ٍٍ ستائیس فروری سرپرائز ڈے
29 فروری 2020 2020-02-29

ستائیس فروری 2019 کو جو ہوا وہ اس سے پہلے کہانیوں میں سنا یا فلموں میں دیکھا گیا تھا۔ لیکن ستائیس فروری کو جو کچھ ہوا وہ حقیقت تھا۔ اس کے عینی شاہدین صرف چند لوگ نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔نہ صرف دنیا کو زبانی بتایا گیا بلکہ فلما کر دکھایا بھی گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ بلاشبہ ستائیس فروری کو پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا تھا۔ عمومی طور پر فلموں کو ہٹ کرنے کے لیے اس طرح کے واقعات بنائے جاتے ہیں۔ ہیرو پہلے ولن کو چیلنج کرتا ہے اور پھر اس چیلنج کو بخوبی انجام تک پہنچاتا ہے۔ جس سے سینما ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے۔ چھبیس فروری کو ہندوستان نے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر میزائل گرائے۔ جزل آصف غفور نے چیلنج کیا کہ‘‘اب ہم بھارت کے حملے کا جواب دیں گے۔ جگہ اور وقت کا تعین اب ہم کریں گے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہندوستان کو حیران کر دیں گے’’۔ ستائیس فروری کی صبح پاکستانی ائیر فورس نے ہندوستان کے حساس مقامات کے ارد گرد جنگی جہازوں سے خوب نقصان پہنچایا۔ پھر دانہ پھینکا جسے چْگنے کے لیے ابھی نندن پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا۔ پاکستانی شاہینوں نے دشمن کا پیچھا کیا۔ اس کا جہاز تباہ کیا۔ دشمن عوام کے ہتھے چڑھ گیا۔ عوام نے خوب دھلائی کی۔ فوج اسے بحیثیت مجرم ہاتھ باندھ کر لے گئی۔ جسے پوری دنیا نے کیمروں کی مدد سے دیکھا۔ اگر اسے فلمایا نہ جاتا تو ہندوستان اس واقع سے مکر جاتا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح دشمن کو گھسیٹ کر لے جایا گیا۔ اس نے اعتراف جرم کیا۔ چائے کی فرمائش کی۔ اسے چائے پلائی گئی اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔

ابھی نندن کو ہندوستان کے حوالے کرنے کا نظارہ بھی کمال تھا۔ یہ حوالگی خفیہ نہیں رکھی گئی۔ بلکہ وزیراعظم پاکستان نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ ہم امن کی خاطر

ابھی نندن کو ہندوستان کے حوالے کر رہے ہیں۔یہ حوالگی زمینی بارڈر کے ذریعے کی گئی۔ ہوائی جہاز سے ابھی نندن کی واپسی کو وہ میڈیا کوریج نہیں مل سکتی تھی جو زمینی راستے سے واپسی کی وجہ سے ملی۔ تقریب کو مقررہ وقت سے آگے بڑھایا گیا۔ تاخیر کی سٹریٹجی بھی کامیاب رہی۔پوری دنیا کا میڈیا صرف ایک سوال کر رہا تھا کہ ابھی نندن کو کس وقت اور کس طرح واپس کیا جا ئے گا۔جس سے معاملے کی اہمیت زیادہ بڑھتی رہی۔ ابھی نندن کے ساتھ سات فٹ کا پاکستانی فوجی کھڑا کیا گیا۔ جس سے ابھی نندن کی شخصیت مانند پڑ گئی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ابھی نندن کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی جو اسے انڈین بارڈر تک چھوڑنے گئی۔ وہ خاتون دراصل بلوچستان کی بیوروکریٹ آفیسر تھی۔ اس خاتون کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں بلوچستان کے عوام کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ ایک ایسے ایونٹ کی ذمہ داری بلوچستان کی خاتون افسر کو دی گئی ہے جو کہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پوری دنیا کی نظر اس ایونٹ پر ہے۔ بلوچستان کی خاتون افسر کو ابھی نندن کے ساتھ کھڑا کر کے بھارت کے اس پروپیگنڈا کو ناکام کیا گیا جس میں وہ پوری دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بلوچستان کی عوام کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔ بپاکستان نے دنیا کو پیغام دیا کہ بلوچستان کی عوام پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔

اس کے بعد Tea was fantastic کی کامیاب کمپین چلائی گئی۔ ٹی وی اشتہاروں اور میچز کی دوران سٹیڈیمز میں ابھی نندن کی تصویر لگا کر چائے کے اشتہار چلائے گئے۔ ستائیس فروری کے دن کو سرپرائز ڈے کے نام سے منسوب کیا گیا۔ ابھی نندن کی وردی کو میوزیم میں رکھا گیا۔ جن میزائلز نے ابھی نندن کے جہاز کو تباہ کیا انھیں عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ پوری دنیا کے سفیروں کو بلا کر انھیں فلمی اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا گیا۔ ہندوستان نے حسب معمول پروپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ پاکستان نے ایف سولہ طیاروں سے ہندوستان میں گھسنے کی کوشش کی۔ ایک طیارے کو ہندوستانی ائیر فورس نے مار گرایا ہے۔ پاکستان نے امریکی نمائندوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ انھیں ایف سولہ جہاز دکھائے اور گنوائے۔ امریکی ادارے نے رپورٹ دی کہ پاکستان کے ایف سولہ جہاز تعداد میں پورے ہیں۔ لہذا ہندوستان کا پاکستانی جہاز گرانے کا دعوی جھوٹا ہے۔ ہندوستان آج تک کوئی ویڈیو جاری نہیں کر سکا۔جو تصویر جاری کی وہ ہندوستان کے اپنے میزائل کی تصاویر تھی جسے ہندوستانی میڈیا پر ہندوستانی ماہر نے ہندوستانی میزائل کا ٹکڑا قرار دیا۔

اس کے بعد پاکستان نے جے ایف تھنڈر طیاروں کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ دنیا کو دعوت دے کر پاکستان بلایا اور بتایا کہ ستائیس فروری کو ان طیاروں نے ہندوستان کو شکست دی تھی۔یہ پروپیگنڈا بھی کامیاب رہا۔ آج پوری دنیا میں جے ایف 17 طیاروں کی دھوم ہے اور ہندوستان کی شکست کی کہانی زبان زد عام ہے۔میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ آج کا دور پروپیگنڈا کا دور ہے۔ کسی بھی عمل کو کامیابی سے انجام دینے کا مکمل فائدہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تشہیر نہ کی جائے۔ یہ پی آر کا زمانہ ہے۔ لوگوں سے مل کر اپنا موقف بتانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر بھرپور نمائندگی بہت اہمیت کی حامل ہو گئی ہے۔ بھارت نے پروپیگنڈے کے ہتھیار کو استعمال کر کے ہی پاکستان کی پہچان دہشت گردی سے منصوب کی تھی۔ آج پاکستان کامیاب پروپیگنڈا کر کے اس داغ کو دھونے میں کافی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔ ستائیس فروری کی جیت اور اس جیت کی عالمی و مقامی سطح پر بہترین تشہیر کرنے پر پاک فوج اور حکومت پاکستان مبارکباد کی مستحق ہے۔


ای پیپر