کوئی تو ہو !
29 دسمبر 2019 2019-12-29

1454میںکرسٹوفر کولمبس نے پرتگال کے بادشاہ سے درخواست کی وہ ایک بہت بڑا بحری بیڑا تیار کر رہا ہے جو مغرب کی جانب سے مشرقی ایشیا کے نئے راستے تلاش کرے گا ، اس مہم کے لیے اسے افرادی قوت، ملاح اورعملے کی تنخواہیں ، جہاز سازی اور دیگر اخراجات کے لیے خطیر رقم درکار ہے ، اگر وہ اسے سرمایہ فراہم کرے تو مستقبل میں اس مہم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک معقول حصہ اسے پیش کرے گا ۔ بادشاہ نے کولمبس کی پیشکش کو مسترد کر دیا ۔ کولمبس اپنا منصوبہ لے کر یورپ کے مختلف حکمرانوں کے پاس گیا ، برطانیہ، فرانس ، اٹلی اور دوبارہ پرتگال مگر کہیں بھی اس کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ حکمرانوں کے ساتھ اس نے یورپ کے مختلف سرمایہ داروں کو بھی پیشکش کی مگر اسے ناکام لوٹنا پڑا ۔ آخر میں وہ اسپین کی ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ کے دربار میں حاضر ہوا ، ملکہ ازابیلا نے اس کی پیشکش قبول کر لی اور یوں کولمبس امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔اسپینش لوگ امریکہ پہنچنے کے بعد آرام سے نہیں بیٹھے ، 1517میں انہیں معلوم ہوا میکسیکو کے علاقے میں ایک طاقتور سلطنت موجود ہے ، یہ ازٹیک سلطنت تھی ،مارچ1519 میں اسپینش مہم جوکوریٹس ازٹیک سلطنت کے مشرقی ساحل پر اترا، ازٹیک باشندوں کے لیے کوریٹس اور اس کے ساتھی اجنبی مخلوق تھے ، دنیا سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ازٹیک کے علاوہ کوئی اور مخلوق نہیں دیکھی تھی ، یہ سفید چمڑی والے لوگ بالکل مختلف تھے ، ان کے چہروں پر بال تھے اور ان کے جسم سے بدبو آتی تھی ( آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ جب یہ یورپین پہلی بار میکسیکو پہنچے تو ان کے جسم سے اتنی ذیادہ بد بو آتی تھی کہ مقامی لوگوں کو ان کے ساتھ خوشبو لے کر گھومنا پڑتا تھا تاکہ ان کی بدبو سے بچ سکیں )۔ کوریٹس اور اس کے ساتھی بڑے بڑے بحری جہازوں پر ساحل پر اترے تھے ،یہ کل 550افراد تھے، ان کے پاس لمبی اور چمکدار تلواریں اور آہنی زرہیں تھیں ، اس کے مقابلے میں ازٹیک باشندے بہت سادہ اور امن پسند تھے ، ان کے پاس لکڑی کی تلواریں اور چقماق کی بے کار برچھیاں تھیں ۔ ازٹیک باشندوں نے سمجھا شاید یہ کوئی خلائی مخلوق ،جادوگر یا مردہ افراد کی روحیں ہیں جو اتنے طاقتور اور زور آور ہیں ۔ کوریٹس اور اس کے ساتھی ازٹیک کے ساحلوں پر اتر رہے تھے تو ازٹیک باشندے انہیں حیرت سے دیکھ رہے تھے ، کوریٹس نے اعلان کیا ’’ ہم اسپین کے بادشاہ کا پیغام لے کر آئے ہیں ، ہم پر امن لوگ ہیں اورہم تمہارے بادشاہ سے ملنا چاہتے ہیں‘‘ ازٹیک باشندے انہیں اپنے حکمران مونتی زوما دوم کے پاس لے گئے ، ملاقات کے دوران کوریٹس کے اشارے سے اس کے ساتھیوں نے مونتی زوما کے محافظوں کو قتل کر دیا ، مونتی زوما کو محل میں قید کیا اور امور سلطنت اپنے ہاتھ میں لے لیے، بظاہر احکام مونتی زوما کی طرف سے جاری ہوتے تھے مگر اصل حکمران کوریٹس تھا اور عوام ان سارے حالات سے بے خبر تھے ۔ ازٹیک امرا نے مونتی زوما کے خلاف بغاوت کر دی مگر کوریٹس اس وقت تک حالات اپنے کنٹرول میں لے چکا تھا ، کوریٹس نے مقامی آبادی کو یقین دلایا اگر وہ میرا ساتھ دیں تو مونتی زوما کو محل سے نکال کر قید کیاجا سکتا ہے ، مقامی لوگ ٹریپ ہوگئے اور کوریٹس کا ساتھ دیا ، جب عوام کو درست حالات کا پتا چلا تب بہت دیر ہو چکی تھی اور ازٹیک سلطنت مکمل طور پر کوریٹس کی جھولی میں جا گری تھی ۔ صرف ایک صدی بعدنوے فیصد مقامی آبادی ختم ہو چکی تھی ، کچھ حملوں میں مارے گئے ، کچھ اسپینش کے ساتھ آنے والی بیماریوں کا شکار ہوئے اورجو باقی دس فیصد بچے تھے وہ کھیتوں میں کام کرنے اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے ۔

کوریٹس کے میکسیکو آنے کے صرف دس سال بعد ایک اور ہسپانوی مہم جو پزارو انکا سلطنت کے ساحلوں پر اترچکا تھا، انکا ایک قبیلے کا نام تھا جو بحر الکاہل کے کنارے پر آبادتھا،یہ لوگ 11ویں صدی عیسوی میں جنوب مشرق کی طرف سے پیرو میں داخل ہوئے، یہ سورج کی پرستش کرتے اور اپنے مْردوں کی لاشوں کومصالحہ لگا کر دفن کرتے تھے۔ 1200میں ان جنگجوؤں نے جنوبی پیرو میں ایک طاقتور بادشاہت کی بنیاد رکھی، 1438ء میں انکا سلطنت وجود میں آئی، ابتداء میں پیرو، بولیویا اور ایکویڈور اس کا حصہ تھے، 16ویں صدی کے آغاز پر انکاسلطنت مشرقی بحر الکاہل سے پیراگوئے اور دریائے ایمیزون تک پھیل چکی تھی۔ یہ لوگ فن تعمیر، انجینئرنگ اور کپڑاسازی میں ماہر تھے اور اپنے شہنشاہ کو خد اکی طرح مقدّس مانتے تھے۔ان کے پاس سونے چاندی کے وسیع ذخائر تھے۔یہ تہذیب و تمدن اور علم و فن میں اس وقت کی تمام امریکی اقوام سے بہت آگے تھے، انھوں نے اپنا مخصوص نظام سیاست و معیشت وضع کیا تھا جس کے مطابق بادشاہ ملک کا حکمران ہونے کے علاوہ رعایا کا دینی پیشوا بھی ہوتا تھا، تمام ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں تھے اور ریاست عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی پابند تھی۔ انکا سلطنت نے زراعت کو ترقی دی۔ سڑکیں، پل اور آبی ذخائر تعمیر کیے،کوزہ گری، دھات سازی اور پارچہ بافی میں انھیں کمال حاصل تھا۔ دولت کی لالچ نے یورپی اقوام کو انکا کی طرف کھینچا، 1527ء میں ہسپانوی مہم جو پزا رو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ پیرو کے شمالی ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ پزارو نے کوریٹس کی حکمت علمی اپنائی اور خود کو اسپین کے بادشاہ کا ایلچی ظاہر کیا ، اس نے انکا سلطنت کے حاکم اٹا ہوالپا کو ملاقات کی دعوت دی اور اسے اغوا کر لیا ، مقامی باشندوں کو دھوکے سے اپنے ساتھ ملایا اور انکا سلطنت کو تباہ و برباد کر دیا ۔ 1535ء میں پزا رو نے دریائے رماک کے کنارے ایک شہر کی بنیاد رکھی جسے ’’بادشاہوں کا شہر ‘‘کا نام دیا گیا۔ یہی شہر بعد میں لیما کہلایا جو جنوبی امریکہ میں ہسپانوی حکومت کامرکز بنا۔

یہ سب کچھ پندرھویں اور سولہویں صدی میں اس وقت ہو رہا تھا جب ہندوستان میں مغلیہ سلطنت ، ترکی کی عثمانیہ سلطنت اور چین کی عظیم سلطنتیں اپنے عروج پر تھیں مگر اس کے باوجود انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اپنی سلطنتوں اور ایشیا سے باہر نکل کر سوچیںا ور نئی دنیاؤں کو دریافت کریں ۔ کولمبس کے امریکہ پہنچنے کا واقعہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا اور اس وقت کی عظیم سلطنتوں کو اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ یورپ نے کوئی نئی دنیا دریافت کی ہے مگر اس کے باجود انہوں نے ان دریافتوںا ور ایجادات میں کوئی دلچسپی نہیں لی ، یورپ کے چھوٹے ملک اسکاٹ لینڈ اور ڈنمارک تک نے بحری مہمات روانہ کیں مگر چین ، ہندوستان اور اسلامی دنیا سے کو ئی مہم روانہ نہ ہو سکی۔ ایک چینی مہم جو ژینگ ہی 1420میں مشرقی افریقہ پہنچا مگر ٹھیک ایک صدی بعد چینی سلطنت امریکہ کے لیے کوئی مہم روانہ نہ کر سکی ۔ اکیلے یورپ نے تقریبا تین سو سال امریکہ ، آسٹریلیا، بحر الکاہل ، بحر اوقیانوس اور ہندوستان پربلا شرکت غیرے حکومت کی ۔ بیسویں صدی میں جب غیر یورپی اقوام بیدار ہوئیں تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ یورپ آج اگر یورپ ہے تو اس کے پیچھے پرکھوں کی محنت اور صدیوں کا فاصلہ ہے ، کیا کوئی ہے جو اس ملک کی ایسی منصوبہ سازی کر ے کہ یہ ملک تیس چالیس سال بعد ہی سہی مگر اپنے پیروں پر کھڑا ایک خود مختار اور مہذب ملک بن سکے ۔


ای پیپر