جنرل مشرف کے بارے میں خصوصی عدالت کا فیصلہ
29 دسمبر 2019 2019-12-29

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم پاکستان میں تاریخ بنتے دیکھ رہے ہیں-پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی فوجی آمر کے جی میں آیا اس نی بلا کسی خوف کے آئین کو ختم کردیا یا معطل کردیا –

جنرل ضیالحق نے تو کہا تھا کہ یہ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے میں جب چاہوں اسے پھاڑ سکتا ہوں-پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی مارشل لاء کے خلاف عدالت میں گئے تو اعلیٰ عدالت نے مارشل لا کے حق میں فیصلہ دیا۔ پاکستان میں عدلیہ اور غیر جمہوری قوتوں کے گٹھ جوڑ کی تاریخ بہت پرانی ہے- سب سے پہلے جسٹس منیر نے تمیزالدین کیس میں پاکستان میں پہلی بار نظریہ ضرورت متعارف کروایااور یہ سلسلہ جنرل مشرف کے مارشل لا تک جاری رہا-اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ساری عدلیہ نے ہمیشہ جرنیلوں کا ساتھ دیا-

ہمیں عدلیہ میں بہت سارے ایسے جج ملتے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی دھمکیوں اور لالچ کے باوجود غیر جمہوری اور طاغوتی طاقتوں کی خلاف کھڑے ہو گئے –ہم نے دیکھا کہ سب سے پہلے فوجی حکمرانوں نے عدلیہ پر حملہ کیا ۔ججوں سے نیا حلف لیا اورغیر آ ئینی حلف نہ لینے والے ججوں کو عدلیہ سے نکال دیا۔ ایسی صورت حال بھی بنی کہ ججوں کو گرفتار یا گھر میں نظر بند کردیا۔

عاصمہ جیلانی کیس میں گو فیلڈ مارشل ایوب اور جنرل یحییٰ کو غاصب قرار دیا مگر ان کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد۔ جنرل مشرف سب سے نرالا فوجی حکمران تھا۔ اس نے نواز شریف کی آئینی حکومت کو برطرف کیا بلکہ جب اس وقت کے چیف جسٹس نے

اس کا ساتھ دینے سے انکار کیا تو اسے نظر بند کردیا-

بہرحال یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بعد میں سپریم کورٹ نے جنرل مشرف حکومت کو جائز قرار دے دیا-اس طرح مشرف اورعدلیہ میں معاملات ٹھیک سمت میں چل رہے تھَے مگر پھر فوجی آمر کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ اس نے چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کواپنے آفس بلا کر استعفیٰ مانگ لیا۔ جس سے چیف جسٹس چوہدری نے انکار کر دیا۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ پاکستان کے چیف جسٹس کو ایک تھانیدار سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے۔ یہاں سے پاکستان کی تاریخ اور عدلیہ کا نیا اور روشن باب شروع ہوتا ہے۔

یہ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے عمل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر چیف جسٹس چوہدری افتخار محمد کو بحال کروایا۔

پھرجنرل مشرف نے پھر ملک میں ایک آئین معطل کرکے ملک میں ایمرجنسی لگا دی۔ نیا حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو گرفتار کرلیا-چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جگہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس بنا دیا-وکلا کی تاریخی جدوجہد کے نتیجہ میں جنرل مشرف کو وردی اتارنی پڑی- پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔ پھر افتخار محمد چوہدری اور دوسرے جج صاحبان بحال ہو گئے۔

افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کو بلایا مگر وہ ملک سے باہر چلا گیا- جب جنرل پرویز مشرف نواز شریف کے زمانے میں واپس آیا تو اس کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کی تحت غداری کا مقدمہ دائر ہو گیا- پھر وہ جیل پہنچنے کی بجائے سی ایم ایچ پہنچ گیا اور پھر ملک سے باہر چلا گیا- مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے ایک خصوصی عدالت قائم کردی گئی جس نے مشرف کو پیش ہو کر اپنے دفاع کے لئے کئی بار بلایا۔ ایک موقعہ پر چیف جسٹس آف پاکستان نے جنرل مشرف کو کہا کہ وہ بیان ریکارڈ کروائیں اسے کوئی گرفتار نہیں کرے گا۔ قصہ مختصر جنرل مشرف اپنے دفاع کے لئے پاکستان نہیں آیا اور آخر کار عدالت نے اسے مفرورقرار دے کر مقدمہ اس کی غیر حاضری میں چلانے کا فیصلہ کیا-

جب خصوصی عدالت کے تین میں سے دو ججوں نے مشرف کو پھانسی کی سزا دی تو فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ نے اس پر تبصرہ کیا کہ اس فیصلہ سے فوج میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے- جب اس کا تفصیلی فیصلہ آیا اور جسٹس سیٹھ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے انہوں نے جنرل مشرف کی لاش کو ڈی چوک اسلام آباد میں لٹکانے کا لکھا تو جنرل مشرف کے حامیوں کو اس پر مزید تنقید کا موقعہ مل گیا- میں یہاں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اصولی طور پر پھانسی کی سزا کے خلاف ہوں مگر خصوصی عدالت کی فیصلہ کی مکمل حمایت کرتا ہوں کیونکہ ملک میں پہلی بار کسی عدالت نے ملک کا آئین توڑنے والے کو سزا تو دی ہے- جنرل مشرف کے چاہنے والے جس میں عمران خان کی موجودہ حکومت اور عسکری ادارے بھی شامل ہیں کو چاہئے کہ سر عام اپنے غم و غصہ کا اظہار اور توہین عدالت کرنے کی بجائے خصوصی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کریں- آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کے بارے میں مختصراً یہ عرض ہے کہ سپریم کورٹ نے سرکار کے ساتھ نرمی برتی ہے اور اسے چھ ماہ میں قانون بنانے کے لے مہلت دے دی ہے۔ورنہ وہ اس توسیع کو رد بھی کر سکتی تھی۔بہرصورت اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے پاس اپیل کی صورت میں چلا گیا ہے۔ نئے چیف جسٹس صاحب اس کے لیے کتنا بڑابنچ تشکیل دیتے ہیں اور آیا سماعت کھلی عدالت میں ہو گی یا بند کمرے میں یہ دیکھنا باقی ہے۔


ای پیپر