PDM, dictatorial attitude, incompetence, corruption, PTI government
29 دسمبر 2020 (12:48) 2020-12-29

کبھی وقت تھا کہ صرف پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان لوگوں کی رائے سازی یا اطلاعات کا ذریعہ ہوتے تھے، جن کا خبر نامہ دراصل حکومت نامہ ہوا کرتا تھا۔ پھر سچ سننے کے لیے لوگ رات دس بجے کا انتظار کرتے اور جناب رضا علی عابدی کا پروگرام سیربین سن کر یقین کرتے آج ہمارے ہاں سیکڑوں ٹی وی چینلز ہیں مگر معیار یہ ہے کہ آپ جیسی خبر اور تجزیہ سننا چاہیں ویسا ٹی وی چینل دیکھ لیں۔ اس میڈیائی دور میں وطن عزیز کے عوام کا نقصان ہو گیا کہ ان کے شعور اور سوچ کو بھی یرغمال بنا لیا گیا۔ سیکڑوں ٹی وی چینلز چل کر ایک بھی سیربین کے 10/15منٹ کے پروگرام کا ہم پلہ نہ ہو سکے۔ سوشل میڈیا ہو یا سٹریم لائن اینکرز کی رائے اور تجزیے عوام کو شعور نہیں بلکہ جانبداری بانٹ رہے ہیں جس کی بنیاد ذاتی مفاد اور نفرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ حکومتی چھاننی سے چھن کر جو اطلاعات ملتی ہیں وہ معاشرے میں صحت مند تاثر نہیں چھوڑتیں۔ 

پہلی حکومت ہے جو اپنی کارگزاری پر تو ہاتھ کھڑے کر چکی مگر پوری کابینہ، مشیر، ترجمان سب کے سب کورس کی صورت اپوزیشن نامہ سنانے میں مصروف ہیں۔ حیرت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر ابھی برسی کی تقریب شروع نہیں ہوئی شبلی فراز، فواد چودھری ، چوہان ، وزیراعظم خود مسلسل ماتم کناں نظر آئے۔ شبلی فراز نے کمال ہی کر دیا کہ بھٹو صاحب کی اور محترمہ کی روح تڑپ گئی ہو گی کہ ان کے سیاسی مخالفین ان کی برسی میں شریک ہیں حالانکہ ان کی ارواح خوش ہوئی ہوں گی کہ آج ان کے افکار اور سیاست کے مخالفین ان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں جبکہ جناب احمد فراز کی روح کو ضرور مایوسی ہوئی ہو گی کہ ان کے افکار کے مخالفین ترجمان کا کوئی اور نہیں ان کا اپنا بیٹا ہے۔ 

اگلے روز وزیراعظم فرماتے ہیں کہ ن لیگ میثاق جمہوریت سے بھاگ رہی ہے جس میں اوپن ووٹنگ کا نقطہ  موجود ہے۔ موصوف اس وقت اس کو مک مکا کہہ رہے تھے آج اس کے نقاط پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ میثاق جمہوریت دراصل 90 کی دہائی کا ازالہ تھا کہ آئندہ دونوں بڑی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کریں گی جس کی پاداش میں بی بی صاحبہ شہید کر دیں گی۔ میثاق جمہوریت کی خبر مشرف حکومت پر بجلی بن کر گری جس کے بعد ساری بساط ہی بدل دی گئی۔ پی ڈی ایم کی صورت میں اب میثاق جمہوریت میثاق پاکستان بن چکا جس کو آگے بڑھانے کا مریم نواز نے اعادہ کیا۔ پی ڈی ایم ایک تحریک ہے جو موجودہ حکومت کے آمرانہ رویے، غیر پارلیمانی طرز عمل، مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں، نااہلیت، کرپشن اور عوام پر عرصہ حیات تنگ ہونے کے خلاف ہے نہ کہ انتخابی اتحاد ہے۔ یہ جماعتیں اپنے اپنے نظریات اور پروگرام رکھتی ہیں ۔ اپنا اپنا ماضی ، حال اور مستقبل رکھتی ہیں۔ 

وزیراعظم فرماتے ہیں کہ مریم اور بلاول نے ایک گھنٹہ کام نہیں کیا ان کی کیا کارکردگی جو یہ ملک چلانے چلے؟ نوخیز بلاول کا ملک کی سب سے بڑی رہنما اپنی والدہ کی شہادت دیکھنا اور میت اٹھانا یہ وہ لمحہ ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے باپ کی قید کے علاوہ نوخیزی سے جوانی تک میڈیا و اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین کا مقابلہ کیا ۔ محترمہ مریم نواز نے جلا وطنی اور جیل کاٹی۔ نیب بھگتا، جیل میں بند والد کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کر لی گئیں۔ جدوجہد اور کیا ہوتی ہے کرکٹ کے بعد نواز شریف سے ملے اور جگہ اور پچاس کروڑ روپیہ لے کر اپنی والدہ کے نام کا ہسپتال قائم کر کے اسے سیاست کے لیے استعمال کرنا، جنرل حمید گل سے اب تک کی قوتوں کا سہارا نہیں بلکہ حصار میں رہنا ،23 سالہ بندوبست کے بعد فرما دیا کہ ہماری تیاری نہ تھی۔ 2014ء کے بعد تو نواز شریف کا عملی طور پر اقتدار ختم ہو چکا تھا ا س کے بعد جو ہوا خان صاحب کی مرضی سے ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی زرداری حکومت میں قومی حکومت کی تجویز میں خان صاحب کو وزیراعظم بنانے کی کوشش کی گئی۔ بہرحال محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 13 ویں برسی نے 27 دسمبر 2020ء کو ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ چاروں صوبوں کی زنجیر ہیں جس کو توڑا گیا اور آج ان کے افکار پھر اس کو ایک زنجیر میں پرو کر آزاد قوم بنا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اپنی مقامی قیادت کی وجہ سے نہ آ سکے جبکہ میرے خیال سے مولانا غفور حیدری زیادہ جلالی بزرگ ہیں۔ محمود اچکزئی، اختر مینگل، مولانا اسد نورانی، مولانا عبدالغفور حیدری، محترمہ مریم نواز نے بی بی کو بھرپورخراج عقیدت پیش کیا اور ان کے افکار کی تائید اور تقلید کا اعادہ کیا۔ تقریریں سوشل میڈیا پر سن لیں ’’منتخب‘‘ وزیراعظم کو پتہ چل جائے گا سب نے بی بی شہید کے افکار پر اکٹھے ہو کر ثابت کر دیا کہ حق کی فتح کل بھی تھی آج بھی ہے۔ اس برسی سے پتہ چل گیا ہو گا کہ بھٹو اب بھی زندہ ہے کیونکہ کردار زندہ رہتے ہیں۔ 

وطن عزیز میں سیاسی حالات ایسے کر دیئے گئے ہیں کہ مفاہمت کی بات کمزوری اور ضمیر فروشی یا مفاد کی بات سمجھی جانے لگی۔ نفرت کی سیاست اس وقت اوج ثریا پر ہے اور اس نفرت کو حکومت کی نگرانی نہیں بلکہ ہدایات پر دن دگنی رات چگنی ترقی مل رہی ہے۔ جب حکمران نفرت کی سیاست میں اپنی بقا سمجھے تو پھر کون ہے جو قومی مفاہمت کی بات کرے گا۔ مفاہمت تو جرم بنا دی گئی اور اداروں کو اپنے گھٹیا مفادات کی خاطر ڈھال بنا لیا گیا۔ حکومت بلکہ وزیراعظم نے صبح شام رٹ لگا رکھی ہے کہ NRO نہیں دیں گے کیا محمد علی درانی جیل میں شہباز شریف کو NRO سے انکار کرنے گئے تھے۔ عام آدمی مقید میڈیا کی باتیں سن کر ہی رائے قائم کر لیتا ہے۔ موجودہ حکومت میں سچ ناپید اور جھوٹ آکسیجن سے زیادہ دستیاب ہونے لگا۔ کالم تو میرا کچھ اور تھا لیکن جناب سمیع اللہ ملک صاحب (لندن) سے کل رات بات ہوئی ، بتانے لگے کہ شہباز شریف نے کوئی حتمی بات کرنے سے معذرت کی البتہ اپنے اور خاندان کے لیے کوئی رعایت نہ مانگی صرف تین باتیں کیں٭ عمران خان کے خلاف زیر التوا مقدمات اور ریفرنسز ضابطہ کے مطابق چلائے جائیں۔ ٭ ـغیر جانبداری کے لیے بلدیاتی انتخابات سینیٹ سے پہلے کرائیں جس میں غیر جانبداری ثابت کی جائے۔ ٭ وگرنہ نئے انتخابات کرا دیئے جائیں۔ (حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کرے) 

شہباز شریف میاں نواز شریف کے خلاف کبھی نہیں جا سکتے۔ دوسری جانب حکومتی کارکردگی پر چور مچائے شور والا محاورہ سچا دکھائی د یتا ہے ۔ وزیراعظم کبھی بیماری اور جیل کو عبرت کہتے ہیں، کبھی مریم اور بلاول کی کارکردگی پوچھتے ہیں ۔ان بچوں نے حکومت کی کھٹیا کھڑی کر دی اور کارکردگی کیا ہے؟جبکہ وزیراعظم نے بقول جناب زرداری کے کبھی گرم پانی نہیں پیا۔ اداروں پر خود تنقید کرتے رہے اور آج اداروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ حکومت ٹوٹتے ہی اس میں شامل لوگ نئے احکامات کے مطابق اپنی اپنی پناہ گاہ میں چلے جائیں گے۔ محترمہ بے نظیر شہید کی برسی پر پورے پاکستان کی سیاسی قیاد ت کی طرف سے خراج تحسین و عقیدت پیش کرنے پر ثابت ہوا کہ بی بی واقعی پاکستان کی زنجیر ہیں اور بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ جس محنت اور پلاننگ سے بھٹو صاحب اور محترمہ کو شہید کیا گیا کاش اس سے کم محنت پاکستان کے عوام کی بھلائی کے لیے کی ہوتی۔


ای پیپر