شاہد خاقان اور احسن اقبال کی رہائی
29 فروری 2020 2020-02-29

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایل این جی کیس میں سابق وزیر اعظم و رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی اور نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں سابق وفاقی وزیر داخلہ و رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کی ضمانت منظور کی اور رہا ہو گئے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ نیب کی طرف سے غیر ضروری گرفتاری دراصل اختیارات کا غلط استعمال ہے شاہد خاقان اور احسن اقبال ابھی عوامی نمائندگی کے لیے نااہل نہیں ہوئے جرم ثابت کئے بغیر قید رکھنا ووٹرز کو نمائندگی سے محروم رکھنا بھی ہے بہت سے ملزمان ایسے ہیں جن کا ٹرائل چلتا ہے لیکن نیب انہیں گرفتار نہیں کرتا۔ انکوائری اور تفتیش میں تعاون کرنے والے کو گرفتار کرنا کیوں ضروری ہے؟ یورپی کمیشن نے بھی پاکستان میں نیب اپوزیشن رہنمائوں کو گرفتار کرتی ہے حکومتی لوگوں کو گرفتار نہیں کرتی ہے جس پر یورپی کمیشن تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ نیب کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے الیکشن سے پہلے اور حکومت کے 18ماہ میں اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہیں حکومت کے وزراء ارکان قومی اسمبلی پر نیب کے مقدمات ہیں لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا جارہا ہے۔ صدر ایوب خان کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور جو سیاستدان ایوب خان کی مخالفت کرتا تھا تو اسے (EBDO) اسمبلیوں سے نا اہلی قانون کے تحت 7سال تک نااہل کیا جاتا تھا۔ڈیکٹیٹر پرویز مشرف نے بھی سیاسی مخالفین کو نیب کے ذریعے گرفتار کرتا تھا اور انہیں نااہل کیا جاتا تھا۔ملکی تاریخ پر نظر ڈالی جائیں قیام پاکستان سے لے کر اب تک پسند اور ناپسند گڈ اور بیڈ کے نام یہی احتساب کا کھیل پھیلایا جا رہا ہے ان سے ملک کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں جن ممالک میں احتساب کو سیاسی مقاصد اور مخالفین کے

خلاف استعمال کیا گیا ان ممالک میں کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اورترقی بھی نہیں کی پاکستان میں احتساب ہر حکومت اپنے سیاسی مخالفین کا کرتی ہے اور یہ کھیل گزشتہ 72سالوں سے جاری ہے رکتا نہیں حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں 1971ء میں ہم سے بنگلہ دیش الگ ہو گیا ہے بنگلہ دیش کی معیشت شرح خواندگی اور زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی میں پاکستان سے آگے نکل گیا ہے اور ہمارے سربراہ حکومت کو سیاسی مخالفین کو چور چور کہنے سے فرصت نہیں ملتی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کے بعد ایک وفاقی سیکرٹری کو ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی اور انہیں دھمکی بھی دی گئی کہ گواہ نہ بننے کی صورت میں گرفتار کیا جائے گا لیکن ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

شاہد خاقان نے گرفتاری کے بعد نیب کو 20سال کی آمدن ، اخراجات غیر ملکی سفر سمیت دیگر دستاویزات فراہم کیں۔ سابق وزیراعظم ہونے کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل میں ایسے سیل میں قید رکھا گیا جہاں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ 4ماہ قید تنہائی میں رکھا لیکن شاہد خاقان نے بڑی بہادری، جرأت کے ساتھ کاٹی تکالیف اور مشکلات برداشت کیں۔ اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ وفا کی وہ لازوال داستان رقم کی جس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں اور عباسیوں کے سر فخر سے بلند کیئے۔ احسن اقبال کو نارووال کو سپورٹس کی تعمیر میں اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا تھا لیکن آپ نے وفاقی حکومت سے فنڈ منظو رکئیے۔اور منصوبے کو مکمل کیا۔ احسن اقبال کی نیب کی گرفتار کرنے سے پہلے بازو کی سرجری ہوئی تھی اور انھیں نیب سے کہا کہ مجھے ایک ہفتے کی مہلت دے تھوڑا ریکور ہو جائوں لیکن نیب نے مہلت نہیں دی اور گرفتار کیا انھوں ریگولر فزیوتھراپی کی ضرورت تھی لیکن یہ سہولت بھی نہیں دی گئی۔ احسن اقبال نے بھی سوا دو ماہ کی بہادری کے ساتھ جیل کاٹی ۔چین کے ساتھ CPEC منصوبوں کے پائے تکمیل تک پہنچانے میں احسن اقبال نے بحیثیت وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات دن رات کام کیا اپنے دفتر میں دیر تک بیٹھتے تھے CPECکی کامیابی میں احسن اقبال نے اہم رول ادا کیا تھا چین نے بھی ان کی کارکردگی کو بھی بے حد سراہا تھا ۔ احسن اقبال نے رہائی کے بعد اپنی قید پاکستان کے عوام اور قائد محمد نواز شریف کے نام کیا ۔

شاہد خاقان اور احسن اقبال کے اڈیالہ جیل سے رہائی کے موقع پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔قومی اسمبلی کے رکن مرتضی جاوید عباسی و ایم این اے ڈاکٹر عباداللہ کی قیادت میں بڑا جلوس اڈیالہ جیل پہنچا تھا مرتضیٰ جاوید شاہد خاقان اور احسن اقبال کے استقبال میں کامیاب بنانے کے لیے لیگیوں کے ساتھ رابطہ کیے اور کارکنوں کو منظم کیا ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہر پیشی کے موقع پر مرتضیٰ جاوید موجود ہوتے تھے۔اسلام آباد اور پنڈی سے سابقہ ایم این اے ملک ابرار ،شکیل اعوان ،ڈاکٹر فضل چوہدری، راجہ فخر الاسلام کی قیادت میں جلوس آئے سوشل میڈیا کے حمزہ عباسی اپنی ٹیم کے ہمراہ استقبال کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات کیا اسی طرح ضلع نارووال رانا محمد افضال ، رانا منان ایم پی اے ، و سیم بٹ ایم پی اے ، بلال اکبر ایم پی اے ، مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ ، پنجاب صدر کاشف رنداوا، اظہر الحسن، چوہدری ذوالفقار، ریاض گواریہ اور حافظ آباد سے رانا اشرف کی قیادت میں سینکڑوں لوگ اڈیالہ جیل پہنچ چکے تھے مری سے بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام استقبال کے لیے موجود تھے ۔ شاہد خاقان اور احسن اقبال کی استقبال کے لیے جلوس اتنا بڑا تھا کہ جیل سے پنڈی کا فاصلہ 4گھنٹے میں طے کیا گیا راستے میں مختلف جگہوں میں استقبالیہ کیمپ لگائے تھے عوام کا جوش و خروش قابل دید تھا۔


ای پیپر