کوئی اور نہیںہم خود اپنے دشمن ہیں؟
29 دسمبر 2019 2019-12-29

مان بھی لیا جائے کہ امریکہ، بھارت،اسرائیل اسلام دشمنوں میں سرفہرست ہیں توپھر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمان ممالک میں غداروں کی کمی ہے جب تک ڈالروں کے لالچ میں امریکہ کی ہاں میں ہاں نہ ملائی جائے تب تک کسی مسلمان ملک کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی،پاکستان اور اسلام دشمنوں کے پاس سلمانی ٹوپی تو نہیں جو کسی دوسرے ملک میں جا کرکارروائی کرکے واپس آ جائیں؟ہم تو خود ان کیلئے راستے ہموار کرتے ہیں،عرب ممالک کو ہی لے لیں 21 اگست 1969ء کو مسجد اقصی پر یہودی حملے کے ردعمل کے طور پر 25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی کا قیام عمل میں آیا جس کا دوسرا اجلاس 22 تا 24 فروری 1974ء کولاہورمیں ہوا تھا جس کا مقصد مسلمان ممالک کے آپسی مسائل حل کرنا تھا مگرافسوس 50سال بعد بھی اوآئی سی کے قیام کے مقاصد حاصل نہ کیے جا سکے،عرب ممالک اپنے مسائل حل نہیں کرسکے اور ٹکڑوں میں بٹے ہیں دیگر ممالک کے مسائل کیا حل کریں گے؟

تنظیم میں مشرق وسطی، شمالی، مغربی اورجنوبی افریقا، وسط ایشیا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر اور جنوبی امریکا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں، او آئی سی دنیا بھر کے 1.2 ارب سے زائد مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ اس تنظیم نے اپنے پلیٹ فارم سے اپنے قیام سے لے کر آج تک مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور مسائل کے حل کے سلسلے میں سوائے اجلاسوں کے کچھ نہیں کیا حالیہ کوالالمپور سمٹ سے ہی اندازہ لگالیں عربوں کو ناگوار گزرااور انہوں نے اس کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے اپنے دم چھلے ممالک کو بھی شرکت سے روک دیاجس میں پاکستان بھی شامل ہے ،ترک صدر رجب طیب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمدکی مثالیں دیتے نہ تھکنے والے وزیراعظم عمران خان نے آخری لمحات میں کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے معذرت کرلی تھی ،جس کے جواب میں ترک صدر نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کی صورت میں سٹیٹ بینک میں رکھی ہوئی رقم کو واپس نکال لیا جائے گا۔

ترک اخبار کی رپورٹ کے مطابق اردوان کا کہنا تھا کہ 'یہ کسی بھی ملک کے لیے پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مخصوص معاملات پر دباؤ ڈالا ہو، ترک صدر اردوان نے دعویٰ کیا کہ سعودی حکومت نے دھمکی دی تھی کہ سمٹ میں شرکت کی صورت میں پاکستان کے مرکزی بینک سے رقوم نکال لیں گے یہی نہیں40 لاکھ پاکستانی ورکرز کو واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی جگہ بنگلہ دیش کے شہریوں کو ویزے دیے جائیں گے ۔سعودی دھمکی کے بعد پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور سعودی عرب کی خواہشات پر لبیک کہہ ڈالا ، ملائیشیا کے پڑوسی ملک انڈونیشیا نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی جس سے دنیا کو کوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس کا مقصد مسلمان ممالک کو نیند سے بیدار کرنا تھا جو خصوصا سعودی عرب کو ناگوار گزرا اور اس نے کھل کرمخالفت بھی کی اور اپنے کالونی ملکوں کو بھی شرکت سے روک دیا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان ممالک کتنے متحد ہیں اور او آئی سی کا کردارکیا ہے اب سعودی حکومت پر بات کر لی جائے تویہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ شروع سے ہی سعودیہ کو چودھری بننے کا شوق ہے اس کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتاہے جو اس کے اپنے مفاد میں ہوچاہے کسی دوسرے ملک کا تیاپانچا ہو جائے جیسے یمن میں کیا گیا،پرائی آگ میں پڑ کر سعودیہ نے اپنے ملک میں بھی انتشار کی فضا پیدا کی اور ہمسائے سے تعلقات بھی بگاڑ لئے جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہا ہے دوسری طرف سعودیہ نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی منطق گڑھتے ہوئے کہا تھا کہ پونے 2 ارب مسلمانوں کے اہم مسائل پر گفتگو کے لیے یہ سمٹ غلط فورم ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ ایران، ترکی اور قطر جیسے علاقائی حریف اس کو مسلم دنیا میں تنہا کر دیں گے،لیکن اصل بات یہ ہے کہ سعودیہ نہیں چاہتا کہ برائے نام اوآئی سی کی بھاگ دوڑاس کے ہاتھ سے نہ جائے اسی وجہ سے وہ کوالالمپور کانفرنس کو غیر ضروری قرار دے رہا ہے۔

کوالالمپور میں سمٹ میں میزبان ملائیشیا کے علاوہ ترکی، ایران اور قطر سمیت دیگر مسلم ممالک شریک تھے نے مسلم ممالک کو آپس میں دوسرے کی کرنسی میں تجارت کرنے اور غیر مسلم ممالک پر انحصار ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصد مسلمان ممالک کوغیر مسلم ممالک کے چنگل سے آزاد کروانا ہے اگرمسلمان آپس کے اختلافات ختم کرلیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کرسکتی ویسے بھی دنیا بھر کے مسلمان مظلوم ہیں اور دہشتگرد بھی انہیں ہی کہا جاتا ہے اور یہ صرف چند مفاد پر ست مسلمان ممالک کی وجہ سے ہے جواپنا الو سیدھا کرتے ہیں سوال تو یہ ہے کہ فلسطین، بوسینیا، چیچنیا، کشمیر، شام، برما،عراق،ایران اور افغانستان میں کن قوتوں نے خون کی ہولی کھیلی اور اب تک کھیلی جا رہی ہے مجال ہے کہ او آئی سی نے سوائے مذمت کے کبھی کوئی کارروائی کی ہو،اس لئے اگرترکی،ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کا ضمیرجاگ رہا ہے اور مسلمانوں کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں توسعودیہ کو کیا تکلیف ہے، ویسے بھی سعودیہ جس راستے پر چل نکلا ہے وہ راستہ تباہی کا ہے،کوالالمپور سمٹ کے بارے میں ہمیں ضروراپنے اور پرائے کی تعمیز کرنی ہوگی ورنہ یہ بات سچ ثابت ہو جائے گی کہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہم خود اپنے دشمن ہیں؟؟؟


ای پیپر