حضرت میاں میر ؒکون ہیں؟
29 جنوری 2019 (00:00) 2019-01-29

حافظ محمد عمر:

سکھ مت کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو جنہوں نے سکھوں کی سب سے مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ مرتب کی ( یہ کتاب اس سے پہلے سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھی) نے جب امرتسر میں واقع ایک تالاب پر سکھوں کے سب سے بڑے گرودوار ‘‘گولڈن ٹیمپل’’ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو انھیں سمجھ نہ آتی تھی کہ اس کا سنگ بنیاد کون رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تعمیر دو سے تین برس تک رکی رہی، آخر ایک روز گروارجن دیو جی جب سو کر اٹھے تو انھوں نے لاہور جانے کا پروگرام بنایا، گرو کے دیگر ساتھی پہلے تو حیران ہوئے مگر گرو کے حکم کے آگے انکار کی کسے مجال تھی۔

آخر گروارجن دیو جی لاہور پہنچ گئے اور سیدھے حضرت میاں میر صاحب ؒکی خدمت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھیں، چنانچہ حضرت میاں میر ؒامرتسر تشریف لے گئے اور 13 جنوری 1588ء کو وہاں اینٹیں لگا کر سکھوں کے مشہور مقدس ترین گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھا۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت اور دنیا کے دیگر علاقوں سے آنیوالے سیکھ یاتری جب لاہور آتے ہیں تو وہ حضرت میاں میر ؒکے دربار پر ضرور حاضری دیتے ہیں۔ سکھوں میں آج بھی میاں میر ؒکو بہت احترام کے ساتھ اعلیٰ مقام کے حامل بزرگ قرار دیا جاتا ہے۔ حضرت میاں میر ؒ مسلمانوں، سکھوں و دیگر مذاہب میں یکساں طور پر مقبول تھے۔

حضرت میاں میر ؒکون ہیں؟

آپ لاہور شہر کی مشہور انفینٹری سڑک سے گزریں گے تو آپ کو یہ سڑک ایک چھوٹے راستے تک لے جاتی ہے جو میاں میر روڈ کے نام سے مقبول عام ہے۔ میاں میر روڈ، میاں میر ہسپتال، میاں میر اسکول، میاں میر بلڈنگ، میاں میر گلی، یہاں تک کہ انگریز دور میں یہ علاقہ میاں میر چھاؤنی کے نام سے مشہور تھا۔ جہاں پر حضرت میاں میر ؒ کا مزار دنیا بھر سے آنے والے مسلم، سکھ اور دیگر زائرین کے لئے مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

حضرت میاں میر ؒسندھ کے شہر سیہون میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام میر محمد تھا۔ میاں میر ؒ 25 برس کی عمر میں سیہون سے نکلے اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ ان کی پرہیز گاری اور تقوی کا یہ عالم تھا کہ اپنے دور کے مغل بادشاہ بھی ان کی سلامی بھرنے پر مجبور تھے۔ اکبر بادشاہ کے دور میں میاں میر ؒ نے سیہون کو خیر آباد کہا تھا، پھر جہانگیر کی ان سے عقیدتمندی رہی، شاہ جہاں تو اکثر ان کی سلامی پر آیا کرتے تھے۔ شاہ جہاں کے بڑے بیٹے دارا شکوہ تو میاں میر ؒکے روحانی اثر سے بھی فیض یاب ہوئے۔ دارا شکوہ کے لبرل خیالات کے پیچھے دراصل میاں میر ؒ کی تعلیمات کا ہی اثر تھا۔

میاں میر ؒ کے والد قاضی سائیں ڈنو بھی اپنے دور کے پرہیزگار اور متقی صوفی بزرگ گزرے ہیں۔ نامور عالم و تاریخ دان مرزا قلیچ بیگ نے سندھی ادبی بورڈ کی شائع کردہ کتاب ’’ قدیم سندھ‘‘ میں میاں میر ؒکے والد کا مختصر احوال بیان کیا ہے کہ، ’’ میاں میر ؒ کے والد قاضی سائیں ڈنو حضرت عمر فاروق ؓکی اولاد میں سے تھے، خود بڑے پرہیزگار، شریعت اور طریقت کے پابند تھے، بعد میں ان کے بیٹے میر محمد جو کہ میاں میر ؒکے نام سے مشہور ہوئے، لاہور میں شیخ خضر قادری ؒکے مرید بنے۔

مرشد کی تلاش

گھر میں علوم کی تکمیل کے بعد حضرت میاں میر والدہ محترمہ کے حکم پر روحانیت کی اگلی منازل کی تکمیل کے لئے مرشد کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

نوجوان میاں میر گھر سے دور کسی راہنما کی تلاش میں چلے جا رہے تھے، شہر کی سرحد ختم ہونے کے بعد جنگل شروع ہو گیا، تن تنہا جنگل سے گزرنے کے باوجود بھی ان کے چہرے پر اطمینان کے آثار ہیں۔ نہ گھر سے دور ہونے کا دکھ ہے، نہ منزل تک پہنچنے کی جلدی۔ جنگل ختم ہوا تو کوہ سیوستان کے پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رات آنے کو تھی۔

اب ان اس کی آنکھیں پڑاؤ کے لیے کسی مقام کو تلاش کر رہی تھیں کہ دور ایک گوشے میں انہیں آگ کی روشنی نظر آئی۔ تجسس انہیں اس روشنی کے قریب لے گیا۔ یہاں انہیں ایک تندور دکھائی دیا جس میں دھکنے والی آگ کی روشنی انہیں نظر آئی تھی۔ میاں میر کو تعجب ہوا کہ اس ویرانے میں یہاں روٹیاں کون پکاتا ہے۔ اس زمانے میں فقیر منش درویش اور اللہ والے بزرگ عموماً شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور جنگلوں اور ویرانوں میں ہی قیام کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ کسی بزرگ کا ہی ٹھکانہ ہے، آگ دہک رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ بزرگ کہیں قریب ہی ہوں گے۔ میاں میر نے سوچا کہ ان صاحب سے ملاقات کرکے آگے چلا جائے۔

رات ایسے ہی گزر گئی۔ دن طلوع ہوا تھا کہ انہوں نے ایک صاحب کو آتے ہوئے دیکھا۔ میاں میر اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھے تھے۔ وہ ایسی جگہ تھے کہ بزرگ کی نظر ان پر نہ پڑسکی۔ وہ بزرگ آئے اور تندور کے قریب ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ میاں میر لرزتے قدموں سے اْٹھے اور ان کے قریب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ ‘‘السلام علیکم….!’’ آپ نے کانپتی آواز میں سلام پیش کیا۔

‘‘وعلیکم السلام، میر محمد….!’’ ان بزرگ نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ اس اجنبی سے اپنا نام سن کر میاں میر ؒ حیرت زدہ رہ گئے۔ ابھی ان کی حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس ویرانے میں بزرگ کی آواز پھر گونجی۔ ‘‘ میر محمد….! تم یہاں کس کے انتظار میں ٹھہرے ہوئے ہو….؟’’

میاں میر ؒ نے جواب دیا ‘‘میری والدہ نے مجھے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے بعد حکم دیا تھا کہ میں سلوک کی منزلیں طے کرنے کے لیے کسی مرد معرفت کی تلاش کروں۔ میں نے حضرت خضر سیوستانی کا نام سنا ہوا تھا۔ بس انہی کی تلاش میں نکلاہوں۔

’’برخوردار! نام تو میرا بھی خضر ہے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ تمہیں کس خضر کی تلاش ہے….؟‘‘

یہ سنتے ہی میاں میر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور بزرگ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا:’’بس میں سمجھ گیا، میری منزل مجھے مل گئی۔ مجھے آپ ہی کی تلاش تھی۔ آپ ؒ ہی خضر سیوستانی ہیں۔ گھر سے نیت کرکے نکلا تھا کہ آپ سے ملاقات ہوگی تو حلقہ غلامی میں شامل ہوجاؤں گا۔‘‘

حضرت شیخ خضر سیوستانی نے فرمایا ‘‘ملاقات تو طے ہو چکی تھی تو پھر تم محروم کیسے رہتے۔ ہمیں تمہارا ہی انتظار تھا اگر تم اس وقت واپس لوٹ جاتے تو یہ ملاقات پھر قیامت تک نہ ہوتی‘‘….

حضرت شیخ خضر سیوستانی نے آپ کو شرف بیعت عطا کیا ، بیعت سے شرف یاب ہونا اگر اس مرید کے لیے سعادت کا باعث تھا تو ان شیخ کے لیے بھی باعث مسرت تھا۔ روشن چراغ کو ایک اور چراغ روشن کی ضرورت تھی۔

حضرت میاں میر ؒ کا ایک اور تعارف

حضرت میاں میر کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ سندھ کے ایک بڑے شاعر قاضی قاضن یا قاضی قادن کے نواسے تھے، قاضی قادن سندھ میں سما دور کے شاعر تھے، ان کے ہم عصروں میں گرونانک، شیخ فرید، بھگت کبیر، میراں بائی اور سور داس شامل ہیں۔ قاضی قادن کی شاعری شاہ عبدالکریم بلڑی کے رسالے میں بھی ملتی ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ پر بھی قاضی قادن کا کافی اثر دکھائی دیتا ہے، شاہ بھٹائی کی شاعری میں کئی جگہوں پر قاضی قادن کی شاعری کے حوالے موجود ہیں۔

لاہور میں حضرت میاں میر کی مزار کے اندر ایک تختی پر ان کا شجرہ نسب لکھا ہوا ہے، جس میں ان کی تاریخ پیدائش، والدہ ماجدہ، والد اور استاد کے نام اور ان کی لاہور آمد اور رحلت کی تاریخیں درج ہیں۔ اس شجرے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ ؒکی نسل حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتی ہے۔

حضرت میاں میر ؒکا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ سکھ مت کے 5 ویں گرو ارجن دیو کی ان سے اتنی محبت و عقیدت تھی کہ اکثر ان کے پاس آیا کرتے تھے، میاں میر کا مقبرہ بھی گولڈن ٹیمپل کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، چاروں اطراف مسجد، بیٹھک، مدرسہ اور قبرستان ہیں جبکہ بیچ میں مزار ہے۔

اس مقبرے کے احاطے میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے کے لیے ایک مخصوص جگہ بنائی گئی ہے۔ درگاہ پر کبوتروں کی ایک بڑی تعداد اڑتی اور دانہ چگتی ہے، درگاہ پر آنے والے عقیدت مند بھی اپنے ساتھ دو چیزیں ضرور لاتے ہیں۔

واقعات

حضرت میاں میر ؒ وہ ہیں کہ جنہوں نے جہانگیر سے تحفے لینے سے انکار کیا تھا، شاہ جہاں میاں میر کی اجازت کے بغیر ان کی خانقاہ میں داخل نہیں ہو پاتا تھا، لیکن ارجن دیو پر مغلیہ دور میں ہوئے مظالم کو دیکھ کر میاں میر نے یہ پیشکش کی کہ ’اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی جان بخشی کے لیے مغل بادشاہ سے بات کروں،' لیکن ارجن دیو نے کہا کہ میں رضا پر راضی ہوں، مجھے کچھ نہیں چاہیے، میرے بیٹے کی بخشش کے لیے کچھ کریں۔’

ارجن دیو کے بیٹے گرو ہرگوبند اپنی جوانی میں میاں میر صاحب ؒکے پاس آتے رہے، اس کے بعد پھر ہرگوبند کے بیٹے تیغ بہادر کی بھی بچپن میں میاں میر سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس طرح میاں میر اور ارجن دیو کی تین پشتوں کی تعلق داری بھی سکھ مت کے پیروکاروں کی میاں میر ؒسے عقیدت مندی کا سبب ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس وقت کے مغل حکمران اور ان کے اہل و عیال میاں میر محمد کی پرہیزگاری اور تقویٰ کے معترف تھے۔ داراشکوہ کی کتاب سکینتہ الاولیاء میں میاں میر کی زندگی، ملاقاتوں، عبادات، کرامات، اور ان کی رحلت کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

ایک صوفی بزرگ کی شاگردی کا دارا شکوہ پر یہ اثر ہوا کہ آگے چل کر وہ اور ان کی بہن جہاں آرا بیگم میاں میر ؒکے جانشین ملا شاہ بدخشی کے مرید بن گئے۔

دارا شکوہ نے جہانگیر اور میاں میر ؒکی ملاقات کا قصہ بھی اپنی کتاب سکینتہ الااولیاء میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جہانگیر نے اپنے ایک پیامبر کے ذریعے میاں میر کو بلاوا بھیجا۔ جس پر میاں میر نے پہلے تو انکار کر دیا لیکن دوبارہ شہنشاہ جہانگیر نے درخواست کی کہ آپ سے ملنا ضروری ہے، اپنے غریب خانے پر ہم ملاقات کے منتظر رہیں گے۔

شہزادہ دارا شکوہ کی روایت کے مطابق جہانگیر بادشاہ نے جب تخلیے میں حضرت میاں میر ؒکی گفتگو سنی تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا اور میاں میر صاحب ؒ کو عرض کی کہ ’’میں ملک اور دنیا چھوڑ کر فقیر بننا چاہتا ہوں میرے دل میں اب سنگ و جواہر یکساں ہیں۔‘‘ جس پر میاں میر ؒ نے جواب میں فرمایا کہ ’’اگر ایسا ہے تو آپ صوفی ہیں۔" جہانگیر نے کہا کہ، "مجھے اپنا خادم بنا لیں اور خدا کی راہ دکھائیں۔" جس پر میاں میر ؒ نے جواب دیا کہ ’’تو مخلوقِ خدا کے لیے اچھا حکمران ہے، اللہ پاک نے تجھے اس عظیم کام پر مامور کیا ہے، کوئی اور شخص جو خلق خدا کا اتنا خیر خواہ، حلیم اور سخی ہو اسے بادشاہ بنا دو، ہم آپ کو فقیر بنا لیں گے۔" یہ بیان سکینتہ الاولیاء کے صفحے 46 میں دیا گیا ہے۔

میاں میر ؒکے لیے مشہور تھا کہ انہوں نے میل ملاقاتوں سے پرہیز کر رکھا تھا، خاص طور پر اپنی ذات میں غرق حاکموں، شہر کے والیوں اور کوتوالوں سے ملنے سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی خانقاہ کے دروازے پر چوکیدار اور پہرے دار کھڑے کر رکھے تھے۔ ایک دن پہرے داروں نے ملاقات کے ممتنی مغل شنہشاہ شاہ جہاں کو خانقاہ کے باہر روک لیا۔ مغلوں کے عروج کے دور میں جب رعایا بادشاہ کے سامنے سر بسجود ہوا کرتی ہو، کوئی اس طرح بادشاہ کو اپنے گھر کے باہر روکنے کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے۔ شاہ جہاں اجازت ملنے کے بعد اندر گئے تو میاں میر کو شکایت کردی کہ:’’با در اے درویش، دربان نہ بید‘‘ (درویشوں کے دروازے پر پہریدار نہیں ہوتے)۔

جس پر میاں میر نے جواب دیا کہ:’’باب یدکہ سگ دنیا نہ آید‘‘ (دربان اس لیے رکھے گئے ہیں تا کہ دنیا کے کتے اندر نہ آ سکیں)

شاہ جہاں کو دنیا کا غریب اور فقیر کہنے والا بھی کوئی اور نہیں میاں میر ہی تھا، دکن پر فوج بھیجنے کا فیصلہ کر بیٹھنے والے شاہ جہاں نے جب میاں میر سے کامیابی کی دعا کے لیے کہا تو میاں میر نے اپنے ایک مرید کا دیا ہوا سکہ شاہ جہاں کے ہاتھ پر رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دنیا کے تمام غربا سے غریب شخص ہے، اتنی بادشاہی کے باوجود وہ دکن پر چڑھائی چاہتا ہے، اس کی بھوک، اس آگ کی طرح ہے جو لکڑیاں ڈالنے سے اور تیز ہوتی ہے۔ اس بھوک نے اسے ضرورت مند اور بھکاری بنا دیا ہے۔‘‘

میاں میر ؒ ایک عظیم مسلمان بزرگ تھے، انہوں نے پاکیزہ زندگی گزاری ، اللہ کے بندہ ہونے کے ناطے، ان کے افکار کی راہ میں ذات پات یا مذہب و رنگ و نسل کی کوئی رکاوٹیں حائل نہیں ہوئی۔ انہوں نے خدا سے محبت کرنے والوں سے محبت کی۔ وہ لاکھوں مسلمانوں کے پیر تھے ساتھ ہی وہ سکھوں اور ہندووں کے بھی دوست تھے۔

حضرت میاں میر ؒ کا آخری وقت

حضرت میاں میر ساٹھ سال سے زیادہ عرصے تک لاہور میں مقیم رہے، آپ ؒکی عمر مبارک اب اٹھاسی سال کے قریب ہو چکی تھی۔ آپ ؒ بہت زیادہ ضعیف ہو گئے، بینائی اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ کوئی خط یا کتاب پڑھنے سے قاصر ہو گئے تھے۔آپ ؒ نے باغوں میں جانا چھوڑ دیا، اکثر اوقات اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول رہتے اور باہر نہ جاتے تھے۔ دن بھر لوگوں کا ہجوم رہتا اور لوگ آپ ؒسے مستفید ہوتے۔ حضرت میاں میر ؒ اتنے نحیف ہو چکے تھے کہ سہارے کے بغیر اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس وقت بھی آپ ؒ غنودگی کے عالم میں آنکھیں بند کیے لیٹے تھے۔ اچانک آپ ؒکے ہونٹوں کو جنبش ہوئی۔ آپ ؒنے بلند آواز سے فرمایا‘‘مجھے میرے دوستوں کے درمیان دفن کرنا۔’’یہ کہنے کے بعد آپ ؒکے ہونٹوں کو جنبش ہوئی۔ آپ ؒآہستہ آہستہ لفظ ‘‘اللہ’’ کا ورد کر رہے تھے۔ پھر یہ آواز اتنی کمزور ہوگئی کہ کوئی نہیں سن سکتا تھا۔ معرفت کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ یہ7 ربیع الاول 1045ھ بمطابق 11 اگست 1635ء کادن تھا۔

٭٭٭


ای پیپر