اَنت بھلے کا بھلا
29 فروری 2020 2020-02-29

ہم شخصیت پرست نہیں، پاکستان پرست ہیں۔ شریف برادران نے اپنے دَورِ حکومت میں اچھے کام کیے تو ہم نے قلمی میدان میں اُن کی بھرپور حمایت کی جس پر تحریکیوں کی جانب سے مغلظات کے طوفان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔یہ بھی عین حقیقت کہ ایک زمانے میں عمران خاں بھی ہمارے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ یہ اُس دَور کی بات ہے جب اُن کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا۔ یہ جیت ٹیم ورک کا نتیجہ تھی لیکن قوم نے اِس جیت کا سارا کریڈٹ عمران خاں کی جھولی میں ڈال دیا۔ آج شاید کسی کو 92ء کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے نام تک یاد نہ ہوں لیکن عمران خاں اِسی جیت کی بدولت ہمارے وزیرِاعظم ہیں۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اُنہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کی ٹھانی تو قوم نے اپنے ہیرو کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سکولوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنی ’’پاکٹ مَنی‘ شوکت خانم فنڈ میں دے آتے تھے۔ اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ میاں نوازشریف نے شوکت خانم کے لیے زمین فراہم کی اور اُن کے والد میاں محمد شریف مرحوم نے جی بھر کے مالی مدد کی جس کا عمران خاں خود بھی بَرملا اعتراف کرتے رہے۔ شوکت خانم ہسپتال کے خواب نے حقیقت کا روپ دھارا تو سارا کریڈٹ لے گئے عمران خاں۔ آج شوکت خانم اور عمران خاں لازم وملزوم ہیں۔ یہ بجا کہ اِس ہسپتال کی تعمیر کے لیے خاںصاحب نے بہت کوشش کی لیکن کیا کوئی اِس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کے بین الاقوامی معیار کا یہ ہسپتال قوم کے پیسے سے بنا۔

پھر خاں صاحب نے خارزارِسیاست میں قدم رکھا تو ہم نے یہ جانا کہ وہ پاکستانی سیاست میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوںگے لیکن 1999ء میں ملک پر مشرفی آمریت مسلط ہوئی تو خاںصاحب لنگوٹ کَس کر پرویز مشرف کی حمایت میں میدان میں کود پڑے۔ جہاں کہیںپرویزمشرف کا جلسہ ہوتا خاںصاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُس جلسے میں پہنچ جاتے۔ پرویزمشرف نے ریفرنڈم کی ٹھانی تو پوری قوم نے اِس کا بائیکاٹ کیا۔ وہ صرف عمران خاں تھے جو گلی گلی میں ریفرنڈم کے حق میں تقریریں کیا کرتے تھے۔ قوم کو کبھی آمریت پسند تھی، ہے، نہ ہوگی۔ اِسی لیے 2002ء کے مشرفی انتخابات میں قوم نے تحریکِ انصاف کو مکمل طور پر رَد کر دیا اور خاںصاحب بمشکل اپنی سیٹ ہی نکال پائے۔ مشرفی حمایت پر چونکہ پرویزمشرف چونکہ خاںصاحب سے وزارتِ عظمیٰ کا وعدہ کرچکے تھے لیکن جب تحریکِ انصاف ہی ’’لَم لیٹ‘‘ ہو گئی تو پھر کہاں کا وعدہ اور کیسا وعدہ۔ تب خاں صاحب نے پہلا یوٹرن لیا اور پرویزمشرف کے خلاف ہو گئے۔ اُن کی جماعت نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن اکتوبر 2011ء میں وہ اُس وقت اُبھر کر سامنے آئے جب مینارِ پاکستان کے سائے تلے تحریکِ انصاف نے عظیم الشان جلسہ کیا۔ یہ وہ دَور تھا جب عمران خاں کے خلاف لکھتے ہوئے لکھاریوں کے قلم تھرتھرا اُٹھتے تھے۔ ہم نے تب بھی لکھا کہ اگر شوکت خانم جیسے کارنامے کی بنیاد پر خاں صاحب کو وزیرِاعظم بنایا جا سکتا ہے تو پھر وزارتِ عظمیٰ کا پہلا حق مولانا عبد الستار ایدھی کا ہے کیونکہ خاں صاحب رفاہی کاموں میں عبدالستار ایدھی کی خاکِ پا کے برابر بھی نہیں۔ اگر 1992ء کے ورلڈ کپ کی جیت کو بنیاد بنا کر وہ وزارتِ عظمیٰ کے حقدار قرار پا سکتے ہیں تو اِس میں اُن کا کوئی کمال نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم تو بستربوریا باندھ کر پاکستان واپسی کے لیے تیار بیٹھی تھی لیکن ایک دوسری ٹیم کی غیرمتوقع ہار نے پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچایا جو محض اللہ کا فضل تھا۔

2013ء کے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کا شور تو بہت تھا لیکن قومی اور بین الاقوامی سرویز کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔ تحریکِ انصاف نے اِن سرویز کو ہمیشہ رَد کیا لیکن نتیجہ سرویز کے مطابق ہی آیا اور وہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری۔ مولانا فضل الرحمٰن کی شدید مخالفت کے باوجود میاں نوازشریف نے خیبرپختونخوا میںحکومت کی تشکیل کے لیے تحریکیوں کا پہلا حق تسلیم کیا کیونکہ کے پی کے میں سب سے بڑی سیاسی جماعت وہی تھی۔ میاں نوازشریف اگر چاہتے تو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مل کر بڑی آسانی سے کے پی کے کی صوبائی حکومت تشکیل دے سکتے تھے لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ خاں صاحب کو چونکہ شیروانی پہننے کا شوق ہی بہت تھا اِس لیے اُنہیں 2013ء کی شکست ہضم نہیں ہوئی اوروہ سڑکوں پر نکل آئے۔ ڈی چوک اسلام آباد کا 126 روزہ دھرنا اُسی دَور کی یادگار ہے جب خاںصاحب نے سول نافرمانی کا اعلان کیا، سرِعام یوٹیلٹی بِلز جلائے، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ہُنڈی کے ذریعے رقم پاکستان بھیجنے کی تلقین کی، پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ توڑے گئے، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا، سپریم کورٹ کی دیواروں پر ’’پوتڑے‘‘ لٹکائے گئے اور وزیرِاعظم ہاؤس پر حملہ کیا۔ شیروانی اُنہیں تب بھی نصیب نہیں ہوئی حالانکہ وہ ہر روز امپائر کی اُنگلی اُٹھنے کا اعلان کرتے رہے۔ مولانا طاہرالقادری کے دھرنا چھوڑ جانے کے بعد درحقیقت خاںصاحب کا دھرنا بھی اُجڑ چکا تھا لیکن اُنہیں فرار کی کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔ یہ موقع اُنہیں سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد نصیب ہوا اور وہ اِس سانحے کے بہانے دھرنا چھوڑ گئے۔ اُدھر سپریم کورٹ بنچ نے 2013ء کے انتخابات کو صاف شفاف اور عوام کی توقعات کے عین مطابق قرار دیا تو لوگوں نے یہ جانا کہ خاںصاحب کے تمام الزامات جھوٹ کا پلندا تھے۔

2018ء کے انتخابات میں بالآخر خاںصاحب کو شیروانی ’’پہنا‘‘ دی گئی۔ یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ شیروانی اسٹیبلشمنٹ نے پہنائی یا ’’پیرنی‘‘ کی دعاؤں نے۔ البتہ خاں صاحب کہتے ہیں کے وہ اپنے یوٹرنوں کی بدولت وزیرِاعظم بنے۔ جس لفظ ’’سلیکٹڈ‘‘ سے نہ صرف خاںصاحب بلکہ پوری تحریکِ انصاف کو چِڑ ہے، اُس کا اظہار تو با الفاظِ دیگر خاںصاحب اپنے دھرنے کے ایام میں بار بار کرتے رہے۔ جب وہ کہتے تھے کہ ’’امپائر کی انگلی اُٹھنے والی ہے‘‘ تو اُس کا کیا مطلب تھا؟۔ کیا یہی مطلب نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اُنہیں ’’سلیکٹ‘‘ کر چکی اور کسی بھی وقت میاں نوازشریف کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا جائے گا؟۔ کیا پاکستانی قوم کو پتہ نہیں کہ پاکستان میں امپائر کون ہے اور کس کی انگلی کے اشارے سے حکومتیں بدلتی ہیں؟۔ 2018ء کے عام انتخابات میں یہ امپائر کی انگلی ہی کا تو کمال تھاجس نے خاںصاحب کا ادھورا خواب پورا کیا۔ یہ بات الگ کہ اب اسٹیبلشمنٹ بھی سوچنے پر مجبور کہ وہ کیا کر بیٹھی۔ سلیکٹڈ کا لفظ پہلی بار بلاول زرداری نے پارلیمنٹ میں ادا کیا۔ اُس وقت وزیرِاعظم بھی ایوان میں تشریف فرما تھے۔ بلاول کے سلیکٹڈ استعمال کرنے پر اُنہوں نے تالیاں بھی بجائیں لیکن بعد میں جب اِس لفظ کے معنی پر غور کیا تو پتہ چلا کہ اُن کے ساتھ ’’ہَتھ‘‘ ہوگیا۔ بعد میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اِس لفظ پر پابندی لگا دی لیکن اب یہی لفظ گلی گلی میں گونجتا ہے۔

سیانے کہہ گئے ’’کر بھلا ، سو ہو بھلا ، انت بھلے کا بھلا ‘‘ لیکن خاںصاحب سے بھلے کی توقع عبث۔ ’’نہیں چھوڑوںگا‘‘ اُن کا نعرہ۔ تمام انتظامی ادارے اُن کی ہدایت کے مطابق اپوزیشن کے خلاف سرگرمِ عمل۔ نیب صفِ اوّل میں، جا وبیجا پکڑدھکڑ اُس کا شیوہ جس پر سپریم کورٹ بھی نالاں۔ اب صورتِ حال یہ کہ نیب نے اپوزیشن کے جتنے لوگوں کو حوالۂ زنداں کیا، تقریباََ سب کی ضمانتیں ہو چکیں۔ شاہد خاقان عباسی تو ضمانت کی درخواست دینے کو بھی تیار نہیں تھے لیکن میاں نوازشریف کے حکم پر اُنہوں نے درخواست ضمانت دی جسے منظور ہونا ہی تھا۔ احسن اقبال بھی ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اُن کے خلاف تو کیس بنتا ہی نہیں تھا لیکن نیب کا کام بندے اُٹھانا ہے، کرپشن ثابت کرنا نہیں۔ اب تو ایک عامی کو بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ نیب تحریکِ انصاف ہی کا ایک ’’خاموش حصّہ‘‘ ہے کیونکہ جس کو نیب نے پکڑنا ہوتا ہے اُس کے بارے میں تحریکی وزراء پہلے ہی خبر دے دیتے ہیں۔ مستقبل میں چیئرمین نیب کے بارے میں کیا لکھا جائے گا، اِس کا فیصلہ ہم تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

جب سے خاںصاحب نے شیروانی پہنی ہے، قوم عذابِ مسلسل کا شکار۔ ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘ کی سی صورتِ حال۔ معیشت تباہی کے دہانے پر، بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جب ساری معیشت آئی ایم ایف کے قبضے میں ہو تو بہتری کی توقع کرنے والا احمقوں کی جنت کا باسی۔ ڈالر 155 روپے پہ جم کر بیٹھ گیا، روپے کی قدر میں بہتری کی کوئی اُمید نہیں، سونا 97 ہزار روپے تولہ تک پہنچ گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںمڈل اور لوئرمڈل کلاس کی پہنچ سے باہر۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوئیں۔ مہنگائی کی شرح 14.6 فیصدکی ریکارڈ سطح پر۔ ادارہ شماریات پاکستان نے 27 فروری 2020ء میں اختتام پذیر ہونے والے ہفتے میں ملک کے 17 بڑے شہروں سے 51 اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ مہنگائی کی شرح میں 14.6 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ اِس کے باوجود وزیرِاعظم صاحب کا فرمان کہ 2020ء ترقی کا سال ہے جس میں سب دلدر دور ہو جائیں گے لیکن اب اُن کی باتوں پر قوم کو اعتبار نہیں رہا کیونکہ وہ قوم کو متواتر وعدۂ فردا پر ٹالتے چلے آرہے ہیں۔ دراصل اُن کا ٹارگٹ معیشت کی بہتری ہے نہ مہنگائی کا خاتمہ بلکہ ٹارگٹ صرف ’’نہیں چھوڑوںگا‘‘۔


ای پیپر