سانحہ ساہیوال اور سرکاری بونگیاں!
29 جنوری 2019 2019-01-29

اپوزیشن کو بڑی تکلیف ہوئی ہوگی کہ سانحہ ساہیوال پر حکومت کوویسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جیسی مشکلات کا سامنا سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر سابقہ کرپٹ حکمرانوں کو اب تک کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ یقیناً اِس کوشش میں ہوں گے کرپشن پر کوئی این آر او اُنہیں مِلے اُس میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے چھٹکارے یا معافی کی کوئی شق بھی شامِل کروالیں، وزیراعظم عمران خان نے اِس سانحے پر جِس کرب کا اظہارمیرے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا، مجھے اطمینان ہوگیا اِس سانحے کو کِسی صورت میں بھی کِسی ”کھوہ کھاتے“ میں نہیں پھینکا جائے گا۔ اپوزیشن کی یہ حسرت دِل میں ہی رہ گئی کہ وزیراعظم یا حکومت اِس سانحے کو کِسی کھوہ کھاتے میں پھینکنے کی کوشش کرے اور اِس کے نتیجے میں اپوزیشن کو گندی سیاست کرنے کا مزید موقع مِل جائے.... وزیراعظم عمران خان کی آواز بھرائی ہوئی تھی، میں نے اُن سے کہا ”اِس سانحے سے حکومت کی بڑی بدنامی ہوئی ہے “۔ وہ بولے ”حکومت کی بدنامی سے زیادہ انسانیت کی جو تذلیل ہوئی ہے میں اِس پر دُکھی ہوں۔ ہم نے اِس معاملے میں ذرا کوتاہی یا سُستی کا مظاہرہ کیا ہمیں اِس کا حساب دینا پڑے گا۔ اِس میں جو جتنا قصوروار ہوا اُس کے مطابق اُسے سزا مِلے گی ....پھر ہم نے دیکھا ایسے ہی ہوا۔ اپنے اعلان کے مطابق بہتر گھنٹوں میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ جے آئی ٹی نے ابتدائی تفتیش مکمل کرکے حکومت کو رپورٹ دی جِس کے نتیجے میں اِس سانحے کے براہ راست ذمہ داروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت پرچے درج کرلیے گئے اور اِس سانحے میں کوتاہی کے مرتکب ہونے والے پولیس افسران کو فوری طورپر اُن کے عہدوں سے الگ یا معطل کردیا گیا ،.... ابھی چند روز پہلے سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سی ٹی ڈی کی کوششوں سے ہمیں آگاہ کررہے تھے، میرے چھوٹے بھائی، فیصل آباد سے ایم این اے اور ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری فرخ حبیب بھی موجود تھے۔ اکثر افسران کِسی نہ کِسی بہانے قلم کاروں کے سامنے اپنی کارکردگی بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، مگر رائے طاہر کے بارے میں ذاتی طورپر میں جانتا ہوں بطور ایڈیشنل آئی جی، سی ٹی ڈی اُنہوں نے بہت محنت کی۔ بہت سے ایسے دہشت گرد گرفتار کیے، اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا کبھی یہ رِسک نہ لیتا جِس سے اُس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے۔ اُنہوں نے کِسی خطرے کی پروانہیں کی۔ اِس سے پہلے خطرناک دہشت گردوں سے نمٹنے کی ایسی کوششیں شاید طارق پرویز نے کی تھیں، جو بعد میں ڈی جی ایف آئی کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اُن کے بعد یہ موقع رائے طاہر کو مِلا، اپنی جان مال اولاد کی پرواکیے بغیر صِرف اور صِرف قومی مفاد میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے لازوال کارنامے اُنہوں نے کیے اور اُس کی تشہیر بھی نہیں کی، وہ خاموشی سے کام کرنے والے پولیس افسر ہیں، وہ سمجھتے ہیں اپنے فرائض ادا کرنے کی اُنہیں تنخواہ مِلتی ہے۔ غیرضروری طورپر میڈیا کے ذریعے اپنے فرائض کا کریڈٹ لینے سے اُنہوں نے ہمیشہ گریز کیا ورنہ میری نظر میں ذوالفقار چیمہ ایسے پولیس افسر بھی ہیں جو اُن چھوٹے چھوٹے کارناموں کا کریڈٹ بھی کھچ کھچاکے اپنے کھاتے میں ڈال لیا کرتے تھے جو اصل میں کسی سپاہی یا تھانیدار کے ہوتے تھے۔ ....

ایک انتہائی اہل اورایماندار پولیس افسر طارق عباس قریشی نے بڑی اچھی بات کی۔ اُنہوں نے فرمایا ” سانحہ ساہیوال ایک ایسا حادثہ ایسا کار ایکسیڈنٹ ہے جیسے آپ کِسی لمبے سفر پر گھر سے نکلتے ہوئے اپنی گاڑی اچھی طرح چیک کرتے ہیں۔ اُس کا تیل پانی دیکھتے ہیں، ٹائروں میں ہوا پوری کرواتے ہیں، اِس کے باوجود جو حادثہ ( ایکسیڈنٹ) مقدر میں لکھا ہوتا ہے ہوکر رہتا ہے۔ اِس سانحے میں سی ٹی ڈی پولیس کے کچھ اہل کاروں اور افسروں کی نااہلی عروج پر تھی۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر پر اِس حدتک ضرور افسوس ہے بجائے اِس کے، اِس سانحے کے فوراً بعد کچھ نااہل اور ظالم اہلکاروں کے جُرم کا کُھلے دل سے اعتراف کرلیتے جھوٹ پر جھوٹے بول کر اپنی اور اپنے ادارے کی اُس ساکھ کو راکھ میں مِلانے کی پوری کوشش کی گئی جو اپنی گزشتہ کئی ماہ کی محنت سے خود ہی اُنہوں نے قائم کی تھی۔ یہ ایک المیہ ہے سی ٹی ڈی کے کچھ ظالم اہلکاروں اور افسروں کی غلط پلاننگ نے اپنے ادارے اور اپنے ایڈیشنل آئی جی کی انتھک کوششوں پر پانی بلکہ خون پھیر کر رکھ دیا اور حکومت کے لیے ایسی شرمندگی کا باعث بن گئے جِس سے اپوزیشن اور دیگر حکومت مخالف قوتوں نے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی، ....وزیراعلیٰ پنجاب کا رویہ بھی افسوسناک تھا، زخمی بچوں کی عیادت کرتے ہوئے وہ فرما رہے تھے ہم اِن بچوں کو دوکروڑ روپے کی کمپلیشن دیں گے، اِس کے جواب میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی کا یہ کہنا بالکل بجا تھا کہ

”آپ ہم سے اڑھائی کروڑ لے لیں اور اِن معصوم بچوں کے والدین کو واپس لے آئیں“۔ یہ موقع ایسی بات کرنے کا ہرگز نہیں تھا، بس اتنا فرما دینا کافی تھا اِن بچوں کی کفالت سرکار کے ذمے ہوگی، وزیراعلیٰ بزدار شاید یہ سمجھتے ہیں ہر معاملے میں کوئی نہ کوئی ”چول“ مارنا اُن کے منصب کا حصہ ہے۔ اگر وہ یہ نہیں کریں گے لوگوں کو پتہ کیسے چلے گا وزیراعلیٰ بزدارہیں، یا پھر وہ جان بوجھ کر بے و قوفیوں پر بے وقوفیاں کرتے چلے جاتے ہیں تاکہ کسی روز تنگ آکر وزیراعظم عمران خان اُنہیں اُن کے عہدے سے ہٹا دیں جِس کے بعد وہ دوبارہ آرام دہ زندگی بسر کرنا شروع کردیں اور آسانی سے یہ سوچ بچار کر سکیں اگلی پارٹی کون سی ہے جِس میں اُنہوں نے شمولیت اختیار کرنی ہے؟۔ ایک تو خیر سے وہ خود کم عقل ہیں اُوپر سے کم عقل بیوروکریٹس اپنے ساتھ اُنہوں نے جوڑے ہوئے ہیں۔ سوئے ہوئے زخمی بچوں کے آگے پھول رکھ کر تصویریں اُتروانے کا فیصلہ اپنا تھا تو ظاہر ہے اِس احمقانہ پن کی سزا وہ خود کو خودبخود تو نہیں دے سکتے، لیکن اگر یہ مشورہ اُنہیں کسی افسر نے دیا تھا تو اُس افسر کی قربت سے خود کو فوری طورپر اُنہیں الگ کردینا چاہیے ورنہ ممکن ہے کسی روز وہ افسر اُنہیں یہ مشورہ ہی نہ دے ڈالے سی ٹی ڈی کے جِن اہلکاروں نے بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسائیں اُن کے گھر جاکر اُن کے بال بچوں کے لیے بھی تھوڑی امداد کا اعلان کردیں، نااہل وہ خیر سے پہلے ہی بہت ہیں، ایسے مشوروں پر عمل کرنے کے بعد خود کو خودبخود ہی بے حِس بھی وہ ثابت کردیں گے،.... سانحہ ساہیوال کے فوراً بعد آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اُن کے کردار کو مشتاق سکھیرا کی نااہلیوں سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی، مشتاق سکھیرے جیسا بے کار افسر شاید ہی کوئی ہوگا۔ امجد جاوید سلیمی اُس کے مقابلے میں فرشتہ ہے، مشتاق سکھیرے پر الزام ہے ماڈل ٹاﺅن میں بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسانے کا حکم یا مشورہ دینے والوں میں وہ بھی شامل تھا، بلکہ کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں اُسے لایا ہی اِس لیے گیا تھا، .... سانحہ ساہیوال کے حوالے سے امجد سلیمی پر ایسا کوئی الزام نہیں، وہ ایک رحم دِل انسان ہیں، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں آئی جی پنجاب بن کر وہ کچھ زیادہ ہی رحم دِل ہو گئے ہیں جِس کا اُن کے کچھ ماتحت ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں، اپنے ماتحت کینسر کے ایک مریض افسر کے لیے اُن کی آنکھوں میں آنسوﺅں کا سیلاب دیکھ کر خود میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا تھا، جو شخص ایک مکھی تک مارنے کا تصور نہ کرسکتا ہو وہ کیسے یہ چاہے گا اُس کی فورس بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلے۔ البتہ میں اُن کے کچھ انتہائی مخلص ماتحتوں اور دوستوں کی اِس رائے سے مکمل طورپر متفق ہوں اپنی کچھ پالیسیوں کا اُنہیں اب ازسر نو جائزہ لینا چاہیے!!


ای پیپر