اب اُداس پھرتے ہوسردیوں کی شاموں میں!
29 دسمبر 2020 2020-12-29

یہ پت جھڑ کا موسم ہے، اُداس کردینے والا موسم، سردیاں بہت سے لوگوں کو اچھی لگتی ہیں، ہمیں بھی کبھی اچھی لگتی تھیں، پھر جھڑتے ہوئے پتوں کا دُکھ دِل میں بھرگیا، ہرموسم کی بہرحال اپنی افادیت ہوتی ہے، ہرموسم کے ساتھ جڑی ہوئی اپنی یادیں ہوتی ہیں، وہ موسم نہ آئے تو وہ یادیں بھی نہیں آتیں، یادوں سے دل کبھی خالی نہیں ہونے چاہئیں، یادیں دل کی حفاظت کرتی ہیں، موسموں سمیت کچھ بھی اللہ نے بے مقصد پیدا نہیں کیا، بچپن میں اپنے ایک بزرگ سے ہم نے سنا تھا ”حضرت موسیٰؑ سے کسی نے پوچھا ”یہ چھپکلی کیوں بنائی؟ اِس کی تخلیق کا کیا مقصد تھا؟“....حضرت موسیٰؑ نے فرمایا”کل چھپکلی بھی انسان کے بارے میں یہی پوچھ رہی تھی؟“....بس اِس ایک نقطے پر سب کا اتفاق ہونا چاہیے۔ رہے نام اللہ کا، جو ہمیشہ رہے گا، جس کا جو بھی ہے اللہ ہی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، وہ رب العالمین ہے، جتنا بڑا رب ہے اُتنا بڑا اُس کا ظرف ہے۔ اُس کی دین ہے، اُس کی عطا ہے، جو اُسے مانتے ہیں وہ اُن کا بھی ہے، جو نہیں مانتے اُن کا بھی ہے، .... کائنات کی باقی ہرشے عارضی ہے، کمزور ہے، ٹوٹنے والی ہے، بِکھرنے والی ہے، اور دفن ہونے والی ہے، میں درختوں سے پتے چھڑتے ہوئے دیکھتا ہوں دِل ویران ہوجاتا ہے، پھر یہ ویرانی یہ سوچ کر بہت حدتک کم ہوجاتی ہے اِن درختوں پر اِن شاخوں پر نئے پھول نئے پتے آئیں گے، ٹہنیوں سے ٹوٹتے ہوئے پتوں پر ایک شعر یاد آتا ہے” پتہ وی کوئی ٹہنیوں ٹوٹے کنی پیندی چیک“....سِرویراں دے لادیندے نیں خورے کنج شریک“.... ترجمہ (کسی ٹہنی سے کوئی پتہ بھی ٹوٹ کر گرتا ہے میرے کانوں میں چیخیں سنائی دیتی ہیں، میں حیران ہوں لوگ اپنے جیسے لوگوں کو، انسانوں کو، اپنے بھائیوں کو قتل کیسے کردیتے ہیں؟ اُنہیں کیسے مار دیتے ہیں؟) تو عرض کیا ہے جہاں اِن دِنوں ٹہنیوں اور شاخوں کو ننگا دیکھ کر دِل اُداس اور ویران ہو جاتا ہے وہاں اُمید کا اِک دیا میرے دِل میں ہمیشہ جلتا رہتا ہے اِ ن ٹہنیوں پر اِن شاخوں پر اِن درختوں پر پتے پھر سے راج کریں گے، پھول پھر تخت نشین ہوں گے، خوشبو بِکھر کر پھر نِکھر جائے گی، ہائے پروین شاکر ۔”وہ تو خوشبو ہے ہواﺅں میں بِکھر جائے گا، .... مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا “ ....ایک تو دسمبر میں پتے جھڑنے کا دُکھ، دوسرے شاعری کی شہزادی کی دنیا سے رخصتی کا المیہ .... اِس پر ایسے ہی چلے جانے والے فراز یاد آتے ہیں ”ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز.... ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تومرجائے گا“ ....پروین شاکر کے دسمبر میں چلے جانے کے دُکھ میں آنکھوں کی بہتی ہوئی ندیوں سے دسمبر ہی میں رخصت ہونے والے منیر نیازی اور بی بی بے نظیر بھٹو کی یادوں کے زخم بھی ہرے ہوجاتے ہیں، چاروں صوبوں کی ایک ہی زنجیر تھی جو ٹوٹ گئی، زندگی کے چند بڑے دُکھوں میں ایک دُکھ ہمیشہ ستاتا رہے گا میں نے اُس کے خلاف کیوں اتنا لکھا زرداری کے گناہ یا گندگی کیوں اُس کے کھاتے میں ہم ڈالتے رہے؟.... کل رات کو بارش ہورہی تھی، یوں محسوس ہورہا تھا یہ منیر نیازی کی یادیں ہیں جو برس رہی ہیں ....”غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں.... تو نے مجھ کو کھودیا ہے میں نے تجھے کھویا نہیں ....نیند کا ہلک گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا.... یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں.... ہرطرف دیوار ودراوراُن میں آنکھوں کے ہجوم.... کہہ سکے جو دِل کی حالت وہ لب گویا نہیں ....جُرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا.... کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں ....جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر .... غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں.... کیسے بڑے بڑے عظیم لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، دوسرا دُکھ یہ کہ اُن جیسا شاید ہی ہماری زندگیوں میں اب کوئی آئے، یہ دُکھ درختوں شاخوں اور ٹہنیوں سے پتے اور پھول جھڑجانے کے دُکھ سے زیادہ بڑا دُکھ ہے۔ ہمارا یہ اعزاز تھا ہم منیر نیازی، پروین شاکر کے دور میں زندہ تھے اور ہماری محرومی یہ ہے یہ اعزاز ہم سے چھِن گیا ، پروین شاکر پھولوں تیتلیوں اور خوشبوﺅں کی شاعرہ تھی، وہ خود بھی اِن ہی جیسی تھی، ”مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا“ .... ہمارا یہ ”پھول“ اللہ کے پاس چلا گیا، اپنی شخصیت اور شاعری کی خوشبو مگر یہیں چھوڑ گیا،.... میں نے آج تک کسی ٹہنی سے کبھی پھول نہیں توڑا، میں سوچتا ہوں اِس پھول کی زندگی ہی کتنی ہے کہ اِس کی عمر سے پہلے اِسے ختم کیا جائے.... قدرت کے کاموں میں مداخلت کا بھلا کسے اختیار ہے ؟.... میں اِس کالم کی ابتداءمیں یہ عرض کررہا تھا کائنات کی کوئی شے مستقل نہیں۔ نہ کوئی شے فالتو ہے، کل بھوربن (مری) میں ناشتے کی میز پر میرااِک عزیز دہی کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی بولا ” کتنا گندہ دہی ہے“ .... میں نے اُسے ڈانٹ دیا، میں نے اُس سے کہا ”قدرت کی ہر حلال نعمت چاہے وہ کسی کھانے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اُسے گندہ نہیں کہنا چاہیے.... جس دہی کو تم گندہ کہہ رہے ہو بے شمار لوگوں کی قسمت میں یہ ”گندہ دہی“ بھی نہیں ہوتا، .... ایسے ہی اکثر شدید گرمی یا حبس میں ہم کہہ دیتے ہیں ”کتنا گندہ موسم ہے“.... یہ بھی نہیں کہنا چاہیے، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ لینا چاہیے ”فلاں شے کتنی عجیب سی ہے، یا فلاں موسم کتنا عجب سا ہے، .... بے شمار نعمتیں ایسی ہیں جنہیں بے شمار لوگ صرف دیکھ سکتے ہیں کھانہیں سکتے، کچھ لوگ اپنی غربت کی وجہ سے نہیں کھاسکتے، کچھ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں کھاسکتے، میں ایک صاحب کو جانتا ہوں جن کی چارشوگر ملیں ہیں اور وہ شوگر کے مریض ہیں، ایک اور صاحب ہیں جن کا سوایکڑ میں کینوﺅں کا باغ ہے پر وہ ایک ایسے مرض میں مبتلا ہیں جس میں کینو کی ایک پھانک وہ نہےں لے سکتے، سو بات کرتے ہوئے، بولتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا چاہیے ہماری کوئی بات ہمارا کوئی جملہ، ہمارا منہ سے نکلا ہوا کوئی لفظ کسی تکبر یا ”بڑے بول“ کے زمرے میں تو نہیں آتا؟.... میں سردیوں کی بات کررہا تھا، اِس موسم کی یقیناً کوئی نہ کوئی افادیت ہوگی، یہ موسم بے شمار لوگوں کو اچھا لگتا ہے، پر مجھے یہ موسم ہمیشہ سے ہی اُداس کردیتا ہے، خصوصاً سردیوں میں جب بارش ہوتی ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے میرا دِل برس رہا ہے، سردیوں کی شاموں میں بارش کا سارا پانی میری آنکھوں میں جمع ہوجاتا ہے، مجھے لگتا ہے یہ بارش نہیں ہورہی، کوئی رورہا ہے، اب تولوگ رونا بھی بھول گئے، اب لوگ صرف دوسروں کے دُکھوں پر ہنستے ہیں، دوسروں کو دُکھ دینے کے لیے اپنی ”خوشیاں تک لوگ قربان کردیتے ہیں، اصل خوشی یہ ہے کسی کا دِل نہ دُکھایا جائے، .... کاش قدرت کے اِس فلسفے کو کوئی سمجھ سکے ہم جب کسی بندے کو کوئی اذیت کوئی دُکھ کوئی تکلیف دے رہے ہوتے ہیں ہمارے دیئے ہوئے اِس دُکھ ، تکلیف یا اذیت کے بدلے میں اللہ اُس بندے کے کتنے گناہ معاف کررہا ہوتا ہے، وہی گناہ اُس کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں جو کسی کو دُکھ دے رہا ہوتا ہے،....شعیب بن عزیز یاد آئے ....”اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں ....اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں .... بالکل درست فرمایا .... جب آپ پروین شاکر ،منیر نیازی اور بے نظیر بھٹو جیسی شخصیات سے محبت کریں گے۔ اُنہیں یاد کریں گے، پھر اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں.... ہاں یاد آیا.... دسمبر میں خوش ہونے کے لیے یہ کافی نہیں کہ یہ مہینہ ہمارے قائداعظم ؒ کی پیدائش کا ہے؟؟


ای پیپر