سبسڈی کے اثرا ت اور عوام
29 دسمبر 2019 2019-12-29

یہ نا چیز تو یہ گتھی سلجھا نے سے قا صر تھا تو تھا مگر اب تو کا بینہ ار کا ن نے بھی اپنے تحفظا ت کا ا ظہا ر کر دیا ہے کہ کیو ں ایک خطیر سبسڈی کے با وجو د وطن ِعز یز میں گیس اوربجلی مہنگی سے مہنگی تر ہو ئے جا ر ہی ہیں۔بتا تا چلو ں کہ وز ارتِ توا نا ئی کا ما ننا ہے کہ دوسو سو لہ ارب روپے کی سبسڈی بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بجلی کی قیمتیں یکساں رکھنے کے لیے ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کے طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم فیول پرائس ایڈجسٹمنت فیول کی عالمی قیمتوں سے منسلک ہے جس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کچھ دا نشوروں نے بھی ملک میں بجلی اور گیس کی فراہمی، کھپت اور صارفین کو درپیش مشکلات پر ہولناک تجزیے پیش کیے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ انکشاف رواں ماہ کے شروع میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلااس کے جاری ہونے والے منٹس آف میٹنگ میں کیا گیا۔ اطلاع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر ڈسکشن کے دوران بعض اراکین کابینہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا کہ ایک لمبی چو ڑی سبسڈی کے باوجود بجلی و گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ سبسڈی کا فائدہ صارفین کو منتقل نہیں کیا جارہا ہے۔ اسی طرح گیس کے حوالے سے سلیبز پر نظر ثانی کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی مگر اس بارے میں بھی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔دو سرے یہ کہ حکو مت نے اپنے تئیں ملک کے متو سط اور نچلے طبقے کے لیے جس ر یلیف پیکیج کا ا علا ن کیا ہوا ہے اس کے با وجو د یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیا ئے خو رو نو ش بد ستو ر مہنگے دستیاب ہیں۔گو یا معیشت کے استحکام اور حکومتی ترقیاتی کاموں کے درمیان مثبت پیش رفت دکھانے کی مستعدی کا تاثر میڈیا میں تو موجود ہے لیکن جب عوام کے معیار زندگی، مہنگائی میں کمی، توانائی بحران کے سدباب اور بجلی و گیس کی سپلائی میں تعطل، لوڈ شیڈنگ اور ہوش ربا بلنگ پر نگاہ ڈالی جاتی ہے تو تمام حکومتی اقدامات اور استحکام کے اشاریے حقائق سے ہم آہنگ نظر نہیں آتے۔ عوام ، تاجرو صنعت کار برادری اس جوش و خروش، امید اور صائب اقتصادی استقامت سے بوجوہ متفق نظر نہیں آتی، اس کی وجوہ گنوائی جاسکتی ہیں مگر عوام کا جو بنیادی رد عمل اور مارکیٹ میں نظر آنے حکومتی پالیسیوں اور معاشی پیش قدمی کے اثرات ہیں ان میں ثبات اور پائیداری کے فقدان کی شکایات عام ہیں۔ لوگ معیشت کو اور حکومتی کار کردگی کو ایک سمجھنے کا اور نہ سمجھا نے کا مسلہء سمجھتے ہیں۔ لاکھوں بیروزگار اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کا کہنا ہے کہ حکومت اب تک قوم کے اقتصادی دکھ اور معاشی کرب کا ادراک نہیں کرسکی ہے اور ان کے معاشی مسیحا ایسی کوئی ٹھوس پالیسیاں دینے میں بریک تھرو کی پوزیشن نہیں لے رہے جہاں عوام کو دو وقت کی روٹی، روزمرہ کے اخراجات، اشیائے ضرورت کی ارزانی، روزگا رکے تسلسل اور مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کا یقین آ جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اقتصادی اور معاشی فلسفے محض اعلانات کی شکل میں لائے جاتے ہیں لیکن حکومت عوام کو کس قسم کے جمہوری ثمرات دینا چاہتی ہے اس کھل جا سم سم کا دروازہ آج بھی نہیں کھل سکا۔ اس حقیقت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ آج عام آدمی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شدید دبائو میں ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 400 کارکنوں کی چھانٹی کا امکان ہے۔ کارپوریشن حکام کا کہنا ہے کہ کابینہ کو صورت حال کی تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ادھر صدر ایمپلائز یونین کا موقف ہے کہ این آئی آر سی سے امتناع لے لیا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو بہت ہی کم ملتا ہے۔ اطلاع کے مطابق 2019ء کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 23 روپے 2 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 16 روپے 42 پیسے، لائٹ ڈیزل 7 روپے 5 پیسے اور مٹی کا تیل 13 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔ جنوری میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 54 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ دسمبر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 65 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ رواں سال میں پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد برقرار رہی۔ دریں اثناء بجلی کی لوڈ شیڈنگ، گیس کی اور سی این جی کی بندش نے معمولات زندگی درہم برہم کردیئے ہیں۔ گھریلو خواتین کے لیے کھانا پکانا جوئے شیر لائے کے برابر ہے۔ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن سراپا احتجاج ہے کہ کمٹمنٹ کے باوجود ان کے گیس سٹیشنز کو گیس کی فراہمی نہیں ہورہی ہے۔ کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں صارفین بجلی، گیس، سی این جی کے تعطل سے سخت پریشان ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

ادھر آئی ایم ایف کی نئی پیشگوئی کے مطابق 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ توقع سے کم رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر ڈالر 160.64 روپے کا ہوگا۔ قبل ازیں امریکن کرنسی کی قدر 172.53 روپے رہنے کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ مذکورہ دستاویز میں بتایا گیا کہ اراکین کابینہ کے مطابق یوٹیلیٹی کی قیمتوں میں اضافہ کے رجحان کی وجہ سے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والی تباہ حال معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیاں سبوتاژ ہورہی ہیں۔ دستاویز کے مطابق اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے کابینہ اراکین کو بتایا گیا کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ براہِ راست عالمی منڈی میں رائج فیول پرائس سے منسلک ہے، یہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے پچھلے تین ماہ کے بقایا جات ایڈجسٹ کرکے صارفین کو منتقل نہیں کیے گئے تھے۔ موسم گرما میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات اب موسم سرما میں ظاہر ہو رہے ہیں کیونکہ گرمیوں میں عالمی منڈی میں ہونے والی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ جو فیول منگوا کر بجلی پیدا کی گئی، اس کی ایڈجسٹمنٹ اب کی جارہی ہے۔ جہاں تک 216 ارب روپے کی سبسڈی کا تعلق ہے تو یہ سب سڈی ملک میں تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے بجلی یونیفارم قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے بطور ٹیرف ڈیفرنشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) استعمال ہوتی ہے۔ دستاویز کے مطابق وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ صارفین کو اووربلنگ، بجلی چوری اور کرپشن روکنے کے لیے بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ کیپسٹی پے منٹ میں کمی لانے کے لیے بھی 11.97 فی یونٹ کے فلیٹ ریٹ پر بجلی کی فراہمی کے مراعاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہ پیکیج نومبر تا فروری تک کے لیے سردیوں میں لاگو رہے گا۔ مزید بتایا گیا کہ صارفین کو بھجوائے جانے والے اضافہ شدہ زائد بلوں کے معاملے کا فرانزک آڈٹ کرایا گیا ہے اور اس آڈٹ کے نتیجے میں صارفی کو اضافی رقوم واپس کرنا ہیں مگر یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور عدالت میں چیلنج ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر صارفین کو اضافی رقوم کی واپسی رکی ہوئی ہے۔ یہاں یہ سب لکھنے کا مقصد ار بابِ اختیا ر سے یہ پو چھنا ہے کہ آ کر سبسڈی او رد یئے گئے معا شی پیکیج کے ثمرات عو ا م تک پہنچیں گے؟


ای پیپر