پی ٹی ایم کے رہنماﺅں کی گرفتاری پر حکومت کا پہلا ردعمل
29 جنوری 2020 (21:10) 2020-01-29

اسلام آباد:پاکستان کے وفاقی وزیر برائے داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے مذاکرات اپنی جگہ لیکن اگر کوئی ملک کا قانون توڑے گا تو انھیں ہرصورت گرفتار کیا جائے گا، وزیرِ اعظم کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو ٹیبل پر آئیں۔

اعجاز شاہ نے کہا جنگ سے، لڑائی سے کوئی چیز حل نہیں ہوتی۔ اور یہ ملک کے لیے، قبائل کے لیے اور برادری کے لیے اچھا ہے، ٹیبل پر بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جا کر مذاکرات کارمیں سے کوئی ایک آدمی کا قتل کر آئے یا کوئی جرم کرلیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ مجھ سے بات کر رہے ہیں، تو میں آپ کو پکڑوں ہی نہیں؟ قانون نافذکرنے والے اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے، مذاکرات کرنے والے اگر وہ غلط کام کریں گے تو پکڑے جائیں گے، احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ بھی ہے ، عدالتیں آزاد ہیں، وہی مقدمے کا فیصلہ کریں گی۔بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہے۔ اسی لیے ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جہاں تک پختونوں کی بات ہے، پختون اس حکومت کے ساتھ ہیں۔

منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے ، اس حوالے سے ایک سوال کے جوا ب میں اعجاز شاہ نے کہا کہ اگر آپ ملک کا قانون توڑیں گے، تو آپ کو گرفتار کیا جائے گا۔ انھوں نے ملک کا قانون توڑا ہوگا تبھی ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما کئی بار حکومت کے ساتھ اور حکومت کی طرف سے بنائے گئے جرگوں میں مذاکرات کرنے کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ اب تک اس حوالے سے سال 2018 اور 2019 میں کئی بار ملاقاتیں کی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں فریقین کسی بات پر متفق نہیں نظر آتے۔

مذاکرات کی بات پر وفاقی وزیر برائے داخلہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا موقف ہے کہ اگر آپ کسی چیز کا حل چاہتے ہیں تو ٹیبل پر آئیں۔ جنگ سے، لڑائی سے کوئی چیز حل نہیں ہوتی۔ اور یہ ملک کے لیے، قبائل کے لیے اور برادری کے لیے اچھا ہے۔ پختونوں کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک بات ہے پختونوں کی۔ تو ہماری جماعت کی دو تہائی اکثریت ہے۔ عمران خان پختونوں اور قبائلی علاقوں میں اپنے ضلعے سے زیادہ مشہور ہیں۔ جو انھوں نے سابق قبائلی علاقوں کے انضمام اور پختونوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے بارے میں کیا ہے وہ کسی اور سیاسی رہنما نے نہیں کیا۔ تو رہنما کون ہوا پشتین یا عمران خان؟۔لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک پی ٹی ایم پرامن طریقے سے ملک بھر میں احتجاج کرتی آئی ہے۔ اور جب ان سے مذاکرات کی باتیں ہو ہی رہی ہیں تو ان سے ٹیبل پر بات کیوں نہیں کی جاتی؟۔اس پر اعجاز شاہ نے کہا ٹیبل پر بھی بات ہو رہی ہے۔ اب میں آپ سے ٹیبل پر بات کررہا ہوں، آپ جا کر ایک آدمی کا قتل کر آئیں یا کوئی جرم کرلیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ آپ مجھ سے بات کر رہی ہیں، تو میں آپ کو پکڑوں ہی نہیں؟ قانون ساز اداروں کو اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ جو بات کرنے والے ہیں وہ کر رہے ہیں۔ اگر وہ غلط کام کریں گے تو پکڑے جائیں گے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا خدانخواستہ کہ انھوں نے کسی کا قتل کیا ہے۔ میں مثال دے رہا ہوں۔ان کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں مقدمہ درج ہوا ہے جس کے بعد ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔کل پرسوں جو ان کے دوسرے رکنِ قومی اسمبلی ہیں، وہ بہت اچھے انسان ہیں، وہ ملک اور اداروں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کررہے تھے۔ اور ان کو پکڑ لیا گیا، یہ کل کی بات ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ بھی ہے۔ لیکن یہ طریقہ غلط ہے۔ وہ غلط طریقے سے احتجاج کر رہے تھے۔ عدالتیں آزاد ہیں۔ عدالتیں مقدمے کا فیصلہ کریں گی۔


ای پیپر