لیڈرشپ کا فقدا ....
29 دسمبر 2020 2020-12-29

ردیوں کی ادھ کھلی دھوپ جیسی سیاست کارفرما ہے جس میں ہ تمازت ہے اور خ کی عجب سرد مہری سی ہے اوپر بیٹھا ا تقامی شخص جو قوم کو بھی ا تقام لی ے کی خوبی سے بہلاتا رہتا ہے ہیں جا تا پ جابی کت ے کھلے دل کے ہوتے ہیں ہزار دشم یاں اور قتل وغارت میں بھی بڑوں ے ایسے رسمیں ب ائی ہوئی ہیں کہ جب دلہ خود اپ ی شادی کا ”بلاوہ“ دی ے گھروالوں کے ساتھ آجائے توبڑے بڑے جگر والے سارے ا تقام چھوڑ دیتے ہیں پٹھا وں میں بھی عورت کو قید کر ے کا تصور ہیں س دھ ے تو خاتو لیڈر بے ظیر دی یہ فاسٹ باﺅلر کی ا تقامی ٹارگٹ والی سٹرٹیجی محض بھارت کے ساتھ کھیل ے کے لیے ہوتی ہے اور ہم بھارت ہیں ہیں ۔

ہمیں محبت درویشی اور شفقت والے لیڈر چاہئیں اولڈ ای گری می والے ہیں مجھے آج تک کسی مہذت فرقے اور مسلک میں ا تقام کی تعریف میں اقوال ملے ہ حدیثیں یہ کہاں کا غصہ ہے ہم یع ی پورا ملک اس شخص کے ذاتی ا تقام کا شکار کیوں رہیں ہمارا کھیت کھلیا وں سے سجا ملک میلے ٹھیلے بھی پس د کرتا ہے جبکہ یہاں ”ویل ڈ بزدار“ مہم چلاکر ثابت کیا جارہا ہے کہ ”کاں چِٹا اے“ (کواسفید ہے)ویسے ”ویلا ڈا “بھی اچھا ع وا ہے جوتشیوں سے پوچھا جائے تو بزدار صاحب کے ج م استھا میں ضرورکوئی بھاگوا دیوی ہوگی جو کچھ ہ ہوتے ہوئے بھی عہدہ عزت دولت اور ا کی ذہا ت ثابت کر ے کے لیے پہلے چوہا اور پھرفردوس عاشق اعوا جسے ”ووکل“ اکابری صیب ہوئے، ”کاں چٹااے“ مہم اپ ے جوب پر ہے مگر بزدار صاحب بلی ک Blankچہرے سمیت ساری مہم کا بھٹہ بٹھا دیتے ہیں .... اپ ے اپ ے صیب ہیں ذہا تیں رُل رہی ہیں اور کسی ایک کو ذہی وفطی ثابت کر ے کے لیے ”بیربل“دربار سجائے بیٹھے ہیں، اپ ا تو مسلک ہی الگ ہے ہ ستائش کی تم ا ہ صلے کی پروا ”پ جابی میں ترجمہ ہو تو ”رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے“ پ جابی جت ی بامع ی ہے اردو کیسے ہوسکتی ہے کہ ہزاروں سال سے پ جابی ے بھگتا ہے تو پ جاب کی مٹی میں لپٹی زبا ہزاروں راز بھری بولی ب گئی ہے محاورہ ا جوائے کریں ”روپ روو¿ تے کرم کھا “ گل ای ختم ....

اپوزیش کا ٹرک اپ ی اتواں لیڈر شپ کے سہارے رواں دواں ہے حیرت ہے د یا بھی ہے سروں کی گ تی بھی پوری مگر واز شریف بے ظیر ات ے بھی غیراہم ہیں تھے کہ ا کی کمی ہ محسوس ہوتی، بے دلی سے موجودہ تقریریں س تے ہیں دیگر شعبہ ہائے حیات کی طرح سیاست میں بھی کال پڑ گیا ہے کوا فیکش کی بات ہورہی تھی تو واقعی کسی کی وجہ شہرت کرکٹ تو کسی کی ولدیت ہے دیگر مذہبی جماعتیں ہیں ابھی تک ا فرادی سطح پر کوئی لیڈر شپ سام ے ہیں آئی ایسا لیڈر جو صرف اپ ی سیاسی بصیرت پر م حصر ہو جبکہ ہمارے بچپ میں بھٹو صاحب ، مولا ا بھاشا ی، واب زادہ صراللہ پروگریسومعراج محمد، خالد معراج صاحب، مولا ا مودودی صاحب، ج اب مفتی محمود، وستاروں کے علاوہ پارٹیوں کے ا در بھی غلام مصطفیٰ کھر ، ح یف رامے، غلام مصطفی جتوئی ، شاہ مخدوم قریشی ، پیر صاحب پگارو ، مخدوم ہاﺅس کی محفلیں سیاسی بصیرت کے اما ت دارستو .... ابکے جلسے دیکھے ساﺅ ڈ سسٹم گا ے ترا ے عرے ط زیں بے ادب جملے کیاکیا ہ دیکھا بعی ہ ف موسیقی میں بھی سریلے لوگوں کی جگہ ساﺅ ڈ سسٹم والے میوزک ے لے لی ہے، اب جو گلوکار آرہے ہیں وہ بھاری بھر کم ساﺅ ڈ سسٹم کے بغیر گا ہیں سکتے جیسے ہمارے وزائیدہ لیڈر بغیر ساﺅ ڈ سسٹم تقریر ہیں کرسکتے اور اس سسٹم کے مو¿جدمحترم وزیراعظم اور ا کی ٹیم اس عمر میں بھی ازاں ہیں۔ پورے سیاسی وقار کی دھجیاں اُڑا کر بٹ ساﺅ ڈ پر حکومت ب اکر بیٹھے ہیں لوگوں کا ذوق مزید گرا کر سٹیج ڈراموں جیسا سیاسی جلسہ اب ہماری قسمت ہے یع ی بظاہر بھی کچھ ہیں اور پس دیوار بھی کچھ ہیں۔ن

باقی ما دہ ز دگی کی امیدیں سیاسی ا کل توا لیڈروں سے لگاسکتے ہیں کہ ا کی مجبوری ہے مگر موجود ہ حکومت اور اپوزیش ے عملاً ایک ہی راستہ چ ا ہے جو ہمارے ذوق سے تو یچے ہے۔

لمحہ موجود ”موجودگی “ سے خالی ہے، مستقبل اپ ی خبر ہیں رکھتا ماضی سے کسی کو مطلب وسروکار ہیں ایسی بے حال قوم کو کیا اسلاف کی کہا یاں س ائیں اور کیا اقبال وقائد کی پروقار سوچ بتلائیں یہاں ہرکوئی وزیراعظم ب ا ٹرک پر چڑھا ہے موجودہ اپوزیش ہی میں ایک ہی وقت میں تی چار امیدوار وزیراعظم موجود ہیں ....یع ی بقول ا کے ایک ” الائق“ کا تختہ الٹ بھی گیا تو باقی پی ایچ ڈی بھی آپ کے سام ے ہی ہیں.... رہ گئے اپ ے اپ ے ”کڑچھے“ تو مریم اور گ زیب عظمیٰ بخاری فیصل واﺅڈا ،مراد سعید ودیگر تو ا ہوں ے وقت بے وقت تبدیل ہوتے رہ ا ہے جب کسی کو اپ ی خوشامد کا پورا صلہ ہ ملے تو Offendہی ہوتا ہے اور اخبارات ہوں یا سیاسی ٹیم پہلی والی ٹیم ہمیشہ رخصت ہی ہوتی ہے کہ جدوجہد کے ساتھی اور ہوتے ہیں اور کامیابی کے اور ا ساتھیوں کی بھی ڈیما ڈ ات ی بڑھ جاتی ہے کہ ا کی جگہ ئے لے لیتے ہیں دوسرے پرا ے رازوں کے امی خطرہ¿ شہرت ہوتے ہیں یہ فطرت ہے اور فطرت سے ا حراف ممک ہیں اکثر کیسوں میں، میں ے دیکھا ہے کہ لوگ کامیابی کا زی ہ چڑھتے ہی بدل کیوں جاتے ہیں تو بے وفائی کے علاوہ بھی اس کی کوئی Logieلاجک ہے ویسے توبے وفائی ازخود بھی اپ ی لاجک رکھتی ہے وفا کی م طق ہے تو بے وفائی کی کیوں ہیں اسی لیے اقتدار کے ٹرک پر چڑھے سارے خواہش م دخوشامد میں چیختے دھاڑتے چہروں کو غور سے دیکھتے رہتے ہیں کہ ا ہیں وقت کی دھول میں غائب ہو ا ہے م یر یازی کے اس حمدیہ شعر پر اختتامن

بیٹھ جائیں سایہ¿ داما احمد میں م یرن

اور پھر سوچیں وہ باتیں ج کو ہو ا ہے ابھی ن


ای پیپر