Grand National Dialogue, importance, PTI government, opposition parties, Fawad Hasan Fawad
29 دسمبر 2020 (12:36) 2020-12-29

پچھلے کالم میں وسیع تر قومی مکالمے یا گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ  کی ضرورت ، اہمیت  اور افادیت کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کی گئیں۔ اس ضمن میں معروف سماجی ادارے یا تھنک تھینک پیلڈاٹ (PILDAT)  کے زیرِ اہتمام ایک مذاکرے یا ٹاک شو کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ مذاکرہ یا ٹاک شوبلا شبہ پینل میں شریک گفتگو حضرات کے مقام و مرتبے اور ان کے قابلِ قدر اور پر مغز خیالات کے حوالے سے انتہائی پائے اور غور و فکر کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔ پچھلے کالم میں پلڈاٹ کے سربراہ جناب احمد بلال محبوب کی فکر انگیز گفتگو اور قیمتی تجاویز کا مختصر سا جائزہ پیش کیا جا چکا ہے ۔اب مذاکرے یا گفتگو میں شریک دیگر محترم حضرات کی گفتگو کا خلاصہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے بارے میں ان کے موقف اور آخر میں اپنے ذاتی تاثرات کا ایک اجمالی سا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ 

محترم فواد حسن فواد جو ایک انتہائی قابل، محنتی، بااصول اور راست گو  سابق بیوروکریٹ کی شہرت ہی نہیں رکھتے ہیں بلکہ بطور سینئر بیوروکریٹ سابقہ وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف  اور شاہد خاقان عباسی کے پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی طویل گفتگو میں  2013-2018ء کے مسلم لیگی دورِ حکومت کے معروضی حالات اور حکومت کے انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ اور عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات اور ان اداروں کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے موضوع کے بارے میں سیر حاصل گفتگو ہی نہ کی بلکہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین واقعات بالخصوص عدلیہ کے کردار اور فیصلوں اور ضروری آئینی اور قانونی حوالوں کے ساتھ اپنے موقف کو بھی اُجاگر کیا۔ 

سچی بات ہے اگر یہ کہا جائے کہ مذاکرے میں فواد حسن فواد کی گفتگو سب سے پر مغز اور مرکزی حیثیت کی حامل رہی تو ایسا کچھ غلط نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ادارہ جاتی تعلقات Institutational Relations کو مضبوط بنانے کی بجائے شخصی تعلقات Personal Relations پر زیادہ فوکس کیا جاتا رہا ہے۔ اس بنا پر ادارے اور ان کی کارکردگی زیادہ مستحکم اور بہتر نہیں ہو پائی۔ مسلم لیگی دور بالخصوص 2013-2016ء کے دوران بدقسمتی یہ رہی کہ حکومت کے عدلیہ اور عسکری قیادت کے ساتھ تعلقات اُونچ نیچ کا شکار رہے۔ اس بنا پر نیشنل سکیورٹی کمیٹی NCS جسے کوئی آئینی تحفظ حاصل نہیں تھا (نہیں ہے) اور جس کا قیام 2013میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت عمل میں آیا تھا ، اس کے کم سے کم اجلاس منعقد ہو سکے جبکہ آرمی چیف کی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ون آن ون ملاقاتیں زیادہ ہوتی رہیں۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شخصی تعلقات (Personal Relations)اچھے برے جیسے بھی تھے  سامنے ضرور آئے لیکن ادارہ جاتی (Institutional Relations)پنپ سکے۔ اسی طرح عدلیہ کی غیر ضروری فعالیت اور آزاد عدلیہ کے تصور اور بعض فیصلوں نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔چنانچہ منتخب وزیرِ اعظم اور حکومت دبائو کا شکار رہی۔ مقننہ کی کارکردگی کے بارے میں جناب فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ سوائے چند بحرانی مواقع کے اس معیار کی نہ سامنے آسکی جیسی ہونی چاہیے تھی  اس طرح حکومتی کارکردگی پر سوال اُٹھتے رہے۔ جناب فواد حسن فواد نے آئین کی دفعہ 66کا حوالہ دے کر کہا کہ اس کے تحت منتخب پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ اس میں کسی بھی موضوع پر اظہارِ خیال کیا جا سکتا ہے لیکن عدلیہ یا ججز ز کے کردار کو زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا اس لیے کہ ججز کا کردار انتہائی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ حیثیت کا حامل ہوتا ہے نہ کہ ایک پارٹی یا فریق کا، لیکن بدقسمتی سے اس دور میں عدلیہ یا بعض ججز کا کردار ایسا نہیں رہا۔ 

جناب فواد حسن فواد کی پر مغز گفتگو اس قابل ہے کہ اس پر سیر حاصل تبصرہ کیا جائے لیکن یہاں اتنی گنجائش نہیں ہے صرف دو اہم پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے آئین اور آئین بنانے والوں کے نزدیک آئین کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں انہوں نے 1973ء کے آئین کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اس دور کے وزیرِ قانون اور مشہور قانون دان میاں محمود علی قصوری مرحوم کا حوالہ دے کر بتایا کہ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین پارلیمنٹیریل (Parliamentarial)   ہونے کے ساتھ پرائم منسٹریل (Primeministerial)  بھی ہے یعنی یہ پارلیمانی ضرور ہے لیکن اس میں وزیرِ اعظم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دوسری بات فواد صاحب نے جو کہی میری نزدیک ملک کے موجودہ مسائل بالخصوص سویلین ملٹری تعلقات کے پیش منظر اور پس منظر میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ وہ 1975ء کے ایک صدارتی حکم کا حوالہ تھا جسے اس وقت کے وزیرِ قانون اور نامور قانون دان عبد الحفیظ پیرزادہ مرحوم نے ڈرافٹ کیا تھا (اس کی ضرورت اس لیے پڑی تھی کہ کچھ قوانین کو باقاعدہ Regularizeکرنے کے لیے صدارتی حکم جاری کرنا پڑے تھے) جسکے تحت آرمی ، نیوی اور ایئر فورس قوانین (Acts) میں جہاں فیڈرل گورنمنٹ کے الفاظ آئے تھے ان کو تبدیل کرکے آرمی، نیوی اور ایئر فورس چیفس آف سٹاف کے الفاظ کو شامل کیا 

گیا۔ اس طرح  اس وقت کی سویلین حکومت کی طرف سے سروسز چیفس کو زیادہ بااختیار بنا دیا گیا۔ اس فیصلے کے اثرات آج تک ہمارے ملکی انتظام و انصرام اور ہماری قومی زندگی پر اپنے اثرات کسی نہ کسی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ 

محترم فواد حسن فواد نے جناب احمد بلال محبوب کی اس تجویز کہ نیشنل ڈیفنس کمیٹی NSCکے فورم پر وسیع ترقومی مکالمے کا انعقاد کیا جائے سے اتفاق نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ NSCایک انتظامی حکم کے تحت قائم ہوئی اور اسے آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے لہٰذا ایسے فورم کے فیصلے کسی وقت بھی چیلنج کیے جا سکتے ہیں انہوں نے بطورخاص اس بات کا حوالہ دیا کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ یا قومی مکالمے کا ذکر تو سامنے آ رہا ہے لیکن  یہ ذکر صاحبانِ اقتدار یعنی وزیرِ اعظم کی طرف سے سامنے نہیں آیا اس طرح  بعض ٹی وی ٹاک شوز میں کچھ تجزیہ نگاروں کی طرف سے اس کا ذکر کرنے سے اس کی مسلمہ اہمیت سامنے نہیں آ سکی اور کسی وسیع تر قومی مکالمے کا انعقاد کرنا ہے تو اس کا اہتمام بہرکیف حکومت کے سربراہ (وزیرِ اعظم ) کی طرف سے کیا جانا چاہیے۔ جناب فواد حسن فواد نے اور بھی بہت ساری قابلِ قدر باتیں کیں لیکن کالم میں ان سب کا ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم آخر میں میں اپنے انتہائی قابل قدر عزیر شاگرد اور پنڈی کے معروف صاحب درد پیتھالوجسٹ اور ہر دلعزیز شخصیت ڈاکٹر ندیم اکرام سے اس پروگرام کے بارے میں جو تبادلہ خیال کیا اس کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ ڈاکٹر ندیم اکرام صرف ایک ماہر پیتھالوجسٹ ہی نہیں ہے بلکہ ایک بلند ویژن اور راست فکر کے مالک دانشور بھی ہیں۔ میں نے ڈاکٹر ندیم اکرام کے نام پوسٹ کیا "ڈاکٹر صاحب آپ نے پروگرام کو غور سے دیکھا، میرے خیال میں درست کہا ، میرے خیال میں اگر غیر جانبدارانہ انداز میں شریک گفتگو  حضرات کی گریڈنگ کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ خاتون کمپیئر نے اچھا کنڈکٹ کیا۔ مشاید حسین سید صاحب کا طویل سیاسی، صحافتی اور دانشورانہ پس منظر اور ان کی شخصیت کا  مرنجاں مرنج اور شگفتہ پہلو ان کے خوب کام آیا۔ جس سے بہت ان کا بہت اچھا تاثر بنا تاہم دستاویزی، آئینی اور قانونی حوالے شاید کم تھے۔ جناب احمد بلال محبوب کا کردار جاندار رہا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کہ بلا شبہ وہ راست فکر اور سوچ کے مالک اور منجھے ہو ئے دانشور اور سماجی شخصیت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس موضوع اور اس کے لیے اس پینل کا انتخاب بذاتِ خود ان کا ایک بڑا کریڈٹ ہے۔ جہاں تک فواد حسن فواد کا تعلق ہے واقعی ان کے لیے کئی مسائل یا نازک معاملات تھے ۔ اپنی سوچ اور خیالات پر کاربند نامی گرامی بیوروکریٹ جسے اپنے عہدے (پوسٹ ) پر ہونے والی تنقید اور اس کے اقدامات کا غیر محسوس انداز میں دفاع بھی کرنا تھالیکن اس سے بڑھ کر میاں محمد نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی حکومت کا نفس ناطقہ ہونے کا لیبل بھی چسپاں ہے اس کو سنبھالہ دینا بھی تھا۔ اس کے ساتھ اپنی اہلیت ، قابلیت  ، راست گوئی اور امانت اور دیانت کی پہچان کو بھی قائم رکھنا  تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کہنے کے لیے بہت کچھ ہو اور وقت اور موقع بھی ہو اورکہنے والا ٹو دی پوائنٹ رہے اور اپنی پسند و ناپسند سے ہٹ کر حقائق اور آئینی اور قانونی حوالوں کو سامنے رکھ کر بات کرے ، یقینا اسے کمال کہا جا سکتا ہے اور جناب فواد حسن فواد نے اس کمال کا بڑی خوبی سے مظاہر کیا ہے۔ "


ای پیپر