مودی کا ترمیمی بل اور بھارت کا اتحاد
29 دسمبر 2019 2019-12-29

جون 1991ء میں جب راجیوگاندھی کے قتل کے بعد وہاں عام انتخابات کا جائزہ لینے کے لئے بھارت گیا اور چونکہ یہ میرا اس ملک کا پہلا دورہ تھا لہٰذا جن مقامات پر جانے کا بہت زیادہ اشتیاق تھا ان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیّہ دہلی اور دارالعلوم دیوبند بھی شامل تھے…دیوبند تو نہ جا سکا بعد میں بھی بھارت کے دو دورے ہوئے لیکن دارالعلوم دیکھنے کا موقع نہ ملا تاہم جامعہ ملیّہ دہلی اور علی گڑھ یونیورسٹی جیسے مسلمان نوجوانوں کی تعلیم وتدریس کے اہم اور تاریخی ادارے دیکھنے نصیب ہوئے… جامعہ ملیّہ عین دارالحکومت کے اندر واقع ہے… میرا مقامی گائیڈ مجھے یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ کے پاس لے گیا… بڑی خوشگوار طبیعت کے مالک تھے… دوران گفتگو میںنے ان سے کہا ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں… اگر آپ کو میری بات اچھی لگے اور اس پر عمل ہوجائے تو شکرگزار ہوں گا… معاملہ قدرے نازک ہے اور میں اجنبی ہوں… اگر میری بات ناگوار خاطر ہو تو خاموشی اختیار کر لیجیے گا میں اصرار نہیں کروںگا… انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا بتایئے آپ کیا چاہتے ہیں… میں نے جواب دیا میں آپ کی یونیورسٹی کی ایسی طالبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں یقین ہو اس کا خاندان کم از کم سات پشتوں سے دہلی کا رہنے والا ہے اور مناسب ہو تو یہ ملاقات ہم دونوں کے درمیان ہو کوئی تیسری شخصیت بیچ میں موجود نہ ہو… انہوں نے قدرے تعجب کے ساتھ پوچھا آپ کس مقصد کی خاطر اس ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں… میںنے کہا کہ میں نے ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں اصغری اور اکبری کے کرداروں کا احوال پڑھ رکھا ہے تو میں جاننا چاہتا ہوں کہ آج کی اصغری یا اکبری کس ماحول اور کیسے حالات میں زندگی بسر کر رہی ہے… اگر آپ ملوا دیں تو نہایت درجہ ممنون ہوں گا… وہ اپنی نشست سے اٹھے اور دفتر سے باہر چلے گئے… تھوڑی دیر بعد اپنے ہمراہ ایک لڑکی کو لائے جو اس وقت جامعہ ملیّہ میں ایم اے اردو کی طالبہ تھی اور جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا اس کا خاندان شاہجہاں کے دور سے دہلی کا رہنے والا ہے… یہ بخوشی آپ کے سوالات کا جواب دے گی… یہ کہہ کر ڈاکٹر صاحب کمرے سے باہر چلے گئے… طالبہ کا تعلق دہلی کے حکیموں کے ایک خاندان سے تھا… میں نے اس سے دہلی کے مسلمانوں کی گھریلو زندگی کے بارے میں مختلف باتیں پوچھیں… ایک سوال یہ تھا میں نے سنا ہے بھارت کی کئی ایک مسلمان لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کر لیتی ہیں… اگر یہ درست ہے تو تمہارے نزدیک اس کا سبب کیا ہے اور ان لڑکیوں کے والدین اور خاندان کے لوگ کیسے گوارا کر لیتے ہیں… اس نے کہا یہ بات درست ہے کہ کچھ مسلمان لڑکیاں جوان ہوکر ہندو شوہر ڈھونڈ لیتی ہیں… یہ اس ماحول کی مجبوری ہے… میں نے کہا کون سی ایسی مجبوری لاحق ہوتی ہے جو انہیں غیرمسلمانوں کے ساتھ بیاہ رچانے اور زندگی گزارنے پر آمادہ کرتی ہے… جامعہ ملیّہ کی طالبہ نے جواب دیا… سب سے بڑی وجہ اکثریت کا سماجی اور معاشی جبر ہے… ہمارے سماج کی طنابیں ہندو اکثریت کے ہاتھوں میں ہیں اور معاشی طو رپر انہیں فوقیت حاصل ہے… مسلمانوں کے مقابلے میں عمومی طور پر ہندو گھرانے میں خوشحالی زیادہ ہوتی ہے اس لئے لڑکیوںکے دلوںمیں وہاں شادی کا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور کچھ کے ماں باپ بھی آمادہ ہو جاتے ہیں…

میں نے پوچھا کہ کیا یہی بڑی وجہ ہے مسلمان لڑکیوں کی ہندوئوں کے ساتھ شادی کرنے کی… اس نے کہا اصل بات یہ ہے مسلمان لڑکوں کے ہاں اچھی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان کم ہے جبکہ ہماری لڑکیاں محنت کر کے اور گھروں میں بند توجہ کے ساتھ پڑھائی میں مرکوز ہو کر کالج اور یونیورسٹی کی سطح کی ڈگریاں حاصل کر لیتی ہیں… اس کی وجہ سے ان کا نسبتاً کم تعلیم یافتہ مسلمان لڑکوں سے جن کے پاس کوئی باعزت نوکری یا کاروبار نہیں ہوتا شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے… لہٰذا وہ ہندو لڑکوںکے ساتھ چلی جاتی ہیں… میں یہ بات سن کر تھوڑی سی سوچ میں پڑ گیا تو اس طالبہ نے کہا انکل آپ نے اگلا سوال نہیں پوچھا… میں نے کہا بیٹی وہ کیا ہے… اس نے ہنستے ہوئے کہا تقریباً اتنے ہی تناسب سے ہندو لڑکیاں مسلمانوں کے ساتھ بھی بیاہ رچا لیتی ہیں… میں نے حیران ہو کر پوچھا کیا واقعی ایسا ہوتا ہے… جی بالکل آپ جایئے لوگوں سے بات کر کے دیکھئے آپ کو معلوم ہو جائے گا… میں نے کہا اس کا سبب کیا ہے… وہ بولی دووجوہ کی بنا پر ہندو لڑکیاں مسلمان شوہروں کو پسند کرتی ہیں… ایک یہ کہ مسلمان ذرا dashing (تیز آور) ہوتے ہیں … ہندو لڑکیوں کو ان کی یہ ادا پسند آ جاتی ہے… اس لئے ان کے اندر ان سے شادی کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے لیکن بڑی وجہ نچلے متوسط طبقے اور غریب ہندوگھرانے کے لئے جہیز میں Cash Money دینے کے قابل نہ ہونا ہوتی ہے… میں نے کہا بیٹی مجھے ذرا تفصیل سے بتائو کیامسلمانوں کے ہاں جہیز لینے دینے کا رواج نہیں… اس نے جواب دیا بالکل ہے… لیکن ہندو لڑکے کے والدین میں اگر وہ پڑھ لکھ کر کسی معقول روزگار پر لگ

جائے تو مہنگا جہیز لینے کے علاوہ لڑکے کی تعلیم اور ملازمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے وافر مقدار میں لازمی نقد رقم کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے… اس کے بغیر شادی نہیں ہوتی… جو لڑکا جتنی بڑی ملازمت یعنی آئی سی ایس، ڈاکٹر، انجینئر اور اسی لحاظ سے دوسرے کاموں پر فائز ہوگا اس سے شادی کے عوض لڑکی والوںسے اتنی بڑی نقدی کا مطالبہ کیا جاتا ہے… اس کے برعکس مسلمان لڑکے کو نسبتاً غریب ہندوئوں کے لئے بیٹی دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے چھوٹے موٹے جہیز کے علاوہ کوئی رقم ادا نہیں کرنا پڑتی نہ اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے… اس لئے کئی ہندو لڑکیاںمسلمانوں کے گھروں میں آباد ہیں اور بعض اسلام بھی قبول کر لیتی ہیں… میں نے چونکہ یہ بات پہلی مرتبہ سنی تھی اس لئے آپ میری خوشگوار حیرت کا اندازہ لگا سکتے ہیں… اس طالبہ کے ساتھ کئی پون گھنٹہ ملاقات رہی… میں نے دہلی کے مسلمانوں کے احوال اور ہندو اکثریت کے جبرکے حوالے سے کئی باتیں پوچھیں… جامعہ ملیّہ کے سربراہ شعبہ اردو کا ازحد شکریہ ادا کر کے ہوٹل لوٹ آیا… اگلی صبح میری آنکھ کھلی تھی کہ کمرے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجلی… دوسری جانب اسی لڑکی کے والد بول رہے تھے… کہنے لگے بٹیا نے مجھ سے کل آپ کے ساتھ ملاقات کی تفصیل بتائی ہے، کیا آپ تھوڑی دیر بعد میرے یہاں آ کر ناشتہ کرنا پسند کریں گے… میں کشاں کشاں وہاں چلا گیا… پرانی دہلی میں ایک دومنزلہ مکان جس میں حکیم صاحب رہائش پذیرتھے بیٹھک میں مطب کرتے تھے… بڑی محبت سے ملے… دیر تک تبادلہ خیال ہوتارہا… کہنے لگے دہلی میں آپ گرم مصالحوں والے لذیذ کھانے بڑی شوق سے کھاتے ہوں گے یہ ایک معجون پاس رکھئے ہاضمے میں مدد دے گی… اس کے بعد میں ان کے گھر سے آ گیا…

اب جونریندر مودی کے متعارف کردہ شہریت ترمیمی بل کے سخت ردعمل میں جامعہ ملیّہ کی بہادر اور پرعزم طالبات نے اپنے مسلمان طالب علم بھائیوں کے دفاع میں جو یادگار احتجاجی دفاع کیا ہے اور پورے بھارت کیا جنوبی ایشیا میں اس کی گونج سنائی دی جا رہی ہے تو میرے اندر آج کی اصغری و اکبری کے ساتھ اسی تاریخی جامعہ ملیّہ کے اندر جون 1991ء میں ہونے والی ملاقات کی یاد تازہ ہو گئی… اس جامعہ کے لڑکوں نے نہیں بلکہ طالبات نے بھی جس غیرمعمولی اور قابل دید مزاحمت کے ساتھ اپنی مادر علمی پر ہونے والی پولیس کی ظالمانہ یلغار کا مقابلہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں شہریت بل کے خلاف اٹھنے والی تحریک بھارت کی 22 یونیورسٹیوں تک پھیل گئی ہے… علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی اس کا بڑا مرکز بن گئی ہے… یو پی کے کئی ضلعوں کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے… اس کی یاد آئندہ کئی دہائیوں تک تازہ رہے گی… مودی سرکار کو یقین تھا شہریت ترمیمی بل کے خلاف بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں مثلاً آسام، تری پورہ وغیرہ میں احتجاجی پکار بلند ہو گی لیکن ان کی سیاسی طاقت کے اصل مرکز یعنی ہندو، ہندی ہندوستان والا بھارت جسے شمالی انڈیا کہا جاتا ہے اور یو پی ، سی پی ، دہلی وغیرہ اس کے اصل مراکز ہیں وہاں کے مسلمان دبے کے دبے رہیں گے… ان لوگوں نے بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور کشمیر جیسی مقبوضہ ریاست کو ہضم کر لینے والے اقدام کے خلاف کوئی بڑا ردعمل نہیںدکھایا… شہریت ترمیمی بل پر کتنا کچھ واویلا مچا لیں گے لیکن لاوا جو اندر ہی اندر تیزی سے پک رہا تھا وہ ترمیمی بل کی منزل پر پہنچ کر پھٹ پڑا ہے… اور اس نے اتنی بڑی اکثریت والی ہندو سرکار کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں… اب یہ صرف بھارتی مسلمانوں کی تحریک نہیںرہی کانگرس کا حامی سیکولرطبقہ جوشروع دن سے اس بل کامخالف تھا کھل کر سامنے آ گیا ہے… سکھوں نے بھی ہاں میںہاںملانی شروع کردی ہے… اور یہ آگ جو ٹھنڈی پڑنے کا نام نہیں لے رہی دوسری اقلیتوں مثلاً عیسائیوں اور بدھ مذہب ماننے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے… شمال مشرقی ریاستیں پہلے سے اس بل پر آتش فشاں بنی ہوئی ہیں… دہلی اور یو پی کے بڑے بڑے شہروں میں بھی روزانہ کے حساب سے مظاہرے ہو رہے ہیں، پولیس جگہ جگہ دھاوا بول رہی ہے، لوگ مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ الٰہ آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ پولیس نے اتنے بڑے علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے… کل سوشل میڈیا پر ایک معمر ہندو دانشور خاتون بڑے مؤثر استدلال اور زور بیان کے ساتھ امرتسر کے جلیاںوالا باغ میں ہونے والے انگریزی راج کے کارپردازوں کے ہاتھوں 13 اپریل 1919ء کو ہونے والے قتل عام کی داستان بیان کر رہی تھی اور بتا رہی تھی کہ کس طرح اس واقعہ کی اب ہونے والے مظاہروں کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے اور مودی سرکار اسی طرح مسلمانوں، ہندوئوں اور سکھوں کے مشترکہ اجتماعات پر گولیوں کی بوچھاڑ کر رہی ہے… اس فیصلہ کن موقع پر بھارتی مسلمانوں کے اندر قیادت کا بحران پایا جاتا ہے… تقسیم کے بعد جمعیت علمائے ہند ان کی نمائندگی کرنے والی بڑی سیاسی و مذہبی تنظیم تھی جس پر مسلمان عمومی طور پر اعتماد کرتے تھے… دوسرے نمبر پر امام صاحب جامعہ مسجد دہلی کی شخصیت تھی جنہوں نے اندراگاندھی کی ایمرجنسی کے دوران بھارتی مسلمانوں کوبڑا سہارا دیا… تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہند کی اصولی سیاست آ جاتی ہے… جماعت اسلامی اپنے اصولوں کا پرچم لے کر یقینا آگے بڑھی ہے… مقبوضہ کشمیر ، بابری مسجد کا متنازع فیصلہ اور شہریت ترمیمی بل تینوں بڑے مدّعوں پر اس نے جاندار مؤقف اختیار کیاہے… لیکن مسلمان عوام کے اندر اس کی قیادت کو وہ پذیرائی حاصل نہیں جو جمعیت علمائے ہند اور امام صاحب جامعہ مسجد دہلی کے پاس رہی ہے… امام صاحب تو اس موقع پر بالکل پھسڈی ثابت ہوئے ہیں… انہوں نے اپنے والد کی قائم کردہ روایات کو بھی زندہ نہیں کیا… جمعیت علمائے ہند نے کھل کر سامنے آتے بہت دیر کر دی لیکن حیدر آباد دکن کے مشہور سیاسی اور مسلمان خاندان اویسی کے چشم و چراغ اور موجودہ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی مسلمانوں کی قیادت کا پرچم لے کر بڑی جرأت و بے باکی ، زوردار استدلال اور مؤثر قوت بیان کے ساتھ آگے بڑھے ہیں… انہوں نے اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحثوں اور ٹی وی چینلوں و دیگر سیمینارز میں بی جے پی کے حامی ہندو دانشوروں کے ساتھ مذاکروں میں ان کے چھکے چھڑا کر رکھ دیئے ہیں… ان کی شخصیت اور اعلیٰ درجے کی مدلل خطابت نے مسلمان نوجوانوں اور سیکولر ہندوئوں کے اندر اعتماد کے جذبے کو پروان چڑھایا ہے… مودی کی بی جے پی جھاڑ کھنڈ ریاست کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہو چکی ہے… اگر مسلمانوں سمیت اس کے مخالف ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے تو امکان غالب ہے کشمیر کے نہتے عوام بھی پوری مزاحمتی قوت کے ساتھ ان کے ساتھ آ ملیں گے… پورا ہندوستانی معاشرہ ایسی گہری تفریق کا شکار ہو جائے گا جسے پاٹنا بہت مشکل ہو گا… اس کے اثرات بھارت کے قومی اتحاد پر بھی پڑ سکتے ہیں… اس موقع پر پاکستان کے اندر ایک صحیح معنوں میں طاقتور اور عوام کی بھرپور نمائندگی کرنے والی جمہوری حکومت ہوتی تو مسلمانان بھارت کے اعتماد میں کہیں زیادہ اضافہ ہوتا… لیکن ہم جو پاکستان بناتے وقت اس جذبے سے سرشار تھے کہ ہمارا یہ آزاد ملک بھارت کے اندر رہ جانے والے مسلمانوں کی بھی قدم قدم پر ڈھارس بندھائے گا اور انہیں ہندو اکثریت کے جبر سے محفوظ و مامون رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا… بدقسمتی سے ہم اپنے داخلی انتشار اور غیرنمائندہ قوتوں کی پس پردہ حکمرانی کی وجہ سے رسمی بیانات کے علاوہ وقت کا یہ اہم فریضہ ادا کرنے کے قابل نظر نہیں آتے…


ای پیپر