ــ’’کرو۔ناں۔۔ ‘‘
29 فروری 2020 2020-02-29

دوستو،ملک بھر میں ’’کرونا‘‘ کا ’’ہوا‘‘ کھڑا ہے، بھانت بھانت کے نسخہ جات سوشل میڈیا پر چڑھائے جارہے ہیں۔۔کوئی کچی پیاز کھانے کا مشورہ دے رہا ہے کوئی کہتا ہے ناک اور گلا خشک نہ ہونے دو، کوئی مزید کچھ تجربہ بیان کررہا ہے، عالمی ادارہ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرونا کے ماہرین پاکستان میں پائے جاتے ہیں، لگتا ہے عالمی ادارہ صحت والوں نے ہمارے سوشل میڈیا پر نظریں جمائی ہوئی ہیں۔۔چین سے شروع ہونے والا’’ کرونا ‘‘ تو حال ہی میں سامنے آیا ہے، اوریہ اتنا خطرناک بھی نہیں۔۔جتنا ـخطرناک ہمارے ملک میں(یعنی قیام پاکستان سے لے کر اب تک) تہتر سال سے چلاآرہا ہے۔۔جی ہاں۔۔جب بیگمات اپنے شوہرات سے کہتی ہیں۔۔پلیز یہ کام ’’ کرو۔ ناں‘‘۔۔ بس پھر وہ کام غلط ہو یا ٹھیک ،شوہرحضرات کو لازمی کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک میں کرپشن کی بڑی وجہ بھی یہی وائرس ’’ کرو۔ ناں‘‘ ہے۔۔ چلیں پھر آپ کا مزید وقت ضائع نہیں کرتے اور اپنی اوٹ پٹانگ باتوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔۔

گزشتہ ہفتے ہم نے ’’گندی بات‘‘ کے عنوان سے اپنی اوٹ پٹانگ باتوں میں اشتہارات پر بات کی تھی، جس کا اچھا فیڈ بیک ملا، اکثر احباب نے کہا ہے کہ اشتہارات کے حوالے سے مزید کچھ تحریر کریں۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم پلاننگ اور سوچ بچار کے ساتھ کالم نہیں لکھتے ،بس جو دل یا دماغ میں آتا جاتا ہے لکھتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ کالم کا پیٹ بھرجاتا ہے۔۔چلیں آپ کی فرمائش سرآنکھوں پر، ایک آدمی نے اخبار میں اشتہاردیا کہ اسے ایک ملازم کی ضرورت ہے ،بہت سے لوگ آئے،انٹرویودیا مگر بات نہیں بنی، آخر میں ایک بے سہارا نوجوان اسے پسند آگیا۔ اشتہار دینے والے نے وضاحت کی کہ میں تنخواہ نہیں دے سکتا۔ بس دو وقت کا کھانا اور رہنے کی جگہ ملے گی۔ نوجوان شرائط پر راضی ہوگیا اور پوچھا کہ میرا کام کیا ہے، آدمی نے کہا یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بزرگ کا مزار ہے وہاں دن میں دو وقت لنگر تقسیم ہوتا ہے، وہاں جانا خود کھا لینا اور میرے لیے لے آنا۔۔دو کاروباری حضرات مختلف امور پر گفتگو کر رہے تھے، ایک نے کہا ۔۔ کیا تمہیں معلوم ہے کسی اشتہار کا نتیجہ کتنی جلدی ظاہر ہو جاتا ہے ؟ ۔دوسرے نے کہا ، بعض اوقات بہت جلد، پرسوں میں نے اخبار میں گھر کے لیے’’ ضرورت چوکیدار‘‘ کا اشتہار دیا تھا ، اور کل ہمارے ہاں چوری ہو گئی ۔۔قرضہ دینے والی کمپنی نے اخبار میں اشتہار شائع کروایا۔ آپ کیوں پریشان ہیں، اپنے دوستوں سے قرضہ نہ لیں ہم سے لیں۔دونوں کے فرق کو سمجھیں، آپ کے دوست آپ کو چھوڑ دیں گے ہم آپ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔۔ایک شخص نے کسی دوا ساز کمپنی کی طرف سے ایک اشتہار پڑھا کہ اگر چاہتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت مکھیاں آپ کی غذا پر نہ بیٹھیں توہماری کمپنی کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے جمع کرواکر دوائی اور مشورہ حاصل کریں،ایک صاحب نے جلدی سے رقم جمع کرا دی اور رسید لے کر کمپنی کے منیجر کو دکھائی، منیجر نے ان صاحب کو کھجورکے پتوں سے بناپنکھا دے کر مشورہ دیا کہ۔۔ ایک ہاتھ سے کھائیں اور دوسرے ہاتھ سے مکھیاں اڑائیں۔۔

بھارت میں ہندوانتہاپسندمسلمانوں پر جو مظالم ڈھا رہے ہیں، اس پر ہم کڑھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔۔ ہندو میاں بیوی دونوں نئے جنم پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے عہد کیا کہ جو پہلے مرے گا وہ دوسرے سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔اتّفاق یہ ہوا کہ شوہر پہلے مرگیا اور بیوی اس کے پیغام کا انتظار کرنے لگی۔چھ ماہ بعد کی بات ہے کہ شام کے وقت بیوی تنہا اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ اسے اپنے آں جہانی شوہر کی آواز سنائی دی۔بیوی فرطِ مسّرت سے اچھل پڑی،اور تصدیق کی۔’’وکرم کیا یہ تم ہی ہو؟۔۔جواب آیا۔۔ہاں! شانتی میں ہی ہوں،میں اس وقت ایک کھیت میں موجود ہوں اور وہاں میری گائے بھی موجود ہے جو کہ نہایت حسین و خوب صورت ہے کہ ایسی گائے آج تک میری نگاہ سے نہیں گزری۔۔بیوی نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’وکرم کیا تم خوش ہو۔اور دوسرا جنم لے چکے ہو۔جلدی سے بتاؤ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔شوہر نے جواب دیا،ہاں،ہاں! میں بہت خوش ہوں میں تمہیں اس گائے کے حسن کے بارے میں بتارہا تھا کہ اس کی بڑی بڑی نیلی آنکھیں ہیں اور۔۔۔بیوی نے جھنجلا کر فوراً بات کاٹی’’میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں اور تم ہو کہ بس گائے کے قصیدے پڑھے جارہے ہو۔۔شوہر بیوی کی پریشانی پر تیزی سے بولا۔۔اوہ۔میری پیاری بیوی!میں تو تمہیں یہ بتانا ہی بھول گیا کہ اس جنم میں میں ایک بیل کے روپ میں پیدا ہوا ہوں اور پنجاب کے ایک بڑے کھیت میں رہتا ہوں۔۔۔

کسی بٹ صاحب نے ناران، کاغان جانے کا پروگرام بنایا، گوگل میپ سے انفارمیشن لی تو ’’ایپ ‘‘نے سفر کا ٹائم تقریباً دس گھنٹے بتایا لیکن بٹ صاحب کو پہنچتے پہنچتے تقریباً چوبیس گھنٹے لگ گئے۔۔بٹ صاحب تپ گئے،گوگل والوںکوفون لگادیا،غصے سے دھاڑتے ہوئے بولے۔۔ تواڈی مشین خراب اے، ٹھیک ٹیم نئیں جے دسدی۔۔گوگل کے نمائندے کو اپنے غصے کی تفصیل بتائی، جواب میں گوگل کے نمائندے نے بٹ صاحب سے سوال کیا۔۔ سچ سچ بتائیں، کیا آپ بٹ ہوتے ہیں؟؟ بٹ صاحب نے کہا، جی الحمدللہ۔۔ نمائندہ کہنے لگا۔۔ پھر آپ روٹی کا ٹائم نکال لیں بٹ صاحب، آپ راستے میں جو ستاراں واری رْکے ہیں کمپنی اس کے لئے ذمہ دار نہیں۔۔بٹوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کھانے پینے کے شوقین ہوتے ہیں۔۔ ایسے ہی ایک بٹ نے پہلے دال چاول کھائے،پھر تین پلیٹ مٹن کی روسٹ چانپیں اور پھر ایک پلیٹ دال چاول کھالئے۔۔ کسی نے پوچھا ،بٹ صاحب یہ کیا حرکت کی آپ نے؟ وہ بولے۔۔طبعیت ٹھیک نہیں،ہاضمہ خراب ہے،سوچا’’الٹی‘‘ ہوئی تو دال چاول ہی باہر آئیں گے اور اگر ’’دست‘‘ لگے تو پھر بھی دال چاول ، مٹن کی چانپیں درمیان میں ایک محفوظ رہیں گی۔۔

شروعات میں بات بیگمات کی ہورہی تھی۔۔ میاں بیوی دونوں ایک ہی فیلڈ میں کام کر رہے تھے۔ بیوی پائلٹ تھی اور خاوند کنٹرول ٹاور انسٹرکٹر۔۔ ایک دن دونوں اپنی اپنی ڈیوٹی پر تھے۔۔پائلٹ بیوی نے کہا۔۔پائلٹ بیوی: ہیلو کنٹرول ٹاور! یہ فلائٹ 358 ہے۔ یہاں کچھ پرابلم ہے۔۔کنٹرول ٹاور سے شوہر نے کہا۔۔ آپ کی آواز ٹھیک سے نہیں آ رہی ہے۔ کیا آپ دوباہ اپنی پرابلم بتا سکتی ہیں؟پائلٹ بیوی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔ کچھ نہیں، جانے دو، تمہیں میری آواز آتی ہی کب ہے؟کنٹرول ٹاورسے شوہر بولا۔۔ براہ مہربانی، اپنی پرابلم بتائیے۔پائلٹ بیوی نے غصے سے کہا،اب تو رہنے ہی دو۔۔شوہر نے پھر درخواست کی، پلیز بتائیں۔۔پائلٹ بیوی بولی، میں ٹھیک ہوں۔ تم رہنے دو۔شوہر نے پھر ٹرائی کی۔۔: ارے بولیے کیا پرابلم ہے؟پائلٹ بیوی نے ناراض ہونے والے انداز میں کہا۔۔ تمہیں میرے پرابلم سے کیا مطلب؟شوہر بولا۔۔ بے وقوف عورت! اس فلائٹ میں دو سو پسنجر بھی ہیں، پرابلم بتا۔۔پائلٹ بیوی غصے سے تپ کر کہنے لگی۔۔ تمہیں کبھی میری پرواہ نہیں رہی۔ ابھی بھی دو سو مسافروں کی پرواہ ہے۔ بس مجھے نہیں کرنی بات تم سے۔۔۔باباجی نے اپنی جوانی کی یادوںکے دریچے سے ایک ’’دیا‘‘ جلاتے ہوئے ہمیں بتایا کہ۔۔بیگم میرے پاس بیٹھی تھیں اورہم شام کے ٹھنڈے موسم میں گرم کافی کا مزہ لے رہے تھے۔بیگم کی سہیلی کا فون آیا کہ میں آرہی ہوں۔ بیگم اٹھ کے گھر کی چیزوں کو ٹھیک کرنا شروع کیا۔ میں نے پوچھا۔۔ میں ٹھیک لگ رہا ہوں؟۔۔ اور پھر لڑائی شروع ہوگئی۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔سب سے مہربانی سے ملو۔ کیونکہ ہر شخص اپنی زندگی میں کسی جنگ میں مصروف ہے۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر