29 جنوری 2020 2020-01-29

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف سنائی دینے والی چہ مگوئیاں اس وقت اچانک دم توڑ گئیں جب وزیراعظم نے دورہ لاہور کے دوران اراکین اسمبلی کو دو ٹوک انداز میں بتایا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ بزدار کے پاس ہی رہے گی۔عمران خان نے اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اگر بزدار کو تبدیل کیا تو اگلا وزیر اعلی 20دن بھی نہیں چل پائے گا۔عمران خان کے دورہ لاہور سے قبل پنجاب میں سیاسی صورتحال خاصی کنفیوز نظر آ رہی تھی۔ پریشر گیم کے تحت ایک طرف اتحادیوں کی ناراضگی کا نقارہ بج رہا تھا تو دوسری طرف جنوبی پنجاب کی لابی سرگرم تھی اور یہی نہیں بزدار کے حمایتی 20رکنی گروپ کا بھی تاثر یہی تھا کہ وہ پنجاب کے چیف ایگزیکٹو سے باغی ہیں مگر حقیقت میں نہ تو اتحادی، نہ ہی جنوبی پنجاب والے اور نہ ہی ہم خیال یا سپرمیسی آف پارلیمنٹ گروپ کے ممبران عثمان بزدار کے خلاف تھے۔ کوئی خلاف تھا یا ہے تو بیوروکریسی اور پولیس کے عدم تعاون کے۔ پی ٹی آئی حکومت کی بدقسمتی یا خوش قسمتی یہ ہے یہاں ون مین شو نہیں ہے۔ شہباز شریف کے مقابلے میں عثمان بزدار کی کسی بھی محکمے میں مداخلت انتہائی کم ہے۔ ایسی صورتحال میں صوبائی وزراء، مشیران اور چئیرمین وائس چئیرمین کے عہدوں پر فائز سیاسی شخصیات اختیارات کا استعمال کرنا چاہتی ہیںمگر بیوروکریسی اور پولیس کو چیف ایگزیکٹو سے نیچے کسی کی سننے کی عادت نہیںہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں کوئی بھی محکمہ دیکھ لیں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھے بیوروکریٹ اور سیاست دان اختیارات کی جنگ میں ترقیاتی منصوبوں سمیت کئی محکموں کے فنڈز روکے ہوئے ہیں۔اختیارات کی یہ جنگ صرف بیورو کریسی اور سیاست دانوں کے درمیان محدود نہیں ہے بلکہ صوبوں اور وفاق کے سیاسی

نمائندوں کے درمیان بھی یہی لڑائی ہے۔ عمران خان لاہور آئے تو انھوں نے ایم پی ایز اور ایم این ایز سے الگ الگ ملاقاتیں کی۔ اراکین اسمبلی نے شکایت لگائی کے صوبائی فنڈز بھی ایم این ایز لے جاتے ہیں، ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں حلقے میں عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو گیا ہے ، کسی نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی اور بجلی کے زیادہ بلوں پر عوام سوال پوچھتے ہیں ہم کیا جواب دیں؟ اس پر عمران خان بولے کے عوام کو حقیقت بتائیں کہ مہنگائی گزشتہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔سنا ہے کہ لاہور میں اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنی ذات پر روایتی تقریر کر کے اراکین اسمبلی کو یاد دلایا لے عمران خان چاہتا تو شہزادوں کی زندگی گزار سکتا تھا مگر اس نے ملک کی خاطر قربانی دی اسی لیے آپ لوگ بھی اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔ لاہور دورے سے قبل خیبرپختونخوا میں 3 وزراء کی وزارتیں واپس لے کر ایک تو عمران خان نے پنجاب میں سر اٹھاتے باغیوں کو پیغام دیا تو دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی عمران خان کے دورے سے 48 گھنٹے قبل 20رکنی گروپ، پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر اور پی ٹی آئی کے سینئر ترین رہنما جہانگیرترین سے ملاقات کر کے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی۔یہ کوشش کامیاب بھی ہوئی اور وزیر اعظم نے دو ٹوک اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مجھے سازشیں کرنے والوں کا علم ہے۔عثمان بزدار کے بارے میں پی ٹی آئی کے ایک دھڑے میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ وزیراعلی پنجاب کو استخارہ کرانے کے بعد نامزد کیا گیا تھا۔ اس دھڑے کے مطابق عمران خان کا یہ ماننا ہے کہ اگر پنجاب میں عثمان بزدار کو تبدیل کیا گیا تو وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں رہے گی۔ یہ یقین اپنی جگہ مگر تکنیکی بنیادوں پر بھی دیکھا جائے تو عمران خان نے کے پی کے  اور پنجاب دونوں میں کسی بااثر شخصیت کو وزرات اعلیٰ اس کیے بھی نہیں سونپی کے اختیارات اور دھڑے بازی کی ایک نئی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر علیم خان کو پنجاب میں سینئر وزیر لگایا گیا تو یہ تاثر قائم ہوا کہ صوبے کے معاملے علیم خان چلا رہے ہیں۔ اسی طرف عاطف خان کو کے پی کے میں منصب سے اسی لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے کوشاں تھے۔ اس لحاظ سے عمران خان کی اختیارات اپنے کنٹرول میں رکھنے کی حد تک یہ پالیسی درست بھی ہے مگر انتظامی خلا موجود رہے گا۔ بغاوت کو کچلنے کی بات کی جائے تو پنجاب میں کے پی کے برعکس مفاہمت کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ ق لیگ کو ترقیاتی فنڈز کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے پرانے کارکنان کے لیے عاطف خان اور دیگر وزراء کے وزارت واپس لے کر پیغام دیا گیا اسی طرح جنوبی پنجاب جو پہلے بھی وزیراعلی پنجاب کی ترجیحات میں شامل کے وہاں مزید ترقیاتی کاموں کی منظوری بھی لے لی گئی ہے اور اراکین کی بغاوت کو بنیاد بنا کر وزیراعلی پر لگنے والے جانبداری کے الزام کو بھی زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لیے بظاہر نظر آنے والے تاثر کے مطابق اتحادیوں سمیت دیگر سر اٹھاتے باغیوں کو صرف چوکوں چھکوں سے سر نہیں کیا گیا بلکہ باوثوق ذرائع کے مطابق ق لیگ اور دیگر من پسند نمائندوں کے لیے 8 ارب روپے کے فنڈز بھی منظور کر لیے گئے۔پشاور کی طرح پنجاب میں بھی پہلے دن سے یہ تاثر ہے کہ وزارت اعلیٰ کا منصب عثمان بزدار کے پاس ضرور ہے مگر پس پردہ طاقت کا منبع کوئی اور ہے۔ میری وزیر اعلیٰ پنجاب سے رپورٹنگ کی غرض سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ذاتی مشاہدہ بیان کروں تو عثمان بزدار اتنے بھی سادہ یا بے اختیار نہیں ہیں جتنا تاثر دیا جا رہا ہے اس کا اندازہ مجھے انکے ایک جواب سے اس وقت ہوا جب کسی ساتھی کہ سوال پر معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ چیف ایگزیکٹو نے جواب دیا کہ جیسے ڈگری ڈگری ہوتی ہے ایسے ہی وزیراعلیٰ وزیر اعلی ہوتا ہے۔


ای پیپر