” نیب کے اختیارات میں کمی پر دس سوال“
29 دسمبر 2019 2019-12-29

جناب عمران خان نے کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے نیب کے شکنجے میں جکڑے ہوئے دوستوں کو خوشخبری سنائی کہ انہیں نیب کی دسترس سے ’محفوظ ‘کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی جناب عارف علوی نے صدر مملکت کے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے نیب اختیارات میں کمی کا آرڈی ننس جاری کر دیا۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ نیب میں اصلاحات کا عمل ماضی کی دونوں جمہوری حکومتو ں کو کرنا چاہئے تھا اور موجودہ دور میں بھی اس اہم ترین موضوع پر قانون سازی کے لئے آر ڈی ننس کا سہارا نہیں لیا جانا چاہئے تھا کہ آر ڈی ننس کا کوئی واضح مستقبل نہیں ہوتا، یہ قانون سازی محض فوری ضروریات کے لئے ہے اور سوال یہ ہے کہ چیئرمین نیب کے اس بیان کے بعد کہ ’ ہواو¿ں کا رخ بدلنے والا ہے‘ کون سی فوری ضرورت پوری کرنا چاہتی ہے۔ جناب عمران خان کے کراچی میں اختیار کئے گئے موقف اور آر ڈی ننس کی اب تک سامنے آنے والی تفصیلات نے بہت سارے سوالات پیدا کر دئیے ہیں ، سیاسی اور قانونی حلقوں میں نیب قوانین میں’ بہتری‘ کے عمل کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا نیب اختیارات میں کمی کے حوالے سے یہ ایک مناسب وقت ہے جب اس ادارے کوسابقہ جمہوری حکومتوں اور موجودہ اپوزیشن جماعتوںکے خلاف بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا چکا ہے، سابق صدر اور سابق وزرائے اعظم کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی رہنماو¿ں کو بھرپور رگڑا لگایا جا چکا ہے اور اب بھی لگایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے خیبرپختونخوا میں چھ اور وفاق میں ایک برس مکمل ہونے کے بعد تمام ترقیاتی منصوبے نااہلی اور بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہیں، چاہے وہ بلین ٹری منصوبہ ہو، پشاور کی میٹرو ہو یا کرتار پور راہداری کی فوری تکمیل۔ سوال کیا جا رہاہے کہ کیا آر ڈی ننس کے ذریعے یہ قانون سازی محض اپنے آپ کو تحفظ دینے کے مترادف نہیں ہے۔ دوسرا سوال وقت کے بعد بیانئے کا ہے جس میں حکومت نے بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کا دعویٰ کیا ہے مگر انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکرٹری نعیم میر کا سوال سامنے آچکا کہ کاروباری برادری میں سے کس نے اور کب ایسا مطالبہ کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیب سے حکومت کے کچھ’ فنانسر‘ پریشان ہیں جو آنے والے دنوں میں گرفت میں آسکتے ہیں مگر کاروباری برادری کو عمومی طور پرنیب کی بجائے ایف بی آر سے شکایات ہیں جس کے طریق کار کو کرپشن سے پاک اور آسان بنانے کے لئے ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔

میں نیب کے اختیارات اور کارکردگی کا ناقد ہوں مگر اس کے باوجود تسلیم کرتا ہوں کہ نیب نے ہاو¿سنگ سیکٹر میں فراڈ کی روک تھام اور متاثرین کو ان کی رقوم کی واپسی میں کردارادا کیا ہے۔ کیا اب یہ سمجھ لیا جائے کہ ہاو¿سنگ سیکٹر کے فراڈئیے بھی کاروباری افراد کے پہناوے میں بچ نکلیں گے یا اگر وہ انچاس کروڑ ننانوے لاکھ روپے تک کا فراڈ کریں گے تو انہیں پوچھنے کے لئے محض روایتی کریمنل جسٹس سسٹم ہو گا یا وہ ایف آئی اے ہو گا جس کے پاس پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن، ٹیکس چھوٹ اور منی لانڈرنگ پر اختیارات تو موجود ہیں مگر وہ آج تک اس کی روک تھام نہیں کر پایا۔چوتھا سوال نئے طریق کار کے بارے میں ہے جس میں ثبوتوں کا بوجھ مشتبہ شخص کے بجائے پروسیکیوشن پر ڈال دیا گیا ہے جو دنیا بھر میں وائیٹ کالر کرائم کے لئے ایک تسلیم شدہ طریق کار ہے مگر کیا یہ ضروری نہیں کہ اس میں توازن پیدا کیا جاتا۔ خیال یہی ہے کہ تمام تر بوجھ پروسیکیوشن پر پڑنے کے بعد جرائم کا ثابت ہونا ناممکن ہوجائے گا کیونکہ اب تک نیب جیسے بھاری بجٹ والے ادارے نے انویسٹی گیشن میں کسی وسائل سے محروم تھانے کے اے ایس آئی جیسی اور جتنی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ نہیں کیا یوں عملی طور پر اس کے بعد نیب ختم ہوکر رہ جائے گا۔

پانچواں سوال نیب کورٹس کے حوالے سے ہے۔ مجھے بصد احترام کہنے دیجئے کہ نیب کورٹس کے ججوں نے اب تک محض نیب کے کلرک کے طور پر کام کیا ہے۔ خاص طو ر پرنواز شریف کو سزا دینے والے جج ارشد ملک نے توقانون اور انصاف کے نام کی لٹیا ہی ڈبو کے رکھ دی ہے۔میرا خیال ہے کہ ان عدالتوں میں سماعت اور فیصلوں کے معیارکو بہتر بنانے پر کام کرنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ چھٹا سوال بھی ایک درست مطالبے کے پورے ہونے پر ہے کہ جب ایک انکوائری مکمل ہوجائے یا بند ہوجائے تو پھر اسے نہ کھولا جائے کیونکہ نیب نے ٹارگٹ کئے گئے لوگوں پر انکوائریاں بیس ، بیس سال تک لٹکائے رکھی ہیں اور اس سلسلے میں جاتی امرا کو جانے والی ایک چھوٹی سی سڑک کی انکوائری کا معاملہ مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے مگر کیا نیب کے اختیارات کم کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر توازن کو نہیں بگاڑا گیا اور کیا اس امر کو نظراندازنہیں کیا گیا کہ اگر کوئی نیا ثبوت یا نیا گواہ دریافت ہوجائے تو کسی ( میرے خیال میں کم از کم ہائیکورٹ کی سطح کی) کسی عدالت کو مطمئن کر کے وہ انکوائری دوبارہ کھولی جا سکے۔

ساتواں سوال بہت اہم ہے کہ فوج اور عدلیہ کے بعد بیوروکریسی کو بھی تحفظ مل گیا مگر وہ ادارہ جو ایک آئینی اور جمہوری نظام میں ’ مدر آف آل انسٹی ٹیوشنز‘ کہلاتا ہے اس کے ارکان بالخصوص اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان کو کیا تحفظ دیا گیا ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ سیاستدانوں پر الزامات اور مقدمات بارے بھی متعلقہ اسمبلیوں کے سپیکرزاور اپوزیشن لیڈرز میں ایک کمیٹی بنائی جاتی جو اسی طرح کے اختیارات رکھتی جیسے اختیارات فوج، عدلیہ اور اب بیوروکریسی کی کمیٹیوں کے پاس ہیں۔ ہمیں یہ گُمان نہیں رکھنا چاہئے کہ پارلیمنٹ میںتمام لوگ چور اور بے ایمان ہیں جبکہ باقی اداروں کے بڑے فرشتوں کی امامت کرواتے ہیں۔آٹھواں سوال یہ ہے کہ کیا نیب کے اختیارات میں کمی مو¿ثر بہ ماضی ہو گی ، اگر ہاں تو جن لوگوں کو سزائیں ملیںان کا سٹیٹس کیا ہو گا اور اگر نہیں تو جن لوگوں کو نیب نے رگڑا دیا ان کا قصور کیا ہے، کیا وہ یہ سب قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں۔ نوواں سوال یہ ہے کہ وائیٹ کالر کرائم میں گرفتاری کے لئے ادار ے کے اختیارات پر اب بھی کوئی چیک نہیں لگایا گیا یعنی نیب کو ثابت کرنا چاہئے کہ فلاں شخص بلائے جانے پر حاضر نہیں ہور ہا یا آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوالوں کے جواب نہیں دے رہا اورثبوت مہیا نہیں کر رہا اور اس پر نیب کورٹ کسی آزاد عدلت سے گرفتاری کے احکامات کی توثیق کروائے، ہاں، اگر یہ شبہ ہو کہ ملزم ملک سے فرار ہو سکتا ہے تو اس کی درخواست الگ سے دے دی جائے۔

دسواں سوال ایک پچھلے سوال کے تسلسل میں ہے اور اب تک نیب پر لگنے والے سب سے بڑے الزام کے حوالے سے ہے کہ یہ اہم ترین ادارہ اپوزیشن کو کچلنے کے لئے حکومت کے ہاتھ کی چھڑی بنا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اٹکل پچو آر ڈی ننس جاری کرنے کے بجائے نیب ہی نہیں بلکہ اے این ایف، ایف آئی اے، اورپولیس سمیت دیگر سرکاری محکموں کے حکومتی اور سیاسی استعمال کو روکنے کے لئے جامع اور واضح حکمت عملی کیوں نہیںبنائی جاتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں تمام کرپٹ لوگوں کو سزا ملنی چاہئے مگر اس کے لئے ’پِک اینڈ چُوز‘ نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی تمام گرفتار شدگان کا تعلق صرف اپوزیشن سے ہونا چاہئے۔ میں نیب کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے حکومتی اقدام کو جتنا دیکھتا ہوں اسے ناکافی بھی سمجھتا ہوں اور یہ بعض حوالوں سے مشکوک بھی نظر آتا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ نیب کے ادارے کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کے بعد اب ڈسٹ بن میں پھینکا جا رہا ہے۔


ای پیپر