باتیں مشتاق یوسفی کی…
29 دسمبر 2019 2019-12-29

دوستو،مزاح کے کسی بھی معیار پر جب ہم مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مشتاق احمد یوسفی مزاح کی معراج پر ہیں۔جو تحریریں مزاح کے اس معیار پر پورا نہیں اترتیں وہ پھکڑ پن ، لطیفوں ، پھبتیوں اور فقرہ بازیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان میں طنز ، تحقیر ، تضحیک ، رکیک وغیرہ تو ہوتا ہے ، مزاح پیدا نہیں ہو سکتا۔ یوسفی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں۔۔’’اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہنسنا اور کھانا آتا ہے۔ اسی وجہ سے پچھلے سو برس سے یہ فن ترقی نہ کر سکا‘‘۔۔۔دراصل مزاح وہی ہے جو قہقہوں یا مسکراہٹ کے پس ِ پردہ ہو۔ یوسفی صاحب طنز کو شامل کر کے مضمون کو خشکی اور کڑواہٹ سے دور رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:’’ اگر طعن و تشنیع سے مسئلے حل ہو جاتے تو بارود ایجاد نہ ہوتی‘‘۔

آج دنیائے مزاح کے لیجنڈ مشتاق یوسفی کے بارے میں کچھ ہلکی پھلکی باتیں ہوجائیں۔۔ آب گْم‘‘ میں شامل مضمون ’’اسکول ماسٹر کا خواب‘‘ایسا ہی طنزیہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سماج کی ان سچائیوں کو مختلف کر د ا ر و ں کے ذریعے بے نقاب کیا ۔ وہ مکالماتی انداز میں لکھتے ہیں۔۔’’ماسٹر نجم الدین برسوں سے چتھڑے لٹکائے ظالم سماج کو کوستے پھرتے ہیں۔ انہوں نے ساڑھے چارسو ر و پے کھلائے،جب جاکے بھانجے کے میٹرک کے نمبر بڑ ھے۔ اور رحیم بخش کو چوان سے مسکین کون ہوگا؟ ظلم ظالم اور مظلوم دونوں کو خراب کرتا ہے۔ ظلم کا پہیہ جب اپنا چکر پورا کر لیتاہے اورمظلوم کی باری آتی ہے تو وہ بھی وہی کچھ کر تا ہے جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اژدھا سالم نگلتا ہے۔ شارک دانتوں سے خون کر کے کھاتی ہے۔ شیر ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اچھی طرح چبا چبا کر کھاتاہے۔ بلی چھپکلی ، مکڑی اور مچھر حسبِ مقدور خون کی چسکی لگاتے ہیں۔بھائی میرے بخشتا کوئی نہیں۔ وہ یہا ں تک پہنچے تھے کہ معاً انہیں انکم ٹیکس کے ڈبل بہی کھاتے یاد آگئے۔ اور وہ بے ساختہ مسکرادیے۔ بھائی میرے بخشتا کوئی نہیں سب ایک دوسرے کے رزق ہیں۔ بڑے جتن سے ایک دوسرے کو چیرتے پھاڑتے ہیں،‘‘۔۔

مشتاق احمد یوسفی کا ایک ایک جملہ آج کل کے مزاح نگاروں کی کئی کئی لائنوں پر بھاری نظر آتا ہے۔۔ لیجنڈ مزاح نگار کے کچھ ون لائنرز آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔۔ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔۔۔ لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے۔۔۔ جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا۔۔۔ دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار۔۔۔ مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔۔۔ محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے۔۔۔ بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔۔۔ آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔۔۔ مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے۔۔۔ سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں۔۔۔ مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے۔

لیجنڈ مزاح نگار کی کچھ مزاحیہ لائنیں بے حد یادگار ہیں جیساکہ۔۔ فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔۔۔ سود اور سرطان کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔۔۔ بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے۔۔۔ ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا۔۔۔ اپنے ہم عمر بڈھوں سے محض ہاتھ ملانے سے آدمی کی زندگی ہر مصافحے کے بعد ایک سال گھٹ جاتی ہے۔۔۔ آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا۔۔۔ گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔۔۔ ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے۔۔۔ ہم نے باون گز گہرے ایسے اندھے کنویں دیکھے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خود کو اوندھا دیں یعنی سر کے بل الٹے کھڑے ہوجائیں تو باون گز کے مینار بن جائیں گے۔۔۔ جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی۔۔۔ انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔

ان کی تحریر کردہ کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے ایسے جملے پڑھنے کو ملیں گے کہ آپ داد دیئے بغیر رہ نہیں سکیں گے۔۔ مشتاق یوسفی کا کہنا ہے۔۔ جب آدمی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی نال کہاں گڑی ہے اور پرکھوں کی ہڈیاں کہاں دفن ہیں تو وہ منی پلانٹ کی طرح ہوجاتا ہے جو مٹی کے بغیر صرف بوتلوں میں پھلتا پھولتا ہے۔۔۔ یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے۔۔۔ مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی۔۔۔ آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں۔۔۔ قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ قدرت نے انسان کو اگر اچھی عقل و شکل عطا کی ہے تو انسان کو اس کے اندررہنا چاہیے اگر وہ اس دائرے سے باہر نکلے گا تو ہر محفل و سوسائٹی سے باہر نکل جائے گا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر