’’ من موجی اور PICوالا دنگل...؟ ‘‘
29 دسمبر 2019 2019-12-29

ایک لطیفہ دوبارہ سننے پر یا تو ہنسی بالکل نہیں آتی یا منہ ایسا بنتا ہے جیسے کسی گھٹیا کمپنی کا بنا ہوا کھانسی کا شربت پیا ہو میں چونکہ تاریخ اور سیاسیات کا طالب علم ہو ں لہذا مجھے مغلوں کے کارنامے یا آپ کہہ سکتے ہیں حرکات و سکنات کئی کئی بار پڑھنے اور لکھنے پڑے ... شروع شروع میں مجھے اُن بادشاہوں کی نیچ حرکات پر غصہ آتا تھا لیکن بعد میں یوں لگتا تھا جیسے یہ سب معمول کی باتیں ہیں ۔لوگ ہٹلر سے نفرت کرتے ہیں مجھے ہٹلر اپنی کچھ باتوں کی وجہ سے خاص طور پر می زیاد کے عشق اور ایک ہی عشق کی وجہ سے پسند تھا ... دوسرا آپ کہہ سکتے ہیں اکبر بادشاہ بھی مجھے ہیرو جیسا لگتا ہے اُس کی وجہ بھی اس کی اُلٹی سیدھی حرکتیں ہی ہیں ... اور اِس پسندیدگی کی وجہ اُس کے عشق اور لاتعداد عشق تھے شادیوں کی تو میں بات ہی نہیں کر رہا ...؟؟

پچھلے دنوں ہمارے ایک سینئر دوست محکمہ پولیس سے اعلی عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں انہوں نے جب وہ سی ایس ایس کی تیاری کر رہے تھے اور ہم فسٹ ایئر کے سٹوڈنٹ تھے ہمیں اپنے پاس بلایا اور حیرت سے بولے ... ( کچھ لوگوں کو جب وہ حیرت زدہ یاپریشان ہوں کسی دوسرے سے اپنی بات شیئر کر کے بڑا مزہ آتا ہے)

’’ یہ دیکھ تمہارا مغل حکمران کیا کرتا رہا ہے . .. اُس نے ایک پُول بنایا اور اُس کے پاس بیٹھ کر خوش ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا

’’پیئیں گے بھی اور نہائیں گے بھی‘‘

’’پیئیں گے بھی اور نہائیں گے بھی‘‘

مجھے نہ اُس وقت سمجھ آئی نہ آج ہی میں سمجھ پایا ہوں کہ وہ مغل حکمران کہنا کیا چاہتا تھا ... میں نے کالج کے زمانے میں تزک بابری اور تزک جہانگیری بار بار پڑھی ہیں ... آپ یقین کریں فلمی رسالہ ’’ شمع‘‘ اور انگریزی میگزین ’’ پلے بوائے ‘‘ اور تزک بابری اور تزک جہانگیری میں زیادہ تر ایک سے موضوعات ہی زیر بحث تھے ... میری یہ باتیں اگر آپ کے سر کے اوپر سے گزر جائیں تو بُرا مت منائیے گا بلکہ گوگل سے رابطہ کیجئے گا شاید آپ کو ان سے ملتی جلتی اور بھی بہت سی چیزیں مل جائیں ... جن کے ساتھ آپ کی مدد کے لیئے یا تفنن طبع کے لئیے بہت سی تصویریں اور ویڈیو بھی دکھائی دیں ... اگر اُن میں 2013 سے اب تک کے کچھ Clips یا تصویری ٹوٹے بھی نظر آجائیں تو آپ جانیں مغل جانیں یا پھر یہ آپ کا اور گوگل کا معاملہ ہو گا .... ’’ میرا ذمہ اوش پوش ‘‘ آج کا نو عمر لڑکا اور ہمارے دور کا چالیس سالہ مرد اِک برابر ہیں۔

میں تو چاہتا ہوں تاریخ پر ہر پڑھے لکھے انسان کی نظر ہونی چاہیے کیونکہ سنتے آئے ہیں کہ تاریخ انسانوں کو سبق سکھاتی ہے .... نیا راستہ دکھاتی ہے .. یہ پڑھنے والے پر منحصرہوتا ہے کہ وہ ’’ الف انار بے بکری کی جگہ الف سے کوئی اور لفظ بنا لے اور بکری بکری کرتا پھرے ویسے ہمارے بچپن میںبکری اس کو کہتے تھے جو میدان چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی با ت کو مزید اچھی طرح سمجھنے کے لیئے یوں کہہ لیں کہ اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے میں موجود بڑے لوگوں پر نظر ڈالیں ان کی حرکات و سکنات پر غور کریں تو اُن میں اکثر ہمیں بکریاں ہی نظر آتے ہیںمیں یہاں بکرے بھی لکھ سکتا تھا لیکن پھر آپ کو سمجھانا مشکل ہو جاتا آپ آنکھیں بند کر کے غور کریںجس کو آپ بکری بنانا چاہتے ہیں اُس کو بکری بنا دیںاور جس کی حرکتیں آپ کو بکرے کی سی لگتی ہیں اُسے بکرا سمجھ لیں اور زندگی کو اپنی مرضی سے انجوائے کریں.... لگتا ہے مجھے سردی لگ گئی ہے جبھی تو میں بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں ... لگتا ہے آپ کو بھی سردی نے گھیر لیا ہے جبھی تو آپ میری یہ سب باتیں پڑھ رہے ہیں ...

’’بکرے بکریوں اور بھیڑوں سے معذرت کے ساتھ ‘‘

اصل میں کچھ دن پہلے میں نے ایک کالم نئی بات میں لکھا جس میں میں نے ڈاکٹر انجینئر اور دوسرے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی ساری توجہ STEM یعنی سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ یا میتھ پر ہی مرکوز رکھیں اس کے ساتھ ساتھ تاریخ اور سوشیالوجی پر بھی توجہ دیں کیونکہ اناٹونی پڑھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا تز ک بابری ...کیونکہ میں یہ کہنے سے تو قاصر ہوں کہ ہر ڈاکٹر کو ڈاکٹری کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت وکالت بھی آنی چاہئے ... لیکن کہہ نہیں سکتا کہ ’’ اتھرے‘‘ ڈاکٹرز سے ڈر آتا ہے وہ مجھے وکیلوں کا وکیل سمجھ کر مجھے وکالت سکھانا نہ شروع کر دیں اور پھر میں تھوڑی بہت وکالت سیکھ کر PIC جائوں تو آگے سے ڈاکٹروں نے 15 کو کال کیا ہو ..عجب منظر دیکھا ہے اِس قوم نے ڈاکٹرڈاکٹر نہ رہا وکیل وکیل نہ رہا ...

ہم نے جب ہم جمعرات کو داتا دربار سلام کرنے جاتے ہیں تو لاہور کہ بے روزگار مزدوروں کو ایک پلیٹ بریانی کے لیے دھکم پیل کرتے اور ایک دوسرے کی ماں بہن کرتے نہیں دیکھا جس قدر Swear مناظر ہم نے وکیلوں کا لائو لشکر کے ساتھ PIC جاتے اور وہاں پر ڈاکٹروں کا آپے سے باہر ہونا دیکھا بڑی خوشی ہوئی کہ یہ دونوں تعلیم یافتہ حلقے کس قدر ’’ مہذب‘‘ اور ’’ معتبر‘‘ ہیں...

ہڑتالیں ... پُلس اور شور... سب کچھ تھوڑے عرصے کے لیئے ختم تربیت کا عمل جاری ہے ..پُلس بڑے بڑے اتھرے نوجوانوں کی تربیت کرتی ہے اور بڑے بڑے ’’ ہتھ چھُٹ‘‘ بھی تھانے کا دورہ کرنے کے بعد سُدھر جاتے ہیں... سردیوں میں اتنی گرمی ... آپ نے پہلے نہیں دیکھی ہو گی ۔

ہم اب ہسپتال جانے کا نام لیں تو بچے سہم جاتے ہیں ... اِک رکشہ ڈرائیور کے رکشے میں میں نے سفر کیا تو وہ اپنا قصہ سنا رہا تھا ... وہ ڈرتے ڈرتے بولا ’’ بائوجی... کل رکشے میں ایک ہٹا کٹا بلا پوچھے بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی بولا ...‘‘ چل بھئی PIC ...!! میں سارا رستہ سہم سہم رہا ... جب PIC پہنچے تو اُس نے پوچھا ... کتنے پیسے..؟؟میں نے کہا دوسو روپے ... اُس نے غصے سے دیکھا اور بولا .. میں ڈاکٹر ہو ں....ڈاکٹر صاحب آپ رہنے دیں آپ کا ’’اپنا رکشہ ہے ‘‘ زیادہ بکواس نہ کر پکڑ سو روپے اور چل بھاگ یہاں سے ... ڈاکٹر نے رکشے کو ٹھڈا مارتے ہوئے کہا ...


ای پیپر