Authority, ugly traits, Pharaoh, behavior, tone, Pakistan
29 دسمبر 2020 (12:19) 2020-12-29

کسان اپنے گدھے کو اپنے گھرکے سامنے باندھنے کے لیے ہمسائے سے رسی مانگنے گیا تو ہمسائے نے انکار کرتے ہوئے کہا: ’’رسی تو نہیں ہے میرے پاس مگر ایک بات بتاؤں، جا کر عمل کرو تو رسی کی ضرورت نہیں پڑے گی…اپنے گدھے کے پاس جا کر بالکل ایسی حرکتیں کرو جیسے رسی کو گردن میں ڈال کر کستے اور پھر کھونٹی کے ساتھ باندھتے ہیں، دیکھنا گدھا بغیر کوئی حرکت کیے ویسے ہی کھونٹے کے پاس کھڑا رہے گا، کسان نے گدھے کے پاس جا کر ہمسائے کی نصیحت پر عمل کیا اور گھر میں جا کر سو گیا۔ دوسری صبح باہر جا کر دیکھا تو گدھا ویسے کا ویسا کھونٹے کے پاس بیٹھا ہے… کسا ن نے گدھے کو ہانک کر کام پرلے جانا چاہا تو نئی افتاد آن پڑی کہ گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہ ہوا، کھینچنے، زور لگانے اور ڈنڈے برسانے سے بھی کام نہ بنا تو ہمسائے سے جا کر کہاکہ بھئی تیری نصیحت باندھ دینے تک تو ٹھیک تھی مگر اب میرا گدھا کام سے تو جاتا رہا ہے، اب کیا کروں؟‘‘

ہمسائے نے پوچھا: ’’آج کام پر جانے سے پہلے کیا تو نے پہلے اس کی گردن سے رسی کھولی تھی؟‘‘

کسان نے حیرت سے کہا:’’کونسی رسی؟ میں نے تو بس رسی باندھنے کی اداکاری کی تھی، اصل رسی تھوڑا باندھی تھی؟‘‘

ہمسائے نے کہا: ’’ہاں تیرے نقطہ نظر سے تو رسی نہیں ہے مگر گدھے کے حساب تو رسی بندھی ہوئی ہے ناں!‘‘

کسان نے واپس جا کر گدھے کی گردن سے اور بعد میں کھونٹے سے رسی کھولنے کی اداکاری کی… اس بار گدھا بغیر کسی مزاحمت کے مالک کا کہنا مانتے ہوئے کام پر چلا گیا۔

ہم نے اکڑی ہوئی گردنوں کے گرد ایسی بہت سی فرضی رسیاں کس کر باندھی ہوئی ہیں۔ ہم اختیارات ملتے ہی اپنے رویے اور لہجے میں فرعون جیسی کئی قبیح صفات پیدا کر لیتے ہیں۔ ہم کسی کو ذرا بھر بھی فائدہ دینا پسند نہیں کرتے۔ ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم حالات و واقعات اور زمینی حقائق کا جائزہ لیے بغیر مجرم کو اس کے جرم سے کئی گنا زیادہ سزا دینے کی لا متناہی کوشش کرتے ہیں بلکہ ہمارا وتیرہ بن چکا ہے کہ ہم اس کا آخری نوالہ تک چھین لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی جرم زدہ کو اس کے معمولی جرم کی سزا تجویز کرتے ہوئے کبھی نہیں سوچتے کہ اس شخص نے ماضی میں کیا کیا خدمات سر انجام دی ہیں۔ کیا اس جرم سے پہلے بھی ایسی نوعیت کے جرائم اس سے سر زد ہوئے ہیں؟ کیا یہ شخص سے پہلے بھی اپنی ذمہ داریوں میں لاپروائی برتتا رہا ہے؟ نہیں، بالکل نہیں ہم نے ایسا سوچنے کبھی سعی کی نہیں ہے۔ ہم اس کے دانستہ یا غیر دانستہ سرکردہ جرم کو بنیاد بنا کر سابق خدمات،دیانت داری، ذمہ داری اور ایمانداری کو پس پشت ڈال کر اسی ایک جرم کا پھندا اس کے گلے میں ڈال کر اکڑی ہوئی گردن اور مفرورانہ مسکراہٹ کے اسے سولی پر چڑھا کر اپنی خود ساختہ انصاف پسندی اور نام نہاد ایمانداری کا پرچم بلند کر دیتے ہیں۔ پھر ہم اپنی اس منافقانہ فتح کی مثالیں کئی سال تک بدبودار اور غلیظ مشیروں کو سناتے نہیں تھکتے۔ بقول نوجوان شاعر امتیاز انجم

لرزتا رہتا ہوں کر دے نہ پاش پاش مجھے

تراشتا ہے عجب طور بت تراش مجھے

میں اپنے آپ میں ہر روز قتل ہوتا ہوں

مرے مکان سے ملتی ہے روز لاش مجھے

یہ معاملہ ایک جگہ، ایک محکمے میں نہیں ہے۔ ہماری تمام بستیوں میں ایسے بے شمار ’’راجہ گدھ‘‘ پائے جاتے ہیں۔ بہت سے ایسے فرعون نما سربراہان پائے جاتے ہیں جو حکم چلا کر، کسی مظلوم کا گلا کاٹ کر ، کسی کی انا مجروح کر کے،کسی کی امید کا چراغ بجھا کر، کسی کی آس کا بت پاش پاش کر کے اور کسی کا رزق چھین کر اپنی درندہ صفت انا کی تسکین کو سراب کرتے ہیں۔ا نسانی طبیعت اس قدر پر اسرار، پیچیدہ اور گنجلک ہے کہ اگر اس کا ایک تند بگڑ جائے تو انسانی ذہن کی ساری کی ساری نفسیات الجھ جاتی ہے۔ غریب کے ساتھ کی ہوئی زیادتی اسے سالہا سال یاد رہتی ہے اور وہ اپنی زیادتی کے ازالے کے سیکڑوں حربے آزماتا ہے۔ اس کے یہی حربے اسے غیر ذمہ دار، خود سر، بے ایمان ، کرپٹ بنادیتے ہیں۔ پھر وہی شخص حب الوطنی کے جذبے سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہوتے ہیں جو ایک ماتحت کو اپنے افسر کا گلا کاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ پورے خاندان کے انتقام لینے پرمجبورکر دیتے ہیں۔ماضی ایسی بے شمار مثالوں سے لبریز ہے۔ کسی کے لیے قربانی دینا، ہمدردی رکھنا اور ایثار کے جذبے کو پروان چڑھانا ہی دراصل دوسروں کے لیے آسانیاں پیداکرنا ہے۔ کسی کے لیے ہمدردی اور آسانی پیدا کرنے سے معاشرے میں پائی جانے والی عدم مسابقت ، بے دلی، خوف و ہراس ، حسد، کمینگی حتیٰ کہ بھوک بھی ملیامیٹ ہو جاتی ہے۔ اگر اب بھی ایسا ممکن نہ ہوا تو آنے والے دور باقی ماندہ بستیاں بھی راجہ گدھوں سے بھر جائیں گی۔ لہٰذا گدھے کے اس رویے پر ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود کئی بار اپنی عادات ، تقالید اور رسم و رواج کے غلام ہوتے ہیں۔ خاص طورپر کئی وہمی اعتقادات کے غلام… ہمیں بھی کئی بار اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ ان خفیہ اور غیر مرئی رسیوں کو تلاش کریں جو ہماری گردن کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہمیں آگے بڑھنے سے روکے رہتی ہیں۔ بقول امتیاز انجم:


ای پیپر