29 جنوری 2020 2020-01-29

لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اگر اربن ٹرانسپورٹ کا مؤثر اور منظم نظام نہ ہو تو روزانہ سکولوں، کالجوں ، دفاتر اور فیکٹریوں کو جانے والوں پر ہر روز کیا بیتتی ہے یہ صرف وہی جانتے ہیں۔ طالب علم، محنت کش، سرکاری ملازمین اور چھوٹے دکاندار ہر روز کس اذیت سے دوچار ہوتے ہیں اس کا اندازہ ہمارے حکمران ہرگز نہیں لگا سکتے۔ ہمارے پالیسی سازون اور حکمران طبقے کی اکثریت نے شاید ہی لاہور یا کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کیا ہو۔ ہماری پبلک ٹرانسپورٹ کے فیصلے وہ کرتے ہیں جو خود کبھی اس میں سفر نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی لاہور میں اربن ٹرانسپورٹ کی سرکاری کمپنی ہوتی تھی جو والوو اور ہینو بسیں چلاتی تھی۔ پھر اس سرکاری کمپنی کو بند کر دیا گیا اور لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ نجی شعبے کے حوالے کر دی گئی۔ نجی شعبے کی کئی کمپنیاں سامنے آئیں اور مختلف روٹس پر بسیں دوڑنے لگیں مگر جیسے ہی حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والی سبسڈی بند ہوئی تو یہ بسیں بھی غائب ہو گئیں۔ اس ناکام تجربے کے بعد ایک بار لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (LTC) کے نام سے سرکاری ادارہ وجود میں آیا اور نجی شعبے کی مدد سے لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کو منظم کرنے کا آغاز ہوا ۔ کئی سال

یہ بسیں چلتی رہیں مگر چند روز قبل اچانک لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (LTC) کے تمام روٹس بند کر دیئے گئے۔ اس وقت لاہور میں LTC کے تمام روٹس بند ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ جو ہر ٹاؤن اور واپڈا ٹاؤن سے سول سیکرٹریٹ یا شہر کے مرکز میں آنے والے ہزاروں لوگ کس اذیت سے دو چار ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان کی جیبوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے بلکہ ان کے سفر کے دورانیے میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ بزرگ، خواتین اور طلباء کے لیے سفر کرنا ایک اذیت ناک اور تکلیف دہ مسئلہ بن گیا ہے مگر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی ، محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک لوگوں کو اس اذیت اور تکلیف سے نکالنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ لاہور میں اس وقت 35 ہزار سے زائد چنگ چی رکشے چل رہے ہیں۔ اس سے بھی کچھ زائد آٹو رکشے موجود ہیں جو بہت حد تک ٹرانسپورٹ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ کرایوں میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے رکشے کی سواری اب نچلے درمیانے طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے جبکہ چنگ چی رکشے کی سواری نہ تو آرام دہ ہے اور نہ ہی محفوظ، اس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف شور بڑھا ہے بلکہ دھواں بھی بڑھ گیا ہے۔ ہمارے پالیسیاں سازوں نے پوش علاقوں کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے شہر کے پوش علاقوں کی سڑکوں پر ان رکشوں کا داخلہ بند کر دیا جبکہ باقی پورے شہر اور اس کے غریب اور نچلے طبقے درمیانے کے لوگوں کو اس عذاب کے حوالے کر دیا گیا۔ مثلاً اس رکشے کا داخلہ مال روڈ اور جیل روڈ پر تو بند ہے کیونکہ اس سے شور اور دھویں میں اضافہ ہوتا ہے مگر لاہور کے اکثر علاقوں میں یہ واحد پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر موجود ہیں۔

دنیا کے تمام جدید اور ترقی یافتہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید ترین نظام انڈر گراؤنڈ ٹرینوں کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں تک کہ بھارت کے تمام بڑے شہروں میں بھی میٹرو ٹرین کا نظام قائم ہو گیا ہے۔ دنیا جدید ترین ٹرانسپورٹ کے نظام کے ساتھ 21 ویں صدی میں داخل ہوئی جبکہ ہم چنگ چی رکشوں کے ساتھ 21 ویں صدی میں داخل ہوئے۔ ہم نے تانگوں سے تو نجات حاصل کر لی مگر اس کے متبادل کے طور پر جو ہمیں ملا وہ تانگے اور گھوڑے سے بھی گیا گزارا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے مؤثر، مربوط اور منظم نظام کو ہمارے حکمران طبقات نے کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ مزید گھمبیر ہو تا گیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید اور مؤثر نظام کے بغیر جدید شہری زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ ذاتی گاڑیوں میں اضافہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ باقی گزارشات اگلے کالم میں عرض کروں گا۔


ای پیپر