دہلی، مسلمانوں کی حالت زار؟
29 فروری 2020 2020-02-29

بھارت میں نفرت کی کوکھ سے جنم لینے والے تقسیم کے نظریے نے مودی سرکار کی سیاست کی سیاسی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا ہے پنجاب‘چھتیس گڑھ‘ راجھستان‘ مدہیہ پردیش‘ جھاڑ کھنڈ کے بعد چودہ ماہ میں بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے دہلی کی حکمرانی بھی سرک گئی۔مودی نے شہریت ترمیمی قانون‘شاہین باغ‘مقبوضہ کشمیر سے آئین ہند کی شق 370 کی برخواستگی‘رام مندر اور طلاق ثلاثہ جیسے حساس اور متنازع مسائل کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا تھا لیکن بھارت کی عوام نے مودی کے متعصب اور انتہا پسند نظریے کو اس دوام سے چاروں شانے چت کیا کہ اروند کجریوال کی شاندار واپسی اور گجرات کی جوڑی مودی اور امیت شاہ کی عبرتناک شکست کو پوری دنیا نے دیکھا۔مودی حکومت کی بے حسی ‘ظلم و بربریت اور اشتعال انگیز سیاست نے بھارت کو تقسیم کے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کیخلاف شروع ہونیوالے احتجاج کے دران فسادات میں مزید چودہ افراد جاں بحق ہوگئے اور اب جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد ستائیس ہو چکی ہے شاہین باغ مودی کے سیاہ قوانین کیخلاف احتجاج کی علامت بن چکا ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کی ضامن بن کر امن و امان کو یقینی بنائے لیکن بھارت میں جب سے مودی کی دوسری مرتبہ حکومت بنی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پورے بھارت کا نظم و نسق تہہ و بالا ہو کر رہ گیا ہے اقلیتوں کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور ہندو توا کی ترویج کے لئے نفرت و اشتعال انگیزی کے ذریعے دہلی کی گنگا جمنی تہذیب کو بھی پارہ پارہ کر دیا گیا۔دہلی میں جو فسادات پھوٹ پڑے ہیں ان فسادات کی دل دہلا دینے والی خبریں اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جو اس بات کی شاہد ہیں کہ مودی دہلی کو گجرات بنانے پر تلے ہیں۔دہلی نے مودی کو شکست سے دوچار کر کے شہریت ترمیمی قانون کو مسترد کر دیا امریکی صدر جب بھارت آئے تو احمد آباد کے موتیرا اسٹیڈیم میں جب ٹرمپ اور مودی سوا لاکھ کے مجمع کے سامنے بھارت میں مذہبی آزادی اور کثرت میں وحدت جیسی باتیں کر رہے تھے تو دہلی فسادات کی آگ میں جل رہا تھا مسلمانوں پر مسلح غنڈے حملہ آور تھے دوکانوں‘مارکیٹوں اور مساجد کو جلایا جا رہا تھا باقاعدہ منصبوبہ سازی کے ذریعے اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگانے

کی عملی کوشش کی جا رہی ہے ۔جواہر لال یونیورسٹی کا معاملہ‘جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سانحہ‘شاہین باغ کے قریب کا معاملہ دیکھ لیں کہیں بھارتی ریاست کی غیر جانبدار نظر نہیں آئے گی بلکہ ہر جگہ پولیس کی کارروائیاں یک طرفہ ہیں پولیس جس کو ریاست کے بڑے انتظامی ستون کا درجہ حاصل ہے جس کا کام ملک میں امن و امان کو یقینی بنانا ہوتا ہے اگر امن و امان قائم رکھنے والا پولیس کا ادارہ بھی خاموش تماشائی بن کر فسادات کو ہوا دینے والوں کا ہمنوا بن جائے تو پھر محرکات بڑے واضح ہو جاتے ہیں کہ دہلی کیوں جل رہا ہے۔گذشتہ دنوں جعفر آباد میٹرو اسٹیشن کے باہر سی اے اے اور این آر سی کیخلاف خواتین دھرنا دئیے بیٹھی تھی ان کو اٹھانے کے لئے جو کپل مشرا نے جو پولیس کی موجودگی میں اشتعال انگیزی کی اس کیخلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اس سے اخذ کرنا مشکل نہیں کہ بی جے پی دہلی کو اپنے مذموم ایجنڈا کی بھینٹ چڑھا کر وہاں کی عوام اور اقلیتوں سے اپنی شکست کا خونی بدلہ لینا چاہتی ہے۔مودی کی گمراہ کن سیاست کے راز اب بھارت کی عوام پر آشکار ہونا شروع ہو چکے ہیں جس کے باعث مودی سرکار کو ہونیوالے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مودی کی انتہا پسند نظریے کی سیاست نے بھارت کی عوام اور اقلیتوں کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔مودی کی سیاست کا ماضی مسلمان دشمنی کے سیاہ باب سے جڑا ہوا ہے بی جے پی وہ جماعت ہے جس نے اسے اعتدال پسند جماعت منوانے کے لئے ایک طرف آر ایس ایس کی نظریاتی اساس کو استعمال کیا دوسری جانب واجپائی اور ایڈوانی جیسے چہرے متعارف کروائے تاکہ اس جماعت کے پس پردہ اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے مذموم ایجنڈا کے راز سے پردہ نہ اٹھ جائے۔2014ء میں الیکشن کے بعد آر ایس ایس نے کھل کر اپنے سیاسی تشخص کا اظہار کرنے کے لئے واجپائی اور ایڈوانی جیسی شخصیات کو پس پشت ڈال کر انتہا پسند نریندرا مودی کو پارٹی قیادت سونپ دی اور پھر مودی نے آر ایس ایس کے بلوائی غنڈوں کے ذریعے مسلمانوں پر کئے جانیوالے ظلم و بربریت کی ایک خونی تاریخ رقم کرنا شروع کی جس کا تسلسل آج بھی پورے بھارت میں جاری ہے۔دہلی میں مسلمانوں کیخلاف جو مودی ہٹلر اپنی سفاکیت کی تاریخ رقم کر رہاہے یہ بھارتی مسلمانوں کے لئے بڑا واضح پیغام ہے کہ ان ہونیوالے واقعات کو حکومتی سر پر ستی حاصل ہے بھارت میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ مسلمان جو کہ ایک بڑی اقلیت ہیں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کے در و دیوار اگر خوف سے لرز رہے ہوں تو یہ صورتحال مسلم امہ سمیت امن کی علمبردار قوتوں اور تنظیموں کے لئے باعث تشویش ہونی چاہیے ۔پورا بھارت مودی سرکار کی سرپرستی میں مسلمانوں کے لئے ایک قتل گاہ بنا دیا گیا ہے یہ بات بڑی پریشان کن ہے کہ جہاں مسلم اقلیت کے ساتھ دن دیہاڑے قتل و غارت گری کا کھیل رچا کر ہندو توا کو تقویت دینے کی ناپاک سوچ پروان چڑھ رہی ہے وہیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی قوتوں کے در پر یہ سوال بڑی شدت کے ساتھ دستک دے رہاہے کہ ان حالات میں ایسا کون سا قانون ہے جو ایک بڑی مسلم اقلیت کو مودی کے عتاب سے بچا تے ہوئے ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے عالمی اداروں ‘تنظیموں اور قوتوں کو اس صورتحال میں اپنے کردار کے تعین کی ذمہ داری ضرور پوری کرنی چاہیے۔ کیا امریکی صدر کو چاہیے تھا کہ جہاں مودی بھارت میں حقوق اور مذہبی آزادی کا پرچار اپنے خطاب میں کر رہے تھے تو انہیں اس بات کا اداراک کروایا جاتا کہ جہاں بھارت ہندو‘سکھ‘عیسائی‘بدھ اور جینوں کے حقوق کا ضامن ہے وہاں مسلم اقلیت کی حالت زار کو بھی بہتر بناتے ہوئے ان کے حقوق کا تحفظ کرے لیکن امریکہ کی دوہری پالیسی اس کے ایجنڈا کا حصہ ہے اور مغرب کا مسلمانوں کے لئے یہ دو رنگی رویہ تشویش کا باعث ہے۔ مودی کا سفاک ایجنڈا ہی اس کی سیاست سے واپسی کی راہ ہموار کر رہا ہے وقت کی دستک بتا رہی ہے کہ مودی کے تقسیم پر مبنی نظریات کے حامل سیاہ قوانین ہی بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے کافی ہیں بھارت میں تحریک کی صورت جنم لینے والا احتجاج مودی سرکار کے خاتمے کی علامت بنتا جا رہا ہے۔مودی نے دو متنازع قوانین کو منظور کر کے اقلیتوں کو بے گھر کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے ان اقلیتوں کو بے گھر کر کے ان کا قتل عام کیا جائیگا یا پھر ہندوستان چھوڑنے پر یہ اقلیتیںمجبور ہو جائینگی المیہ ہے کہ دنیا اقلیتوں کیخلاف بھارت کے ریاستی جبر پر خاموش ہے جو کہ مودی کی انتہا پسندی کی کھلی معاونت کے مترادف ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کے لئے چیلنج بن چکی ہے اگر امریکہ چاہتا ہے کہ خطے کا امن برقرار رہے تو اسے سنجیدگی کیساتھ کردار ادا کرتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔


ای پیپر