتے… ان سب کی مشترکہ احتجاجی تحریک نے زبردست اٹھان لی ہے کہ اس کی صدائے بازگشت اب دنیا بھر کے میڈیا میں سنائی دی جا رہی ہے اور نریندر مودی جس نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 2002ء میں ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر 2000 سے زائد مسلمانوں کے قتلِ عام کے ساتھ کیا تھا لیکن بعد میں پورے بھارت کے اندر اپنی کامیاب مذہبی سیاست کی وجہ سے 2014ء اور 2019ء کے انتخابات جیت کر بیرونی دنیا کے اندر بھی اپنا ایک مقام بنا لیا… اب اس کا زنگ آلود چہرہ ہر ایک کو نظر آنا شروع ہو گیا ہے… اور وہ بھارت جو کبھی اپنے نام نہاد روشن اور سیکولر خیالات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک پہچان رکھتا تھا اس کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے… موجودہ بھارت کے لئے دو راستے باقی رہ گئے ہیں نریندر مودی جی ان کے دستِ راست اور وزیر داخلہ امیت شا کے نظریات اور پالیسیوں کواپنا کر گاندھی اور نہرو کے تمام تصورات کو حرفِ باطل کی طرح ملیامیٹ کرتے ہوئے پورے بھارت کو مذہبی تعصب کے اندھیرے غار میں لے جاکر پھینک دیں اور اس کی شناخت ہندو ریاست کے طورپر کرا دیں یا 20 کروڑ مسلمانوں ، آزاد خیال ہندوئوں اور سکھوں اور عیسائیوں کو اعتماد میں لے کر اسے تمام آبادیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ والے ملک کے مقام پر لے جائیں… آ ج کا بھارتی مسلمان اسی جنگ کا سپہ سالار بن کر ایک بڑا قومی کردار ادا کرنے کا عزم لئے ہوئے ہے… دہلی کا تاریخی شاہین باغ ، جامعہ ملیہ دہلی ، علی گڑھ یونیورسٹی اور ان کے پیچھے بچے کھچے سیکولر ہندوستان کی نشانی جواہر لعل یونیورسٹی (جینیو) اس کی پشتیبان بنی ہوئی ہے…

وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے مقہور اور مغضوب کروڑوں مسلمان پورے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنے بھارتی ساتھیوں کے ساتھ آ ملیں گے اور یہ تحریک اتنی قوت پکڑ لے کہ مودی سرکار کے لئے اس کی یلغار کو روکنا مشکل تر ہو جائے گا… گزشتہ برس 5 اگست کو جب نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے کشمیر کا ناجائز طور پر ادغام کر لیا تھا اور اپنے آئین کی دفعہ 370 اور ذیلی شق 35اے کو حذف کر کے اپنے عالمی تعلقات کی وجہ سے سمجھ لیا تھا کہ پاکستان کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت کشمیر کو ان سے آزاد نہیں کرا سکتی… اب ان کو اندرونِ بھارت جس تحریک کا سامنا ہے یہ اگر اپنے منطقی عروج کی طرف چل پڑی تو نہ صرف کشمیریوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے ایک نئی راہ مل جائے گی بلکہ بھارت کے اندر بسنے والی کئی دوسری قوموں پر بھی اگر مکمل آزادی یا علیحدگی نہیں تو بڑی حد تک داخلی خودمختاری حاصل کرنے کی راہیں کشادہ ہو سکتی ہیں… پاکستان اس سلسلے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے ابھی تک تو امریکی صدر ٹرمپ ہمیں بار بار کشمیر پر ثالثی کا چکمہ دے کر افغانستان کے اندر اپنا اُلو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں… گزشتہ دنوں ڈیوس میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ جھانسہ دیا اور ہماری حکمران پارٹی کو خوش کردیا لیکن جب انہیں دعوت دی گئی کہ وہ بھارت کے دورے کے ساتھ پاکستان بھی آئیں تو یہ کہہ کر ٹال گئے کہ اس کا پروگرام بعد میں بنائیں گے… نریندر مودی جتنے متعصب ہیں ٹرمپ ان سے کم درجے کے نہیں… وہ امریکیوں کی سفید نسل والی قوم پرستی کے دلدادہ اور علمبردار ہیں اور اس وقت انہوں نے علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کا جو منصوبہ پیش کیا ہے اس پر عمل ہو گیا تو بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ سمیت پورے یروشلم شہر اور شرقِ اردن کی ناجائز یہودی آبادیوں پر فلسطینیوں کا حق باقی نہیں رہے گا بلکہ انہیں اگلے چار برس کا لولی پوپ دیا گیا ہے کہ اگر تمہارا رویہ ٹھیک رہا اور تم نے ہماری ہدایات پر عمل کیا تو ویران علاقوں میں ایک نام نہاد قسم کی آزاد ریاست عطا کی جاسکتی ہے… اگر کشمیر کے لئے بھی صدر ٹرمپ اسی طرح کی ثالثی کا کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے توبہ ہی بھلی… عمران خان کی حکومت معلوم نہیںکس بات پر لٹو ہوئے جا رہی ہے تاہم بھارت کے اندر کے موجودہ حالات کوسامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے لئے آبرومندانہ اور اہل کشمیر کی آزادی کے تحفظ والا راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہم عالمی سطح پر جہاں جہاں نریندر مودی کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف پرزور مطالبات اور مظاہرے ہو رہے ہیں ان کی کامیابی کو یقینی بنانے اور ان کی آواز کو دنیا کے ہر پالیسی ساز اور ہوشمند انسان تک پہنچانے کو یقینی بنائیں تاکہ بھارت کے اندر جو تحریک اس وقت برپا ہے یہ پورے عالم انسانیت کی آواز بن کر ابھرے اور بھارتی حکومت ایسے دبائو میں آ جائے کہ اس کے لئے ایک آزاد اور روشن خیال ریاست کے طور پر اپنا چہرہ منوانا مشکل ہو جائے تاکہ بھارت کے اندر چلنے والی موجودہ تحریک جتنا زور پکڑے اسی تناسب کے ساتھ عالمی سطح پر بھی اس کے حق میںبھرپور آواز بلند ہو… پھر وہ وقت دور نہیں رہے گا جب کشمیریوں کی آواز بھی پوری ہمدردی اور معقول دلائل کے ساتھ سنی اور سمجھی جائے گی… اس کی خاطر پاکستان کو نہایت درجہ کی اعلیٰ ڈپلومیسی اختیار کرنا ہو گی… کیا ہمارے کارپردازان مملکت اس کی صلاحیت رکھتے ہیں… اس میں ان کا بہت بڑا امتحان ہے …


ای پیپر