تعلیم کو عزت دینے والے!
29 فروری 2020 2020-02-29

حکمران اگر ضِدی ، ہٹ دھرم اور عوام دشمن نہ ہوں وہ کسی بھی معاملے میں وہ رویہ اختیار نہیں کرتے جس سے حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوں، اور پھر یہ مسائل بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ جائیں حکومت کے لیے ان سے نمٹنا مشکل ہو جائے ....میں نے ”اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں“ کے عنوان سے گزشتہ کچھ ہفتوں میں پندرہ کالم لکھے جس میں وزیراعظم کو اُن کی وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے چندروز پہلے دیئے مشوروں کا تفصیلی ذکر کیا، میں نے اُنہیں یہ مشورے اِس نیت اور یقین کے ساتھ دیئے تھے وہ ان پر عمل کرکے اعلیٰ درجے کی نیک نامیاں حاصل کرسکتے ہیں، ایک مشورہ اُن میں یہ بھی تھا ” اِس ملک کا تعلیمی ڈھانچہ (نظام) مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے، اس شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ خاص طورپر ملک میں یکساں نظام تعلیم یعنی ایک نصاب رائج کرنے سے ہی ایک ”قوم “ بن سکتی ہے۔ فی الحال ہم جو مختلف فرقوں میں ٹوٹے ٹوٹے سے بکھرے بکھرے سے دکھائی دیتے ہیں، اُس کی بنیادی وجہ یہی ہے ہم آج تک یکساں نظام تعلیم ایک نصاب رائج نہیں کرسکے، ایسا نظام تعلیم جس میںغریب کے بچے کو بھی وہی تعلیم دی جائے جو دولت مند کے بچے کو دی جائے، .... میں تو کہتا ہوں شعبہ تعلیم اور صحت جس طرح مسلسل تنزلی کا شکار ہیں ان دونوں شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے جس طرح حکومت نے محکمہ داخلہ پنجاب یا ایک دو اور محکموں کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے لیے الگ سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری مقرر کیے ہیں جن کی حیثیت تقریباً ”چیف سیکرٹری“ جیسی ہی ہے، اِسی طرح محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے لیے بھی نہ صرف یہ کہ چیف سیکرٹری الگ ہونے چاہئیں، بلکہ اگر ہوسکے تو وزرائے اعلیٰ بھی الگ ہونے چاہئیں، پربزدار جیسے نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ایسے وزرائے اعلیٰ ہی لانے ہیں پھر یہ دونوں محکمے ایسے ہی ”یتیم مسکین“ اچھے ہیں، ان دونوں محکموں پر ایسی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ان میں ایسی انقلابی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے، ہمارے حکمران اس میں کامیاب ہوگئے وہ دیگر شعبوں میں بھی دنیا کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے، ....اور جس طرح تعلیمی نصاب ملک میں ایک ہونا چاہیے اِسی طرح دینی نصاب بھی ملک میں ایک ہونا چاہیے۔ اس سے ہمارے کچھ علماءخصوصاً کچھ بکاﺅ مولوی جو دین کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں بلکہ دوزخ اور جنت کے ٹھیکیدار بھی بنے ہوئے ہیں، اور دین بیچنے کا کام پوری لگن سے کررہے ہیں، بلکہ اپنی طرف سے پوری ”ایمان داری“ سے کررہے ہیں ان سب کی سازشیں اپنی موت آپ مرنے لگیں گی۔ دینی نصاب میں اصلاحات سے ہمیں ایک پکا اور سچا مسلمان بننے میں بڑی رہنمائی اور مدد ملے گی، مجھے یاد آرہا ہے ایک بار سپین میں ایک گورے کو ”مسلمان“ کرنے کی بڑی کامیاب کوشش میں نے کرلی تھی، یہ معاملہ یہاں سے آکر بگڑ گیا، اُس نے مجھ سے سوال کیا ”پہلے مجھے یہ بتاﺅ تم مجھے کون سا مسلمان کرو گے، شیعہ مسلمان، سنی مسلمان، دیوبندی مسلمان، یا کوئی اور مسلمان ؟.... مجھے اس کی یہ بات سن کر بڑی شرمندگی ہوئی۔ .... جہاں تک شعبہ تعلیم کا تعلق ہے حال ہی میں حکومت پنجاب نے اللہ جانے کس کے اشارے یا مفاد میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے لیے مسائل کھڑے کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے معاملات میں بہتری کی یقیناً بڑی گنجائش ہے مگر اس سے بھی زیادہ گنجائش سرکاری یونیورسٹیوں کے معاملات درست کرنے کی ہے، .... اس کا مطلب یہ نہیں کوئی ایسا نظام لایا جائے جس سے پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے وابستہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو جائے۔ مجھے جب اِس حوالے سے ”سازش“ کا پتہ چلا، میں نے اُسی وقت وزیراعظم عمران خان کو اُن کے واٹس ایپ پر مسیج کیا، اُن کی عادت ہے وہ اکثر میسجزپڑھ لیتے ہیں، رپلائی بہت کم کرتے ہیں، ظاہر ہے بطور وزیراعظم ان کی بے پناہ مصروفیات یا منصب کا شاید تقاضا بھی یہی ہے وہ ساری دنیا سے موصول ہونے والی کالز اور میسجز کا جواب نہ دیں، سو اس حوالے سے کم ازکم مجھے کوئی گلہ پیدا نہیں ہوا، البتہ کبھی کبھی وہ ”آن لائن“ ہوں، اور اس دوران میں اُنہیں کوئی میسج کروں وہ فوراً رپلائی کردیتے ہیں، اور کبھی کبھی کال بھی .... پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے حوالے سے جو سازش تیار کی جارہی تھی اُس بارے میں میرا میسج پڑھنے کے بعد اُنہوں نے فرمایا ” وہ اس بارے میں معلومات حاصل کریں گے، شعبہ تعلیم میں پرائیویٹ شعبے کی اہمیت سے میں اچھی طرح آگاہ ہوں“۔ ظاہر ہے اس ضمن میں اُن کا اشارہ نمل یونیورسٹی کی طرف تھا

جس کے وہ خود سربراہ ہیں، اور یہ بھی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی ہے، .... اُن کے اس جواب کے بعد میں مطمئن ہوگیا، اور میں نے ”اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں “ کے عنوان سے قسط وار کالموں کا جو سلسلہ شروع کررکھا تھا اُسے روک کر اس اہم ترین موضوع پر لکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں مسائل کا شکار ہونے جارہی ہیں، .... اب جبکہ یہ معاملہ افہام وتفہیم سے حل کی جانب بڑھ رہا ہے، مجھے اس کی بہت خوشی ہے کہ تصادم کے حالات پیدا نہیں ہوئے۔ مجھے یقین ہے یہ مسائل ہرصورت میں حل ہوں گے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو پنجاب کی یونیورسٹیوں کے چانسلر، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور انتہائی صلح جو اور معاملات کو حل کرنے کے جذبوں سے لبالب بھرے ہوئے ہیں، دوسرے ہمارے پنجاب کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجا یاسر ہمایوں انتہائی مرنجا مرنج طبیعت کے مالک ہیں، وہ کسی مسئلے کو ذاتی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہرفریق ہی مطمئن ہو جاتا ہے، وہ ایک پڑھے لکھے نوجوان ہیں، میں یہ بات کئی بار ذاتی طورپر وزیراعظم عمران خان سے کہہ چکا ہوں پنجاب میں کم ازکم شعبہ اعلیٰ تعلیم میں بطور وزیر انہوں نے ایک دیانتدار اور محنتی شخص کا انتخاب کیا ہے ۔ پہلے انہیں وزیراعلیٰ بنانے کا بھی سوچا جارہا تھا۔ اس حوالے سے میڈیا میں خبریں بھی آگئی تھیں مگر اِس ضمن میں یقیناً ان کی شرافت اور اہلیت آڑے آگئی ہوگی، .... جہاں تک سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن جناب ساجد ظفر کا تعلق ہے، میں نے ایسی مثبت ذہنیت کے حامل بیوروکریٹس بہت کم دیکھے ہیں، میرے محترم بھائی قاضی آفاق حسین کے بعد، بلکہ بہت عرصے بعد ایسے سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن آئے جو اپنے درسے کسی سوالی کو خالی واپس نہیں جانے دیتے۔ وہ ایک دردمندانسان ہیں اور اس قدر مثبت ذہنیت کے حامل ہیں کسی کے جائز کام میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ بننا باقاعدہ طورپر ایک حرام عمل سمجھتے ہیں، ایسے عاجز انسانوں کو اللہ بہت نوازتا ہے۔ نوازتا ہی چلے جاتا ہے، .... میرا چھوٹا بھائی بے شمار صحافتی صلاحیتوں کا مالک حسن رضا چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلمان کے بارے میں بھی ایسے ہی مثبت خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ سو اگر یہ سب لوگ اچھے ہیں، اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالکان بھی اچھے ہیں، مجھے یقین ہے چوہدری عبدالرحمن کی سربراہی میں پرائیویٹ یونیورسٹیوںکی مذاکراتی ٹیم اپنے اچھے مقاصد حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گی، اس جذبے کے تحت کہ اگر پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے معاملات میں واقعی بہتری کی گنجائش ہے تو وہ ہونی چاہیے!


ای پیپر