ضمانتوں کا موسم، نئی گرفتاریاں
29 دسمبر 2019 2019-12-29

ناگہاں طلبی ہوئی نوٹس پر جو پہنچا، اس کا ٹھکانہ نیب حوالات، ’’جو تیری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا‘‘ حوالات میں گہما گہمی، بقول حفیظ جالندھری ’’بڑی رونقیں ہیں فقیروں کے ڈیرے‘‘ بڑے بڑے نامور سیاستدان، دانشور، منصوبہ ساز، ماہرین معاشیات، اساتذہ اور عوام کے منتخب لیڈر کونے کھدروں میں پڑے آنکھیں بند کیے خود اپنی ذات کا محاسبہ کر رہے ہیں۔ شب و روز کی گونا گوں مصروفیات میں سوچا کرتے تھے کہ ’’کبھی فرصت ملے تو سوچیں گے، زندگی میں لیا دیا کیا ہے‘‘ اب فرصت ہی فرصت ہے،تصور کیجے، چند لمحے قبل تفتیشی ٹیم شاہد خاقان عباسی سے ایل این جی پر تفتیش کر کے گئی ہے، شاہد خاقان سیاستدان سے زیادہ فلاسفر اور پروفیسر ہوگئے ہیں کہ مہینوں سے نیب کے ارسطوؤں کو ایل این جی کا فلسفہ سمجھا رہے ہیں ’’شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات‘‘ 21 ویں صدی کے ارسطووں کو بات ہی سمجھ میں نہیں آرہی جس دن سمجھ میں آگئی اسی دن سابق وزیر اعظم کی ضمانت یا رہائی ہوجائے گی۔ ویسے آپس کی بات ہے فی الحال رہائی اور مقدمات کے کالعدم ہونے کا موسم نہیں آیا، صرف ضمانتوں پر گزارا چل رہا ہے۔ اپوزیشن بڑی خود سر ہو رہی تھی ان کے سروں پر مقدمات کی تلوار لٹکی رہنی چاہیے۔ حوالات کی دوسری جانب نووارد احسن اقبال، آئندہ 25 سالوں کے ترقیاتی منصوبوں پر غور و فکر کر رہے ہیں۔ آنکھیں بند ہوں تو سوچوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اتنے دنوں مفتاح اسماعیل سے بات چیت رہی وہ اندر ہوگئے تو رابطہ منقطع ہوگیا تھا، احسن اقبال اندر ہوئے تو مفتاح کی ضمانت ہوگئی۔ تو چل میں آیا کا چکر چل رہا ہے عدالت ضمانت منظور کرنے کے بعد لاکھوں کروڑوں کے مچلکے مانگتی ہے، نیب ایسے موقع پر کوئی متبادل (Releiver) طلب کرتا ہے سارے چلے گئے تو حوالات اور کھولیاں بھائیں بھائیں کرنے لگیں گی اس لیے کسی ملزم کی ضمانت ہوجائے تو کسی اور کو نوٹس بھیجتے ہوئے کہا جاتا ہے ’’چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘ احسن اقبال ہمہ وقت سوچوں میں گم، حوالات میں رونق نہیں لگی، رونق میلہ کے لیے نوجوان ضروری اس لیے بلاول بھٹو زرداری کو نوٹس بھیج دیا گیا، بلاول ابا کی حالت دیکھ چکے ،کس حال میں گئے تھے۔ بیماریوں کی ’’پنڈ‘‘ (گٹھڑی) لے کر واپس آئے، انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا۔ والدہ کی برسی ہے 15 جنوری تک فرصت نہیں اس کے بعد آئوں گا، لیکن جیالوں کوبرمانے کے لئے لیبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بولے’’ گرفتاری کے بعد اور خطرناک ہوجائوں گا۔ جائو نہیں آتا، ہمت ہے تو پکڑولو‘‘۔ شیخ رشید اس جرأت رندانہ پر سخت ناراض، کہنے لگے۔ بلاول بچہ ہے تو بچ کر کھیلے، بچہ ہے تو بچوں کو نوٹس کیوں بھیجے جا رہے ہیں؟ بلاول ہاتھ نہ آئے تو پھر ’’نظر کرم‘‘ ن لیگ کے جاوید لطیف پر پڑی۔ اکائونٹس کی تفصیلات موصول ہوگئی ہیں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے قدم رنجہ فرمائیے تاکہ آمدنی سے زیادہ اثاثوں پر بات ہوسکے۔ مقصد ’’زیارت‘‘ نہیں شکنجہ کسنا تھا۔ جاوید لطیف بھاگم بھاگ لاہور ہائی کورٹ پہنچے۔ درخواست دی عدالت عالیہ نے نیب کو کارروائی سے روک دیا۔ خورشید شاہ کی اچھی بھلی ضمانت ہوگئی تھی۔ شاہ جی کو کسی کی نظر کھا گئی، رہائی نہ ہوسکی مچلکے بھی واپس کردیے گئے سعد رفیق اور ان کے بھائی بھی اندر ہیں ہر بار تیرہ تیرہ دنوں کا ریمانڈ، کچھ ثابت کریں اور سزا دلا کر جیل برد کردیں۔ ٹی وی چینلوں پر اور کون بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا۔ پرویز رشید، عظمیٰ بخاری اور عطا تارڑ پر نظریں ہیں۔ جج ویڈیو اسکینڈل میں ایف آئی اے نے طلب کرلیا۔ لائن لگی ہوئی ہے ’’کنے کنے جانا ایں نیب دے گھر‘‘ مریم نواز اسی دکھ کے مارے خاموش ہوگئیں ،کہا ’’ ابا کے پاس لندن جانے دو اندر کی خبریں ہیں حالت ٹھیک نہیں، والدہ کا دکھ ابھی تک تازہ ہے‘‘۔ وفاقی کابینہ نے انکار کردیا۔ ای سی ایل سے نام نہیں نکلے گا ورنہ پھر سے اڑ جائیں گی۔ یکطرفہ سیاست میں مزہ نہیں، ’’چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد‘‘ والی سیاست مزہ دیتی ہے۔ اپوزیشن کے صف اول بلکہ دوسری صف کے لیڈر نیب حوالات میں پڑے خود احتسابی میں مصروف، سیاست کے کوچہ کی رونق ختم ہوگئی۔ نیب کا احتساب یکطرفہ ٹھہرا، دعویٰ کہ بلا امتیاز احتساب ہو رہا ہے مگر ’’کرم کی بارشیں‘‘ اپوزیشن پر ہی برس رہی ہیں، بی آر ٹی، مالم جبہ، فارن فنڈنگ، اداروں پر حملے، پولیس افسروں پر تشدد، لندن امریکا میں اثاثے، فلیٹس اور آمدن سے بڑھ کر اثاثے، سارے کیسز کیا ہوئے؟ فائلیں بند ہیں یا پڑھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے؟ جو مقدمات عدالتوں میں ہیں ان پر بھی پیشرفت انتہائی سست، عدالتیں کیا کریں کبھی کوئی وکیل غیر حاضر کبھی استغاثہ کی جانب سے کمزوری کا احساس کبھی بینچ تحلیل، کبھی کچھ کبھی کچھ، جن پر الزامات وہ سیاست کے کاموں میں مصروف، خود احتسابی کے احساس سے دور، حالانکہ خود احتسابی انسان کو دو جہانوں میں سرخرو جبکہ عیب جوئی، الزام تراشی، غیبت، تہمت دنیا و آخرت میں عذاب کا باعث، گریبان کے صرف دو بٹن کھول کر جھانک لیا جائے کہ اس مالک حقیقی کا احتساب یکطرفہ نہیں ہوگا۔ لوگ عدل نہیں رحم مانگیں گے آپ لوگوں کو عدل نہیں دے رہے تو رحم کے مستحق کیسے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ’’نیب‘‘ صرف رپورٹوں اور تراشوں پر احتساب نہیں کرے گا بلکہ ’’جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا‘‘ کراما کاتبین عمر بھر کی’ یو ایس بی‘ دربار خداوندی میں پیش کردیں گے پھر کیا کریں گے ابھی سے سوچنا چاہیے کہ

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں مالک مکان تھوڑی ہیں

مقدمات کے اسی جھمیلے میں رانا ثناء اللہ کی ضمانت ہوگئی، کمال ہے لوگ سزائے موت کی آس لگائے بیٹھے تھے، کئی بار کہہ چکے منشیات اسمگلنگ کی سزا موت، بڑا پکا کام کیا ہے ویڈیو بھی بن گئی ثبوت بھی دیں گے وزیر موصوف نے اے این ایف کے سربراہ کو ساتھ بٹھایا گرج چمک کے ساتھ کہا ’’اللہ کو جان دینی ہے (یہ ان کا تکیہ کلام ہے) رانا ثناء اللہ 15 کلو گرام ہیروئن لے جا رہے تھے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے خود ہی ڈگی میں ہیروئن کی نشاندہی کی، ویڈیو بن گئی اب نہیں بچیں گے۔ 6 ماہ تک اندر رکھا سارے حربے استعمال کرلیے رانا ثناء اللہ بال کالے کر کر کے شیخ رشید کی طرح جوان بنے ہوئے تھے 6 ماہ جیل میں رہ کر نڈھال ہوگئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ویڈیو طلب کی ثبوت مانگے، سب ندارد، جسٹس نے دس دس لاکھ کے دو مچلکوں پر ضمانت منظور کرلی، اہلیہ خوشی سے رو پڑیں بولیں، میرے رانا کی زندگی کے 6 ماہ لوٹا دو ان کا حساب کون دے گا۔ بڑی کہانیاں ہیں۔ نواز شریف کی ضمانت کی میعاد ختم ہوگئی بیماری ختم نہیں ہوئی، شہباز شریف کو پیشی کے لیے آخری موقع دیا گیا ، ’’ اک مٹھی چکو دوجی تیار‘‘ ( ایک مٹھی اٹھاو دوسری تیار)کتنے ہتھکنڈے اپوزیشن کا راستہ روکنے کے لیے کتنی پیش بندیاں، اس پر چیف الیکشن کمشنر سمیت دو ارکان کے تقرر اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون سازی کے سلسلے میں اپوزیشن سے تعاون کی امیدیں، بتوں سے امیدوں کے مترادف، خبریں گرم کہ تمام معاملات میں ڈیڈ لاک برقرار، ڈیڈ لاک کیسے ٹوٹے گا جو بولے اس کے لیے نیب حوالات کی کنڈی کھول دی جائے پھر تالہ کھلنے کا انتظار چہ خوب، اتنی سرد مہری میں تو برف پگھلنے کی بجائے گلیشئر میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ گلیشئر گرے گا تو مفاہمت کے سارے راستے بند ہوتے جائیں گے، جو لوگ اپوزیشن کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں، مسائل کے حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ پارلیمنٹ اپوزیشن کے بغیر کیسے چلے گی۔ بقول سینئر تجزیہ کار اوریا مقبول جان ’’جمہوریت انتہا پسندوں کے قابو میں آگئی ہے۔‘‘ تب ہی تو ’’بال کھولے رو رہی ہے‘‘ قصور عوام کا خود ہی ایسے عاقبت نا اندیش لوگوں کو منتخب کرتے ہیں پھر 5 سال روتے رہتے ہیں۔ خدا کو جان دینی ہے سارے وزیر مشیر اور ترجمان اپنے اپنے’’ فرائض‘‘ انجام دے رہے ہیں، سچ جھوٹ کی کوئی قید نہیں ’’کارکردگی‘‘ دکھانی ہے ورنہ بیروزگاری کا خدشہ، نیب پر گٹھ جوڑ کا الزام، ہتھ جوڑی کے طنعے،لیکن نیب صاف انکاری، انکار سر آنکھوں پر مگر جان کی امان پائیں تو عرض کریں کہ فضول کی اس پریکٹس سے کیا حاصل کہ بندہ پہلے گرفتار کرلو، ثبوت بعد میں ڈھونڈلیں گے۔ سارے مقدمات ماضی کی فائلوں سے نکالے جا رہے ہیں جب دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف اور’’ خون دے پیاسے ‘‘ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھے دونوں بڑے اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اب احتساب کو سیدھے راستے پر لانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے احتساب واقعی سب کے لیے یا پھر سارے آب زم زم سے نہائے ہوئے پاک صاف، فیصلہ ہوجائے تو ملک کے لیے بہتر ہوگا۔


ای پیپر