وقت کی آواز
29 دسمبر 2019 2019-12-29

ہم مسلسل چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پیسے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف والے جیبیں پھاڑ ٹیکس لگوا لگوا کر نہال ہوتے ہیں اور ڈو مور کا پہاڑہ پڑھتے جاتے ہیں۔ FATF والے اپنے فرمائشی پروگراموں کی بنیاد پر کھیلن کو چاند مانگتے رہتے ہیں۔ اہل ایمان کے گرد شکنجہ کسنے کے تقاضے لا منتہا ہیں۔ مدارس پر وضاحتیں، پابندیاں عائد کرنے کا دباؤ۔ اب کالعدم تنظیموں کے ارکان کو سزا دینے کی ضرورت لاحق ہے انہیں۔ امریکی ڈومور کے 18 سالوں میں عقوبت خانے بھرے، پولیس مقابلے ہوئے۔ ابھی پشاور ہائی کورٹ نے 74 کیسز اسی ڈو موریے انصاف کی بھینٹ چڑھنے والوں کے پردے چاک کیے تو یہ مجبوری کھلی کہ قومی مفادات کی خاطر انصاف اس حال کو جا پہنچا۔ اب یہ ہماری گردن پر سوار ہیں۔باوجودیکہ پاکستان اقلیتوں کی جنت ہے، اکثریت کو اپنی بقا، دفاع کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ پھر بھی امریکہ نے ہمیں برما، کیوبا، چین والی فہرست میں ڈال دیا اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی کے زمرے میں! بھارت کے ساتھ مل کر ہمیں دبایا گیا ہے جس پر دفتر خارجہ نے احتجاج بھی کیا ہے۔ بھارت؟ لو وہ بھی کہہ رہے ہیں یہ بے ننگ و نام ہے! کشمیر میں مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے اور کشمیریوں کو اپنے آبائی جدی پشتی خطے سے بے دخل کرنے کے عزائم پر عمل پیرا بھارت؟ پورے بھارت میں شہریت قانون کے ذریعے 25 کروڑ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے والا بھارت۔ جس پر ملک بھر کے طول و عرض میں احتجاج، ہنگاموں کی آگ لگ گئی ہے۔ اقلیتوں سے نا انصافی پر بھارت میں مودی سرکار کے اقتدار کا سورج گہنا گیا ہے۔ پانچ ریاستوں میں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب مسلمان تاجروں کو تباہ، جائیدادوں پر قبضے، پولیس کا مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر تشدد، لوٹ مار اور یہ دھمکاوے کہ: مسلمانوں کے لیے صرف دو مقامات، پاکستان یا قبرستان! اگرچہ پاکستان بے چارہ تو غیر مسلم اقلیتوں کے لیے ریشہ خطمی ہوا جاتا ہے۔ باعمل مسلمان پر زندگی تنگ کرنے، قبرستان پہنچانے ، فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا حکم ہے! ایک نظر پاکستان میں کرسمس کا اہتمام سرکاری سطح سے ملاحظہ ہو۔ مسلم آبادی 96 فیصد ہے۔ باقی 4 فیصد اقلیت میں عیسائی کل 1.6 فیصد ہیں۔ اب ذرا ملاحظہ ہو کہ ہم رواداری میں بہہ کر ملک بھر کو کرسمس کیکوں، کرسمس ٹری اور کرسمس بابے (سانتا کلاز) کی نذر کیے ہوئے ہیں؟ یہ الگ دلچسپ کہانی ہے کہ قرآن کی رو سے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش 25 دسمبر کو نہیں ہوئی۔ اس حقیقت کو ان کے بڑے خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔ کہ یہ تو قدیم رو من (کفر قبل از عیسائیت) چھٹی، ایک سیارے (Saturn) سے وابستہ شرکیہ تہوار تھا جسے عیسائیوں نے ہیلووین کی طرح قبول کر لیا تھا۔ گویا عیسائی بدعت ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی درست کہانی ’مھیمن‘ محافظ حقائق قرآن میں ہے۔ (لاریب، شک شبے سے بالا آسمانی صحیفہ جس نے پچھلے صحائف کی تحریفیں، غلطیاں درست کر کے آدم علیہ السلام تا ایں دم انسانیت مکمل درست ریکارڈ عطا کر دیا۔) حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کھجور کے درخت تلے بیت اللحم میں ہوئی۔ قدموں تلے سیدہ مریم علیھا السلام کے لیے چشمہ عطا ہوا۔ پکی کھجوروں کا موسم تھا جو سیدہ کے لیے درخت سے ٹپک پڑیں، ٹھنڈا پانی پیاس بجھانے کو موجود تھا۔ 25 دسمبر کو وہاں ٹھٹھرتی سردی میں 1 تا 13 ڈگری درجہ حرارت اور کورا جمانے والی سردی میں (بلا لحاف!) برفاب زمین پر زچگی؟ یہ کھجور پکنے کا موسم بھی نہیں۔ صرف نمونیے کا موسم ہوتا! یہ واقعہ اٰل عمران اور سورۃ مریم میں، مزید حقائق سورۃ النساء اور المائدۃ میں موجود ہیں۔ پھر اللہ کی شدت غضب جناب عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) خدا کا بیٹا قرار دینے پر سورۃ الکہف ، مریم، الشورٰی میں ملاحظہ ہو۔ ’قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا‘۔ (مریم…8)

اس کے باوجود 1.6 فیصد کے لیے سارا پاکستان جا بجا کرسمس کیک کاٹتا کھاتا رہا؟ سورج تک گہنا گیا۔ کرسمس پر برطانیہ میں ہر سال 7 ارب 30 کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے۔ امریکہ میں فائرنگ کے کرسمس پر 52 واقعات ہوئے، 26 ہلاک ۔ یہ ان کی مذہبیت ہے جس پر ہمیں برا بھلا کہہ رہے ہیں! نیو ایئر باقی ہے۔ یہ ساری بین المذاہب ہم آہنگیاں پاکستان ہی پر لاگو ہوتی ہیں؟ (کشکول بردار ہیں اس لیے!) بھارت؟ اسرائیل؟ برما؟ شام میں بشار الاسد اور روس؟ ناروے کے قرآن سوز ہم آہنگیئے کیا ہوئے؟ بس کردو بس! ہمارے حکمرانوں نے اپنی قوم کے نظریات، اقدار، دینی جذبات کا ہلواڑہ کر دیا اور دنیا بھر کے چوہدری چڑھے چلے آتے ہیں ہم پر! جاؤ!

افغانستان میں اپنی عزت سنبھالو، بچاؤ۔ یہ دورہ پاکستان کے مسلمانوں کو جس دن پڑ گیا، امریکہ اور بھارت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے!

دنیا ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ کشمیر پر بھارت کو کھلی چھٹی ہے۔ 145 روزہ کرفیو، خوف و ہراس کی حکمرانی زندگی مفلوج ہے۔ دنیا اکا دکا بیانوں کا احسان کر دیتی ہے تو ہم شہ سرخیاں لگا کر خوش ہو رہتے ہیں۔ کشمیر بدستور جبر تلے پس رہا ہے۔ چین میں ایغور مسلمانوں کی دبی گھٹی آہیں کراہیں، خود پاکستان بھی سننا افورڈ نہیں کر سکتا۔ مشرق وسطیٰ کے بڑوں نے بھی چین کو تائیدی تھپکی دے دی۔ مہاتیر اور اردگان نے آواز اٹھائی تو مظلوموں کے سوکھے دھانوںپر کچھ چھینٹے پڑ گئے۔ فلسطین دائماً اسرائیلی جنگی طیاروں، ٹینکوں، بلڈوزوں، برھتی پھیلتی قابض یہودی آباد کاریوں کے نرغے میں رہتا ہے۔ ایک دن ذرا فلسطینی احوال کی وڈیوز دیکھ لیں، لقمہ حلق میں اٹکے گا سانس گھٹ کر رہ جائے گی۔ ننھے معصوم پھول سے بچے، سکول پر بمباری، خون اور آنسوؤں کی بہتی ندیاں۔ سٹریچر پر پڑے ہسپتالوں میں قطار اندر قطار زخمی، ٹوٹے کھنڈر گھر، خوراک کی ناکہ بندی۔ 21 ویں صدی کی چکا چوند میں یہ سب سے بڑی انسانی جیل ۔ ہلاکو اور چنگیز کے مظالم بھلا دینے کو روہنگیا، فلسطین، شام کافی ہیں۔ یہ اعلیٰ ترین تعلیم سے آراستہ، بڑے بڑے تھنک ٹینکی دانشوروں، عالمی انصاف کی عدالت، انسانی حقوق کے علمبردار اداروں اور عالمی سلامتی کے نگہبانوں کی ناک نیچے سب ظلم روا ہے کیونکہ یہ ڈھایا جا رہا ہے ہر جگہ مسلمانوں پر۔ حتیٰ کہ خود مسلم ممالک میں اس عالمی فرعونی دجالی لابی کے آلۂ کار موجود ہیں جو مسلمانوں کی حالت زار سے نظریں چرائے تھرک تھرک کر ناچ گا کر لال لال لہرانے کی مزید سر فروشانہ تمناؤں کا اظہاریہ بنے بیٹھے ہیں۔ پورا شام کھنڈر میں بدل گیا۔ 20 لاکھ فلسطینی آبادی کا غزہ، 30 لاکھ شامی مسلمانوں کا ادلب ایک سے شب و روز کا حامل ہے۔ بمباریاں، سکولوں،ہسپتالوں پر پوری ڈھٹائی بے حیائی سے۔وہی سرخ و سفید گلاب بچے، اپنے خون میں نہائے سرخ تر ہو چکے۔ شام میں مسلسل ہوتی ہجرتوں کی آزمائش مزید ہے۔ خاندان، عورتیں بچے قیامت کی سردی، کھلے میدانوں، برستے بیرل بموں تلے رُل گئے۔ صرف ایک ماہ میں مزید 60 ہزار اجاڑ لے گئے۔ شامی، اندھے بہرے گونگے عالمی ضمیر کو چلا کر کہتا ہے: ’خدارا ہم زندہ دفن کیے جا رہے ہیں‘۔ چین روس کے ویٹو نے خون مسلم بہائے چلے جانے کو مزید کھلی چھٹی دے دی۔ کیفیت یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر راکٹ اور گولیاں برسا رہے ہیں۔ لوگ گاڑی دیکھ کر بچے اجنبیوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ’لے جاؤ انہیں کہیں چھپالو بچالو!‘ شہریوں اور گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری بے حس منہ موڑے بیٹھی ہے۔ بے کسی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق، بے دلی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں! ستم تو یہ ہے کہ یہ شام میں قیام جمہوریت اور حصول امن کی کوششیں کہلاتی ہیں۔ بیرل بموں اور گولیوں سے امن بویا جا رہا ہے۔ خون آشام جمہوریت لاگو ہو رہی ہے۔ افغانستان میں بھی یہی ہوا۔ شریعت سے بچانے کو جو کچھ 18 سال ہوا، کھربوں ڈالر اور خون کی آبشاریں بہا کر ، اس کا کچا چٹھا’افغانستان پیپرز‘ میں ہے۔ ایسے ہی ’شام پیپرز‘ ہونگے کل کلاں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد پر بالآخر ’اسرائیل پیپرز‘ بھی کھلیں گے۔ بس چھوڑدو، ان کافروں کو اک ذرا کی ذرا ان کے حال پر چھوڑ دو‘۔ (الطارق۔17 ) ہم اللہ کی چال کے منتظر ہیں۔ امریکہ کے 18 سال افغانستان میں! اب لگتا ہے پلک جھپکتے میں گزر گئے۔ بش کہاں ہے؟ ہمارے ہاں کا مشرف کس حال میں ہے؟ باجوڑ مدرسے کے شہداء اور افغانستان میں اسلام پر جانیں نچھاور کرنے والے اور بے مثال عزیمت کے کوہ گراں ملا عمرؒ کہاں ہیں؟ یہ سب کہانیاں اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گی۔ ہمیں دیکھنا ہے ہمارے قدموں تلے صراطِ مستقیم ہے؟ انعام یافتگان کی راہ، سورۃ المجادلۃ کی حزب اللہ کی راہ۔ خدانخواستہ حزب الشیطان، حزب الدجال تو نہیں… دنیا کی کج راہوں سے ہوتی عذاب السعیر میں جاپڑنے والی؟

عروج پر ہے مرا دردان دنوں ناصر

مری غزل میں دھڑکتی ہے وقت کی آواز


ای پیپر