29 جنوری 2020 2020-01-29

پاکستان کی سیاست کوہ قاف کے جنات پریوں اور جادوگری کی کہانیوں سے ملتی جلتی ہے اس لیے اس پر وثوق سے بات کرنا رائے قائم کرنا یا پیش گوئی کرنا خاصا مشکل کام ہے یہاں معاملات فطری تقاضوں یا فکری صلاحیتوں پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ اچانک حادثاتی طور پر آؤٹ آف باکس حل نکالے جاتے ہیں یہ کوہ قاف کی ایسی جادونگری ہے جسے سمجھنا اتنا آسان نہیں ۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے جب ایک ایسے ہی اُڑن کھٹولے پر بیٹھ کر سردار عثمان بزدار تخت لاہور پر لینڈ ہوئے تو اہل پنجاب بڑے تجسس سے ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے تھے کہ یہ عثمان بزدار کون ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ تحریک انصاف پنجاب کے پاس وزیراعلیٰ کے امیدواروں کی ایک طویل فہرست تھی جو ایک سے بڑھ کر ایک تھے لیکن قرعۂ فال عثمان بزدار کے نام نکلا جنہیں پارـٹی میں آئے صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ علیم خان، جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی، چوہدری سرور جیسے رستم زمان دیکھتے رہ گئے

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

تحریک انصاف پر نفسیاتی دباؤ تھا کہ شہباز شریف جیسے منجھے ہوئے قد آور وزیراعلیٰ کے مقابل پارٹی نے اہل پنجاب کو متبادل مہیا کرنا تھا جس میں پارٹی کو لا متناہی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ آج بھی تھم نہیں سکا لیکن پارٹی پالیسی یہ تھی کہ پنجاب اور پختونخوا دونوں صوبوں میں کمزور اور لو پروفائل لوگوں کو گمنامی سے اٹھا کر صوبے کا سب سے بڑا منصب دے دیا گیا جس میں اکابرین کی حکمت یہ تھی کہ ایک تو صوبائی اقتدار کو عیار امیدواروں سے بچایا جائے کیونکہ انہیں کنٹرول کرنے کا مسئلہ در پیش تھا دوسری وجہ یہ تھی کہ ایسے ناتجربہ کار لوگ بٹھائے جائیں جو اپنی اہلیت کے ادنیٰ معیار کی وجہ سے مرکزی قیادت کے تابع فرمان ہو کر رہیں۔

امریکہ میں deep state ایک اہم اصطلاح ہے جسے ہم ریاست کے اندر ریاست کہہ سکتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ بظاہر تو حکومت عوام کے ووٹوں سے بنتی ہے لیکن اصل فیصلے ریاست کے اندر ریاست یعنی deep state کی طرف سے کیے جاتے ہیں جس میں پینٹاگون (امریکی فوجی قیادت) بیورو کریسی، سی آئی اے اور امریکی سرمایہ دار شامل ہوتے ہیں۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی اپنی ایک غیر اعلانیہ اور خفیہ deep state ہے جو پارٹی کی پشت پر رہ کر سارا کچھ کر رہی ہے یہ غیر منتخب لوگ ہیں جو نظر نہیں آتے مگر چھپ بھی نہیں پاتے۔ اس پارٹی کے پاس نصف سنچری کے لگ بھگ ایسے مشیر ہیں جن کا درجہ اور مراعات وزیر کے برابر ہیں یہ لوگ یا تو الیکشن میں اپنی سیٹیں ہار گئے تھے یا ان کا سیاست سے کچھ لین دین نہیں مگر وزیراعظم عمران خان سے ذاتی راہ و رسم کی بنیاد پر منظور نظر ہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت نے 300 اعلیٰ سرکاری عہدوں پر ایسے افراد کو لگایا ہے جس میں ق لیگ کو حصہ نہیں دیا گیا۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار جب نئے نئے بنے تھے ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کو فائل پڑھنی نہیں آتی تو اس وقت انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کی اونچی کرسی کے دو پہلو بڑے اہم ہوتے ہیں پہلا تو حکمرانی یا گورننس کا ہے کہ کس کس طرح سے پارٹی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا ہے یہ مشکل کام ہے جس میں شہباز شریف جیسے وزیراعلیٰ بھی عوامی امنگوں پر پورے نہیں اترتے وزیراعلیٰ کا دوسرا پہلو صوبے کے 36 اضلاع میں پولیس اور سویلین ملازمین کی ٹرانسفر پوسٹنگ اور ترقی کا ہے۔ عثمان بزدار نے اس فیلڈ میں خاصی مہارت حاصل کر لی ہے جتنی ٹرانسفرز انہوں نے ڈیڑھ سال میں کی ہیں شہباز شریف شاید 5 سال میں بھی نہیں کر سکے۔

اگر آپ پنجاب میں آٹے کے بحران کی تحقیقات کرنے بیٹھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آٹے اور گندم کی ویلیو چین میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور فلور مل مالکان کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ گندم کی کاشت میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر پے در پے تبدیل کر دیئے گئے یہ سارا سلسلہ سیکرٹری فوڈ نسیم صادق کی ٹرانسفر کے بعد شروع ہوا جن کا شمار لائق، محنتی اور ایماندار ترین بیورو کریٹس میں ہوتا ہے۔ انہیں اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کی ٹرانسفر کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے بعد جس جس طرح ٹیلی فون پر زبانی احکامات کے ذریعے یہ ٹرانسفرز کروائی گئیں، اس کے بعد نئے آنے والے فوڈ کنٹرولرز نے فلور مل مالکان کے ساتھ مل کر کرپشن کا بازار گرم کیا۔ سبسڈی پر دی گئی گندم کو فلور مل مافیا نے آٹا بنانے کی بجائے مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں پورے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ حکومت خواب خوگوش کے مزے لیتی رہی جب ہوش آیا تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔

شہباز شریف نے پنجاب کی 7 وزارتیں اپنے پاس رکھ کر جو حکمرانی کا ریکارڈ قائم کیا تھا لگتا تھا کہ یہ نہیں ٹوٹے گا مگر وزیراعظم عمران خان نے وہ ریکارڈ پاش پاش کر دیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا۔ انہوں نے بزدار کو وزیراعلیٰ بنا کر پورے کا پورا پنجاب گویا اپنی جیب میں ڈال لیا۔ یہ پنجاب پر عمران خان کی بے نامی حکومت نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ پنجاب پر ڈیپ سٹیٹ کی حکمرانی کی ناقابل تردید مثال ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکمران پارٹی کے اندر بھی جب عثمان بزدار کو ہٹانے کی بات ہوتی ہے تو کوہ قاف کے جنات حرکت میں آ جاتے ہیں۔ طاقت کے ایوانوں کے دروازوں اور کھڑکیوں سے دھواں نکلنے لگتا ہے۔ عمران خان نے روحانی طور پر یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کی حکومت عثمان بزدار کی حکومت سے مشروط ہے یہ وہی بات ہے جیسے پرانی کہانیوں میں ہوتا تھا کہ جادوگر کی جان کوہ قاف کی وادی میں 7 پنجروں کے اندر قید ایک طوطے میں ہے۔ جب تک وہ طوطا محفوظ ہے جادو گر پر کوئی تیر تلوار اثر نہیں کرے گا۔

البتہ عثمان بزدار کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے خلاف ایک False Flag ناراض گروپ بنوا کر عمران خان کو پیغام دے دیا ہے کہ پنجاب کو بیورو کریسی کے ذریعے چلانے کا سلسلہ بند کریں جس کے بعد اتحادی جماعت ق لیگ اور اپوزیشن ن لیگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ لوہا گرم ہے پانچ چھ سیٹوں کی اکثریت پر قائم پنجاب حکومت کی چھٹی کرائی جا سکتی ہے مگر شہباز شریف خود کمزور وکٹ پر ہیں۔ پنجاب تحریک انصاف کی پولیٹیکل لیب بن چکا ہے جہاں عثمان بزدار کا ٹرائل جاری ہے۔


ای پیپر