خان صاحب اپنے گریبان میں جھانکیں
29 دسمبر 2019 2019-12-29

خان صاحب ملک کے تمام ادارے اس وقت آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عدلیہ، فوج اور نیب کی حمایت آپکے ساتھ ہے۔ ن لیگ ڈیل کے تحت آپ کے لیے بے ضرر ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کی تھوک کے حساب سے جو ضمانتیں ہوئی ہیں اس کے بعد اپوزیشن کی حقیقی روح پرواز کر چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے اپوزیشن بنچوں پر جو بیٹھے ہیں وہ صرف پتلے رہ گئے ہیں۔ ہر طرف سے اشارے پر گرین سگنل ہے۔ حکومت کی گاڑی کو جس سمت میں اور جس رفتار سے لے جانا چاہیں آپ کو کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ ان حالات میں بھی اگر آپ پاکستان کو ٹیک آف نہیں کروا سکتے تو حکومت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

بڑے برج الٹانے کے بعد عمران خان اب میڈیا کی طرف لپک رہے ہیں۔ اس وقت آدھے سے زیادہ میڈیا حکومت کی ثنا گوئی میں مصروف ہے۔ پھر بھی یہ شکوہ کہ میڈیا ہمیں کام کرنے نہیں دے رہا، سمجھ سے بالاتر ہے۔جو تھوڑی بہت تنقید آپ پر ہورہی ہے اس میں بھی جان نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ صرف چشم تصور میں لائیں کہ جو بلنڈرز آپ نے کیے ہیں اگر ن لیگ نے کیے ہوتے اور آپ اپوزیشن میں ہوتے تو کیا ہوتا۔ یقینا میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا اور پاکستان کا تمام میڈیا آپ کے بیانات چلا رہا ہوتا۔

خا ن صاحب نے فرمایا ہے کہ میڈیا میں مافیاز کا راج ہے جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ خان صاحب جب آپ اپوزیشن میں تھے تو یہ میڈیا آپ کو نجات دہندہ دکھائی دیتا تھا۔ جن میڈیا اینکرز اور کالم نگاروں کو آپ مافیا کہہ رہے ہیں وہ ڈیڑھ سال قبل آپ کے ہیرو تھے۔ خان صاحب آپ کو میڈیا پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی۔ آپ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور فیصلہ کریں کہ غلطی کہاں ہے۔ اگر آپ کی ملاقات اپنے ہی دوستوں سے ہو جائے تو سمجھ لیجیے گا کہ آپ صحیح جگہ پہنچ گئے ہیں۔ اگر پھر بھی میڈیا برا دکھائی دے تو سمجھ لیجیے گا کہ آپ میں اور پچھلے حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ انھیں بھی اپوزیشن کے دنوں میں میڈیا دوست اور حکومت کے دنوں میں میڈیا دشمن دکھائی دیتا تھا۔ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے۔ وہ آپ کی کمی اور کوتاہیوں پر تنقید کرتا رہے گا۔ آپ کا کام اپنی اصلاح کرنا ہے۔ جتنی جلدی آپ اس حقیقت کو پہچان لیں گے آپ کو حکومت کرنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔

آئیے رانا ثنااللہ کے کیس کی مثال لے لیتے ہیں۔ آپ خود ہی بتائیں کہ رانا ثنااللہ کی رہائی میڈیا کی وجہ سے ہوئی ہے یا یہ آپ کی نالائقیوں کا ثمر ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ شہریار آفریدی کو اسمبلی اور ہر چینل پر جا کر کلمہ پڑھنے اور یہ اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ میرے پاس سب ثبوت موجود ہیں اور میں نے جان اللہ کو دینی ہے۔ شہریار صاحب اگر یہ بات عوام کو نہ بھی بتاتے تو عوام بخوبی جانتی تھی کہ جان تو اللہ کو ہی دینی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ آپ کے وزرا غیر ضروری نعرے لگائیں اور غیر حقیقی دعوے کریں تو کچھ غلط نہیں اور میڈیا اگر ان سے پوچھ لے کہ آپ نے کس بنیاد پر یہ دعوے کیے تھے تو وہ مافیا بن جاتا ہے۔

آپ ہی بتائیں کہ پندرہ کلو ہیروئین کا دعوی کیا گیا۔ لیکن عدالت کے بار ہا اصرار پر صرف بیس گرام ہیروئین پیش کی گئی۔ جن فوٹیجز اور ویڈیوز کی بات شہریار آفریدی صاحب کرتے تھے وہ صرف ٹول پلازے کی ہے۔ جہاں سے لاکھوں گاڑیاں روز گزرتی ہیں اور ان کی ویڈیو بن جاتی ہے۔ اگر صرف ان فوٹیجز اور ویڈیوز کی بنا پر آپ نے رانا ثنااللہ کو گرفتار کیا تھا تو آپ پر تنقید نہ کی جائے تو کیا کیا جائے۔ آپ کو پھولوں کے ہار پہنائے جائیں۔ آپ کی نظر اتاری جائے یا آپ کو تمغہ جرات دے دیا جائے خان صاحب آپ ہی بتا دیں کہ کیا کیا جائے۔

خان صاحب آپ اپوزیشن کے لوگوں پر الزامات لگاتے ہیں۔انھیں گرفتار کرتے ہیں۔ لیکن جب آپ عدالت جاتے ہیں تو کوئی ثبوت پیش نہیں کر پاتے۔آپ کی پراسیکیوشن اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ جج آپ کے نمائندوں کو عدالت کا وقت ضائع کرنے اور عدالتوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

رانا ثنااللہ کی ایف آئی آر بھی مضحکہ خیز تھی۔ جس میں لکھا گیا کہ رانا ثنااللہ نے ایک بیگ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس میں ہیروئین موجود ہے۔ جب یہ ایف آئی آر منظر عام پر آئی تو میڈیا سمیت ہر سطح پر اس کا مذاق بنایا گیا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ ایف آئی آر جھوٹی ہے۔ جب حکومتی نمائندوں سے اس بارے استفسار کیا گیا تو جواب ملا کہ میں نے جان اللہ کو دینی ہے۔

اب آپ رانا ثنااللہ کی رہائی کے بعد کی کہانی بھی ملاحظہ کیجیے۔ وفاقی مشیر اطلاعات و نشریات جناب فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے فیصلے کے بعد میڈیا ہر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہیروئن کا کاروبار کرنے والے مافیا کے پاس پیسوں کی کمی نہیں ہے۔ اس گفتگو کے دو ہی نتیجے نکلتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہیروئین بیچنے والا مافیا اتنا مضبوط ہے کہ اس نے حکومتی اہلکاروں اور وزیر کو خرید کر ان کے پاس موجود تمام ثبوت ختم کر دیے۔ جس کے باعث حکومت نے پروسیکیوشن کو زیادہ بحث نہ کرنے اور ثبوت عدالت میں پیش نہ کرنے کے لیے کہا۔ جو رانا ثنااللہ کی ضمانت کا باعث بنا۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہیروئین مافیا اتنا مضبوط اور پیسے والا ہے کہ انھوں نے ججوں کو خرید لیا ہے۔ حکومت نے تمام ثبوت پیش کیے تھے لیکن عدلیہ نے انھیں نظر انداز کر کے رانا ثنااللہ کو ضمانت دے دی۔ اگر ہم پہلے نتیجے کو درست مان لیں تو آپ کے وزرا پر کرپشن اور ڈرگ مافیا کے ساتھ روابط کا الزام لگتا ہے اور اگر دوسرا نتیجہ درست مان لیں تو یہ عدالت کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ خان صاحب فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے بیان سے ان دو نتائج کے علاوہ کوئی اور نتیجہ اخذ ہوتا ہے تو آپ بتا دیں۔ ہم اس نتیجے پر ایمان لے آئیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ بھی کوئی نتیجہ نکال نہیں سکیں گے۔

شہریار آفریدی صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ ضمانتوں کا موسم ہے۔ اس لیے رانا ثنااللہ کی ضمانت ہو گئی ہے۔ اس بیان سے کیا مطلب نکالا جائے۔ کیا شہریار صاحب یہ فرمانا چاہ رہے ہیں کہ عدالت نے رانا ثنااللہ کی ضمانت میرٹ پر نہیں دی۔ عدالت نے سوچا کہ سب کی ضمانتیں ہو رہی ہیں لہٰذا رانا صاحب کو بھی ضمانت دے دی جائے۔ یا شہریار صاحب یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ عدالت نے کسی ڈیل کے تحت رانا صاحب کو ضمانت دے دی ہے۔ خان صاحب میڈیا آپ کی رائے جاننا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ اس نتیجے پر پہنچ سکے کہ اس نے آپ پر تنقید کرنی ہے یا عدالتوں پر سوالیہ نشان اٹھانا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرما دیں۔


ای پیپر