لا غالب الا اللہ
29 فروری 2020 2020-02-29

ٹرمپ کا دورۂ بھارت حسب توقع 22 کروڑ مسلمانوں کے لیے فال بد ثابت ہوا۔ اس کی آمد پر شروع ہونے والا احتجاج بی جے پی کے جنونی جتھوں کے ہاتھوں فوراً ہی مسلم کش فرقہ وارانہ فسادات میں بدل گیا۔ نئی دہلی میں صورت حال انتہائی تشویشناک رخ اختیار کر گئی۔ پولیس کی موجودگی میں مسلح گروہ قتل و غارتگری، آتش زنی کرتے رہے۔ پولیس نے بلوائیوں کی کارروائیاں یادم سادھے دیکھیں یا بعض جگہوں پر خود بھی تعاون کے مرتکب پائے گئے۔ شہریت ترمیمی قانون پر پورے بھارت میں اٹھنے والی احتجاجی لہر بلا تفریق مذہب و نسل تھی۔ تاہم اس کا سارا غیظ و غضب دہلی کے مسلمانوں پر ٹوٹا۔ پتھر، تلواریں بندوقیں استعمال ہوئیں۔ گھر، دکانیں، تین مساجد، دو سکول، ایک مارکیٹ، ایک پٹرول پمپ جلا ڈالے گئے۔ 42ہلاکتیں اور 200 زخمی ہو چکے۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا تو بولا یہ بھارت کا (اندرونی) مسئلہ ہے‘۔ اور پینترا بدل کر فوراً ہی مودی کی تعریف شروع کر دی۔ دورے کا ابتدائی تاثر بھارت سے تجارتی معاملات پر اختلاف اور پاکستان کے لیے نرم گوشے کا دینے کے بعد ری پبلیکن ہاتھی نے کھانے کے دانت دکھانے شروع کر دیئے۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام جپنے کا عمل پورا کیا۔ (افغانستان کے تناظر میں) پاکستان کو تھوڑا سا مکھن کیا لگایا ہمارے ہاں داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگ گئے! مگر ٹرمپ نے فوراً ہی اسلامی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا پہاڑا پڑھنا شروع کر دیا۔ عزم فرمایا: ’ہم بھارت کو دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار دیں گے‘۔ کس کے خلاف؟ کیا ہم نہیں جانتے؟ بھارت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ، حسب وعدہ جدید ترین مہلک جنگی سازو سامان کا کیا گیا ہے جو خطے کا توازن بگاڑنے اور ہمارے لیے خطرات میں اضافے کا سبب ہے۔ یہ جو ٹرمپ کی بھارت میں موجودگی کے دوران نئی دہلی کا گجرات بنانے کی کارروائی ہوئی ملاحظہ فرمائیے۔ کیا پاکستان ایسا کرنے کی جسارت کر سکتا تھا کہ ٹرمپ پاکستان میں ہوتا اور ہمارے ہاں ہندوؤں پر مسلم جتھے چھوڑ دیئے جاتے؟ پوری دنیا میں طوفان کھڑا ہو جاتا! بس اپنی اوقات اس آئینے میں دیکھ لینا کافی ہے۔ ہم دیوار سے لگے سارا وقت اقلیتوں کی خوشنودی حاصل کرنے ، 97فیصد مسلم اکثریت کے دینی تشخص کے در پے رہتے ہیں! پاکستان اقلیتوں کی جنت ہے اور اہل دین کے لیے زمین تنگ ہے۔ جہاں سکھوں کا گوردوارہ شب بھر میں جوش و جذبے سے بنا کھڑا کیا۔ مندروں کی تعمیر نو ترجیح اول بن گئی وہاں آئے دن جلائی گئی لال مسجد خبروں میں رہتی ہے۔ جامعہ حفصہ کو 20 کنال زمین الاٹ کر دی تھی اس پر جب انتظامیہ 3 کروڑ تعمیرات میں خرچ کر چکی تو کئی سال بعد الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی۔ اس کے بدلے سات مرلے کا پلاٹ دینے کو کہا! این جی اوز اور نجی تعلیمی اداروں کو 20،20 کنال جہاں الاٹ ہوئے وہاں مدرسے مسجد پر زمین تنگ ہی رہی۔ نجی اداروں میں توناچنے نچانے والے گویے کے کھڑکی توڑ موسیقی کے شو ہوتے ہیں۔ مساجد و مدارس میں صحاح ستہ اور قرآن کی تعلیم سے انہیں دہشت گردی کی بو آتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ہاں ہمارا درجہ ’گرے‘ اور سیاہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ہمارا کشکول خالی رہ جاتی ہے۔ سو ہمیں حکومت کی مجبوری سمجھنی چاہیے۔ بھارت تجارت کرتا ہے، ہمارا مال تجارت ’دہشت گرد‘ اور ’انتہا پسند‘ ہیں ! گیس بجلی پانی ختم کر کے صنعتوں کا مکو ٹھپ کر ہم نے معیشت کے سارے پلگ دہشت گردی کی جنگ سے جوڑ دیئے۔ مشرف نے ابتدا کی تھی۔ اب ہم اسی کے وزراء کی ٹیم

کے ساتھ انہی پالیسیوں پر مبنی دوسرے مشرف دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو! (اگرچہ بھارت سے ’امن کی آشا‘ دہلی میں جل کر بھسم ہو گئی!)آزادی اب پاکستان کی نہیں، عورت کی آزادی، ثقافتی آزادی اور شتر بے مہاری ہو گی۔ 8 مارچ تو آ لینے دیں۔ یوم آزادیٔ نسواں! ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف! ہمارے خاندانی نظام، نسل اور نسب کی پاکیزگی اور تحفظ، عورت کے وقار، تقدس ، عصمت و عفت پر کورونا سے بڑھ کر خوفناک حیا سوز وائرس کا حملہ ہے۔ پاکستان میں معاشرتی ماحولیات کو جو خطرہ در پیش ہے (جسے حکومت بھرپور بڑھاوا دے رہی ہے) اس سے خاندانی درجۂ حرارت بڑھ کر جتنا انتشار برپا کرے گا، اللہ رحم فرمائے۔

ادھر کورونا وائرس کا خوف کھائے جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اسے طبی ایمرجنسی قرار دے چکا ہے۔ ملک ملک وائرس سے سنسنا رہا ہے۔ اٹلی کی بیابان سنسان بستی کی تصویر شائع ہوئی۔ خلائی لباس اور ماسک پہنی تصاویر اور احتیاطی تدابیر کا دور دورہ ہے۔ مقام عبرت ہے۔ جس معاشی اور سائنس ٹیکنالوجی سے لیس سپر پاور کی ہیبت دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ چینی مسلمانوں پر جو بیتی، کسی میں اف کرنے کا یارانہ تھا۔ اس پر از خود نوٹس لینے والی سپریم طاقت کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں۔ نمرود کو تو پھر مہین مچھر بلا بن کر ڈس گیا۔ یہاں غیر مرئی، اللہ کے جنود کا وہ مہین ترین سپاہی جسے آنکھ دیکھنے سے بھی قاصر ہے، تاج پہنے (کورونا۔ تاجور!) کے آگے سائنس، ٹیکنالوجی اور مہلک ترین ہتھیاروں اور ایٹم بموں سے لیس قوت بے بس ہو گئی۔ دوسری طرف طالبانی عساکر ہیں جو اسی سائنسی بت کافر ادا کو منہ کے بل گرا کر ھو اللہ احد کہنے پر مجبور کر چکے۔ یہ تو اشرف المخلوقات کا ایک اعلیٰ و اشرف گروہ تھا۔ رہا کرونا۔! تو وہ وائرس کی انڈر ورلڈ کا مہین عسکری ہے جس کے مقابلے پر کمربستگان کی دھوم دھام عبرت کے بے شمار اسباق لیے ہوئے ہے! کیسی کیسی جنگی مشقیں، ڈرلز اس کے مقابلے کے لیے ہو رہی ہیں۔ ہمیں فرعون یاد آ رہا تھا۔ کہاں تو موسیٰ علیہ السلام کا مذاق اڑا رہا تھا، میرے لیے پکی اینٹوں کا اونچا محل بناؤ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کا خدا تلاش کروں۔ اور کہاں وہ بے بسی کہ پانی کی ایک ہی لہرنے ڈوبتے شاہ معظم کو خدا، شہ رگ سے قریب لمحے بھر میں دکھا دیا۔ جس وعدۂ الست کا گلا گھونٹے بیٹھا تھا وہ پکار اٹھا۔ کلمہ پڑھنے لگا کہ میں ایمان لایا بنی اسرائیل کے رب پر! مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے، دنیا بھر میں فراعنہ و نمارود نے مل کر مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی۔ میانمر سے بھارت، اسرائیل، روس، امریکہ نیٹو تک! پہلے ہم سزا وار ٹھہرے اپنی نا اہلی اور بد عہدی کے۔ مالک نے اپنے کتے ناراض ہو کر ہم پر چھوڑ دیئے۔ مقصد وجود، مقصد حیات بھلا دینے پر۔ گائے بھی جب دودھ دینا چھوڑ دیتی ہے تو قصائی کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ سو ہم نے بھی حب دنیا و کراہیۃ الموت میں مبتلا حق سے منہ موڑے دو دہائیاں گزار دیں۔ ملکوں ملکوں مغرب کے ٹوڈی، غبی ، غلام صفت کٹھ پتلی اسلام بیزار حسنی مبارکوں کو برداشت کیا تو گندم کے ساتھ گھن بھی پسا۔ ہر جا ملت کفر نے درندگی کی انتہا کر دی۔ صرف سکائی لائن (افقی مناظر) شام کے دیکھ لیجیے۔ (احادیث کی رو سے حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری کا مرکز اور سید نامہدی کی فوج کا ہیڈ کوارٹر)۔ اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ اسے اوباما نے شروع کیا تھا، تقسیم کار کے تحت مسلمان کچلنے کا ٹھیکا پوٹن کے حوالے کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق 103 ممالک سے مسلمان مجاہد وہاں ایمان و کفر کے آخری آخری معرکوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتیں پانے کو لڑ رہے ہیں!تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔ باقی امت بنی اسرائیل کے نقش قدم پر گوہ کے بل میں شناخت گم کر دہ گھسی بیٹھی ہے! جہاد فی سبیل الرجال ساری کافر دنیا پر دو دہائیوں سے فرض عین ہے! ہم تو کشمیر فلسطین اراکان شام میں قیامت کے باوجود دفاعی جہاد پر بھی زبان کھولتے لرزاں و ترساں ہیں۔ نرم بیانیوں پر کمربستہ ہیں۔ کورونا حال پوچھنے تو آئے گا! ویزے ، پاسپورٹ کا محتاج نہیں۔ شہباز شریف نے ڈینگی کے خلاف جہاد کیا تھا۔ عمران خان، بزدار کورونا کے خلاف جہاد کریں گے۔ طالبان نے بہرحال امریکہ کے خلاف جہاد کر کے فتح پائی! فکر ہر کس بقدر ہمت اوست! امریکہ نے ’لازوال آزادی‘ کے عنوان سے افغانستان پر حملہ کیا تھا 49 ہائی ٹیک ممالک کی فوجوں کے ساتھ۔ جمہوریت دلانے، طالبان کا خاتمہ کرنے، عورت کو آزادی مارچ کی منزل تک پہنچانے اور افغانستان پر مضبوط چوکی بنا کر علاقائی بالادستی قائم کرنے کو۔ دو دہائی میں جمہوریت زدہ افغانستان کے الیکشن کا نتیجہ پانچ مہینے لگا کر سسکتا، لرزتا اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین لڑتا جھگڑتا سامنے آیا ہے! مضبوط چوکی تو کیا بنتی، باعزت انخلا مل جائے، جان بچی سو لاکھوں پائے کہتے نکل جائیں تو غنیمت ہے۔ ٹرمپ کا انتخابی وعدہ ہے! رہے طالبان تو 70 فیصد افغانستان ان کے زیر اثر آ چکا۔ آخری مشن ’الفتح‘ کے نام سے موسوم نیک شگون ہے۔ امریکی ’لازوال آزادی‘ کے چکنا چور مشن کی قبر پر کتبہ لگانے کی تیاری ہے۔ فروری 1989ء میں روسی فوج کے انخلاء کے بعد دوسرے سپر پاور کو فروری 2020ء میں اسی انجام کا سامنا ہے۔

لا غالب الا اللہ ! و العظمۃ للہ !


ای پیپر